Ourat Zaat By Zubair Sahib

      No Comments on Ourat Zaat By Zubair Sahib
Ourat Zaat By Zubair Sahib

عورت ذات

تحریر: زبیر صاحب

بہت دنوں کے بعد اس نے کھڑکی کھولی تو اس بات پر حیران رہی کہ سامنے والے گھر میں شادی کے ڈھول بج رہے تھے۔ وہ جلدی سے ماں کے پاس گئ جو خود گہری سوچ میں تھی۔ ماں سے پوچھنے پراسے پتا چلا کہ آج اس کے پڑوسی احمد کے شادی ہے۔ یہ احمد وہی تھا جس نے کچھ دن پہلے کرن کو روک کر اس سے موبائل نمبر مانگا تھا اور کرن نے اسکی بےعزتی کر دی تھی۔

Ourat Zaat By Zubair Sahib

اور جب اس بات کا علم محلے کے لوگو کو ہوا تھا تو انھوں نے سارا الزام کرن پرلگا دیا تھا۔ وہ بےچاری عورت ذات ہونے کی وجہ سے کچھ کہنے سے پہلے ہی گھر والوں کی ڈانٹ ڈپٹ کھا کرایک کمرے میں بند ہو گئی تھی۔ محلے کے لڑکے اورلڑکیاں نہ جانے کیوں اسکے خلاف باتیں کر رہے تھے اورتو اورکرن کے چچا نے اس بات کو غیرت سمجھ کر اپنے بیٹے کی منگنی توڑ دی یہ منگنی کرن کے دادا ابا نے بچپن میں طے کی تھی۔

ماں ابھی بھی سوچوں میں گم تھی۔ کرن نے بڑی بہادری کے ساتھ ماں سے پوچھا کہ اسکی شادی کیسے ہو گئی اور میرا کوئی قصور نہیں تھا تو بھی مجھے اتنی بڑی سزا دی جا رہی ہے۔ میں نے تو صرف اسکی بےعزتی کی تھی تاکہ وہ کسی بھی لڑکی کی طرف گندی آنکھ سے نا دیکھے۔ سارا محلہ جانتا ہے کہ وہ ہر لڑکی کو تنگ کرتا ہے مگر آج اسکی شادی ہے اورماں میں نے آج تک ایسا کچھ سوچا بھی نہیں تھا پھر مجھے کیوں اتنی سزا مل رہی ہے۔

Ourat Zaat By Zubair Sahib

ماں جو ابھی تک سوچوں میں گم تھی۔ اس نے کرن کی طرف دیکھا اوردھیمی آواز میں کہا کہ تم عورت ذات ہوتم میں اور ہم سب اس ذات والیا اسی قابل ہیں۔ نیم بیگی ہوئی آنکھوں سے بہت کچھ کہنا چاہتے ہوئے بھی صرف اتنا ہی کہہ سکی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *