Best Urdu poetry Group Ke Zair-E-Ehtimaam Online Trh‬i Aalmi Sooti Mushaaira

وہ اکیلا ہر کسی کا ہوگیا

بیسٹ اردو پوئٹری گروپ کے  زیر اہتمام آن لائن  طرحی عالمی صوتی مشاعرہ

رپورٹ: سالکؔ جونپوری
دورِ حاضر کے تیزرفتار دور میں شعراء کی مصروفیات کو مدنظر رکھتے ہوئے جناب توصیف ترنل صاحب نے واٹس اپ  ایپ پر ایک ادبی گروپ کی بنیاد رکھی آج کے اس دور میں کے جب ہر شخص وقت کی قلت پر نالاں ہے یہ نظم ان کے ذوق و شوق کو مزید پروان چڑھانے کا ذریعہ ہے اور اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کو نکھارنے سنوارنے کا بہترین و نایاب موقع ہے گروپ میں مختلف ادبی سلسلوں کا آغاز کیا جاتا ہے۔

اور یہ سلسلہ جناب توصیف صاحب کی لازوال محنت اور ادب سے لگن کی بدولت اور معزز شعراء کی وجہ سے رواں دواں ہے۔ اور آج ہمارے ہمراہ دنيا بھر سے شعراء اس نظم میں اپنی کاوشوں کے ہمراہ وائس رکارڈنگ کے ذریعے آن لائن شرکت فرماتے ہیں اور مشاعرے کی رونق بڑھاتے ہیں مشاعرے کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔

بروز جمعرات 19‌ جنوری2017  کو طرحی مشاعرے کا نظم رکھا گیا جس کی صدارت کویت کے استاد شاعر جناب فیاض وردگ صاحب نے کی اور نظامت کے فرائض جناب مختار تلہیری صاحب سرانجام دئيے۔ مشاعرے کی مہمان خصوصی محترمہ ریحانہ روحی صاحبہ تھیں اور مہمان اعزازی آفتاب ترابی صاحب اور  ریاض شاہد صاحب تھے۔

وقت تین گھنٹے طے کیا گیا تھا مگر احباب کے ذوق کا یہ عالم رہا کے مشاعرہ طویل ہو گیا پوری دنیا سے  شعراء حضرات اس ادبی گروپ کا حصہ بنے ہیں تمام شعراء باغ بزم کی رونق ہیں مثل پھول سب کا اپنا الگ رنگ اور خوشبو ان میں موجود ہے سب ہی شعراء چمن کی زینت ہیں۔ قابلِ احترام شعراء نے اس مشاعرے میں شرکت کی اوراس مشاعرے کو کامیاب بنایا مشاعرے کا آغاز محترم جناب مختار تلہری صاحب حمدیہ اشعار سے ہوا۔MukhtarTalhri

ذات اطہرہےتری ارفع و اعلی’ تو ہے
میرا خالق مرا مالک مرا مولا   تو ہے

ناز مختار کو رحمت پہ تری ہےیارب
تو ہی ستار ہے اور بخشنے والا توہے
مختار تلہری

سبحان اللہ خوب اشعار عطا کئیے مختار صاحب نے ان کے بعد جناب شوزیب کاشر صاحب کی نعت شریف پیش کی گئی
نعتِ رسولِ مقبولﷺ

پوشاکِ عمل ، جامۂ کردار پہن لوں
سر تا بقدم اسوہٴ سرکار پہن لوں

ایماں کے لیے حسنِ عمل بھی ہے ضروری
یہ کیا کہ فقط جبہ و دستار پہن لوں
شوزیب کاشر

whatsapp-image-2017-01-18-at-2-33-15-pm

یوں محفل کی ابتدا مبارک کلام سے ہوئی۔ مصرع طرح جناب صدر مختار تلہیری صاحب نے عطا کیا

وہ اکیلا ہر کسی کا ہو گیا

احباب نے اس مصرع پہ طبع آزمائی کی۔ اور باقاعدہ طرحی مشاعرے کا آغاز صاحبِ خانہ جناب توصیف ترنل صاحب کے اشعار سے ہوا جنہوں نے مسحور کن اندر میں ترنم سے اشعار پیش کئیے اس میں سے یہ اشعار کہ

کوئی رستہ کوئی منزل اب نہیںوہ اکیلا ہر کسی کا ہوگیا
اسقدر اجڑا کے صحرا ہو گیا

مطلبی نکلے گا کیا معلوم تها
پیار میں مجھ کو بهی دهوکہ هو گیا
توصیف ترنل

اک ترے جانے سے یہ کیا ہو گیا
یہ بھرا گلشن ہی صحرا ہو گیا

انکساری سے دلوں کو جیت کر
وہ اکیلا ہر کسی کا ہو گیاڈ

ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی

siraj ghilati

پوچھ مت کچھ، غم سے کیسا ہوگیا
ٹوٹ کر میں ریزہ ریزہ ہو  گیاaslam banarsi

رو رہا ہے دل وجودِ  ذات پر
سوچ کر، اک شب میں کیا کیا ہو گیا
اسلم بنارسی

مشہور کن فضاؤں میں پروگرام کو آگے کی ترف بڑھایا گیا۔ اور محترمہ اروی سجل صاحبہ کو دعوت کلام پیش کیا گیا اور انہوں نے خوبصورت مطلع سے نوازا اشعار کچھ یوں

جس نے دیکھا وہ اسی کا ہو گیا
ہائے  سب  کا  دل  زلیخا  ہو گیا

عشق  اس  سے  بے ارادہ  ہو گیا
محوِ حیرت  ہوں  تماشہ  ہو گیا
اروی سجل صاحبہ (چکوال، پاکستان)

محترمہ کے بعد جناب عطاء اللہ عاجز صاحب نے اشعار پیش کئیے
وہ اکیلا ہر کسی کا ہو گیا
خواب تھا تعبیر ویسا ہو گیا

خاک پر خرشید کی یہ روشنی
جب پڑی وہ طور جیسا ہوگیا
عطاء عاجز

عاجز صاحب کے بعد جناب صابر فرید صابری صاحب نے اپنے خوبصورت اشعار سے نوازا
جام چھلکا اور  دریا ہوگیا
وہ اکیلا ہر کسی کا ہو گیا

مل گئیں مجھکو تری رسوائیاں
اب  تعلق  اور  گہرا  ہو گیا
صابر فرید صابری (کراچی پاکستان)

ان کے اشعار پر مختار صاحب نے داد و تحسین سے نوازا اور پھر ثمریاب ثمر صاحب کو دعوت دی
پھر وہ بڑھ کر موجِ دریا ہو گیا
میں سمٹ کر پھر کنارا  ہو گیا

ناگہانی یہ ستم مجھ پر ہوا
جو  تھا  اپنا  وہ  پرایا  ہو گیا
ثمریاب ثمر(سہانپور، انڈیا)

ان کے بعد جناب مہتاب بشیر صاحب نے کلام پیش کیا

Bashir Mehtaab

ہر طرف بس یہ ہی چہرا ہو گیا
وہ  اکیلا  ہر  کسی  کا  ہوگیا

جب حقیقت سامنے آئی تو پھر
لال پیلا اس کا چہرا ہو گیا
بشیر مہتاب (جموں و کشمیر، انڈیا)

اک نگاہ زاویہ کا تیز وار
دل کے اندر کچھ ہنگامہ ہو گیا
عطاء شاہکار (لاہور پاکستان)

دل کا رشتہ اس سے میرا ہو گیا
اس سے پھر خوشیوں کا میلہ ہو گیا

اک نظر اس نے جو ڈالی پیار کی
عشق کا روگی بھی اچھا ہو گیا
احمد مصعود قریشی (ملتان، پاکستان)

ان کے بعد عبدالرزاق ایزد  صاحب نے اپنا کلام پیش کیا
بھیڑ میں یاروں کی تنہا ہو گیا
جب پڑی مشکل تو یہ کیا ہو گیا

اس نے پھر ترک تعلق کر لیا
دوستوں میں پھر اکیلا ہو گیا
عبدالرزاق ایزد

whatsapp-image-2d017-01-18-at-2-33-10-pm

آنکھ خود خوابوں کی منکر ہو گئی
عشق  کا  فرمان  جھوٹا  ہو گیا

پیار میں اے دوست کچھ آگے کی کر
قیس    کا     قصہ    پرانا   ہو گیا
آل عمر صاحب

ان حضرات کے بعد ناظم صاحب نے اپنے خوب  اشعار پیش کئیے
سوچ کے جنگل سے نکلوں کس لیے
سوچنا  اک  مشغلہ  سا  ہو گیا

کوششیں مختار کرنا ہے فضول
فیصلہ جو بھی تھا ہونا ہو گیا
مختار تلہیری (انڈیا)

ان کے اشعار پر بہت داد و تحسین سے نوازا گیا اور ناظم صاحب کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے خاص توجہ دی اپنی مشاعرے کو اور خوبصورت مصرع عنایت کیاطبع آزمائی کے لیے۔ ان کے بعد چنیوٹ پاکستان سے عتیق العالم گرواہ نے کلام پیش کیاwhatsapp-image-2017-01-18-at-2-33-05-pm
دور جب سے وہ شناسا ہو گیا
درد دل میں بھی اضافہ ہو گیا

سر کے بل چلتے ہوئے آئے عتیق
بزم میں پہنچے تو وقفہ ہو گیا
عتیق العالم گرواہ

ان کے بعد ظہور ضیائی صاحب کو دعوت کلام پیش کچھ یوں کیا

اس کا میرا دل سے رشتہ ہو گیا
پھر مرے دل کا وہ ٹکڑا ہو گیا

جس کو پانے کے لیے ہم کھو گئے
آخرش  وہ  بھی  ہمارا  ہو گیا
ظہور ضیائی (مظفرآباد پاکستان)

ان کے بعد محترمہ ڈاکٹرحنا امبرین صاحبہ نے اشعار پیش کئیے

hian

دل مرا بھی جیسا تیرا ہو گیا
راحتوں کا سلسلہ سا ہو گیا

اب یہاں بکنے لگا ہر خواب ہے
میری آنکھوں کا بھی سودا ہوگیا
ڈاکٹر حنا امبرین

محترمہ کے بعد جناب جعفر صاحب نے اپنا کلام کچھ یوں پیش کیا
رابطہ جب ان سے میرا ہوگیا
پھر تو دشمن یہ زمانہ ہو گیا

جل رہا ہے دھوپ میں چھاؤں لیے
وہ اکیلا ہر کسی کا ہوگیا

خوبصورت گرہ سے نوازا جعفر صاحب نے ان کے بعد عثمان لیاقت صاحب کو بلایا گیا جنہوں نے اپنے اشعار کچھ اس طرح پیش کئیے
ساتھ رہ کر کیا سنہرا ہوگیا
میں تو بلکل آپ جیسا ہوگیا

آپ تھے تو روشنی تھی چار سو
آپ اٹھے اور اندھیرا ہوگیا
عثمان لیاقت طاہر (آزاد، کشمیر)

ان کے بعد جموں کشمیر کے ایک نوجوان شاعر سائل عمران کو دعوت ملی ان کے اشعارwhatsapp-image-2017-01-18-at-2-33-12-pm

اب یہاں دشوار جینا ہوگیا
جان کا قاتل مسیحا ہو گیا

ایک ہی تھا شخص سچا شہر میں
اب ضمیر اس کا بھی میلا ہوگیا
سائل عمران (جموں کشمیر، انڈیا)

جناب شفاعت فہیم صاحب نے مزاح کے رنگ میں اشعار کہے
اب بھلا کیسے کرے گا شاعری
عشق میں غالب نکما ہوگیا

کتنی مشکل سے کہا تھا ایک
لوگ بولے یہ تو چربہ ہوگیا
شفاعت فہیم (امروہہ، انڈیا)

Shafat Fahim

انڈیا کے ایک اور شاعر کو بلایا گیا جنکا کلام
جب سے ان کا آنا جانا ہو گیا
ذہن بھی کچھ دل کے جیسا ہو گیا

سوزش دل  جب سے احسن بڑھ گئی
خوں کا ہر قطرہ شرارا ہو گیا

ان کے بعد جو شاعر بزم میں بلائے گئے ان کے اشعار

غیر کا جو دل میں ڈیرا ہو گیا
دل میں پھر غم کا بسیرا ہو گیا

اب تو سالکؔ کیا بتائے دل کا حال
ایک دریا تھا جو صحرا ہوگیا
سالکؔ جونپوری

whatsapp-image-2017-01-18-at-2-33-19-pm

سالک کے بعد مہمان اعزازی کو دعوت دی گئی

جب تلک تھا آنکھ  میں قطرہ رہا
آنکھ سے چھلکا تو دریا ہو گیا

آج کل کا عشق اف توبہ مری
خاندان قیس رسوا ہو گیا
آفتاب ترابی (جدہ)

ان کے بعد جدید لب و لہجے کی مالک محترمہ ریحانہ روحی صاحبہ نے اپنا کلام پیش کچھ یوں کیا

دور مجھسے جب وہ چہرا ہو گیا
ساری دنیا میں  اندھیرا ہو گیا

روحی جیسا دوست کھو دینے کے بعد
آپ    کا   صاحب   خسارا  ہو گیا
ریحانہ روحی (یو کے)

روحی صاحبہ کے بعد آخر میں صدر مشاعرہ جناب فیاض وردگ صاحب نے اپنا استادانہ کلام کچھ یوں  پیش کیا

جو نصیبوں میں لکھا تھا ہو گیا
میں اکیلا ہر کسی کا ہو گیا

رہزنی فطرت میں ایسی بس گئی
آج  کا  رہبر  تماشا  ہو گیا

جو فقیری میں امیری کر گیا
وہ زمانے بھر کا داتا ہو گیا
فیاض وردگ (کویت)

whatsapp-image-2017-01-18-at-2-33-14-pm

مشاعرے میں شامل تمام احباب کا ہم تہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ جنہوں نے اپنی اپنی مصروفیات میں سے خاص ادبی مشاعرے کے لیے وقت نکالا اور اس طرحی مشاعرے کو کامیاب بنایا توصیف ترنل صاحب کا خصوصی شکریہ جنہوں نے اس خوبصورت بزم کی بنیاد رکھی۔ اورناظم مشاعرہ کا شکریہ جنہوں نے ہمہ تن گوش ہو کرمشاعرہ سنا اوراحباب کی لمحہ بہ لمحہ پزیرائی فرمائی۔

محفل کے صدر مشاعرہ فیاض وردگ صاحب کا اوردیگر تمام شعراء کا شکریہ سلامت رہیں شادوآباد رہیں اورادب کے لیے یوں ہی کوشاں رہیں۔

شامل مشاعرہ احباب کے نام سلسلہ وار پیش ہیں

توصیف ترنل (ہانگ کانگ)

شوزیب کاشر (راولاکوٹ پونچھ آزاد کشمیر، پاکستان)

ڈاکٹر سراج گلاؤٹھوی (انڈیا)

اسلم بنارسی (انڈیا)

اروی سجل (چکوال، پاکستان)

عطاء عاجز(نوشکی بلوچستان، پاکستان)

صابر فرید صابری (کراچی، پاکستان)

ثمریاب ثمر(سہارنپور، انڈیا)

بشیر مہتاب (جموں کشمیر، انڈیا)

عطاء شاہکار (لاہورِ، پاکستان)

احمد مصعود قریشی (ملتان، پاکستان)

عبدالرزاق ایزد (لاہور، پاکستان)

جناب آل عمر(جام پور)

محترم مختار تلیہری (انڈیا)

عتیق العالم (چنیوٹ، پاکستان)

ظہور ضیائی (مظفرآباد، پاکستان)

ڈاکٹر حنا امبرین طارق (ریاض)

جعفر بڈھانوی (جدہ)

عثمان لیاقت طاہر (آزاد کشیر)

سائل عمران (جموں کشمیر، انڈیا)Aftab Turabi

شفاعت فہیم (امروہہ، انڈیا)

احسن لکھنوی (انڈیا)

سالکؔ جونپوری(کراچی، پاکستان)

آفتاب ترابی (جدہ)

محترمہ ریحانہ روحی (یو کے)

محترم جناب فیاض (کویت)

بزم کی انتظامیہ تہہ دل سے تمام شامل مشاعرہ حضرات کی ممنون و مشکورہے۔ شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *