ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئٹری بہ عنوان لائیو ویڈیو مشاعرہ

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئٹری بہ عنوان لائیو ویڈیو مشاعرہ

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئٹری بہ عنوان لائیو ویڈیو مشاعرہ

رپوٹ: نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی

منفرد ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئٹری دورِ حاضر میں دنیا کا واحد ادارہ ہے جو اِس برقی ترقی یافتہ دَور میں شعراء, ادباء و مُصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسّانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے۔ بِلا تشبیہہ و تمثیل “منفرد مع کامیاب پروگرامز” ادارے کی اہم خصوصیت اور شناخت بن چکے ہے۔ کامیابی کے اس منفرد سفر کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ادارے کی جانب سے 07 اکتوبربروز سنیچرشام 7 بجے 120واں بالکل منفرد پروگرام بہ عنوان لائیو ویڈیو مشاعرہ منعقد کیا گیا ۔ جس میں شامل معزّز شعرائے اکرام نے اپنی ایک عمدہ غزل کو ادارے کے فیس بُک اور واٹس ایپ گروپ پر لائیو پیش کیا۔ ھٰذا لائیو آن لائن مشاعرہ نے ادب کی دنیا میں جدّت پسندی کی ایک عمدہ مثال پیش کی ہے۔

mukhtar

پروگرام کے آرگنائزر ادارے کے بانی و چئیرمن,] دِل آویز شخصیت محترم توصیف ترنل صاحب (ہانگ کانگ)، منصبِ صدارت محترمہ جہاں آرا تبسم صاحبہ (پاکستان)، مہمانانِ خصوصی محترمہ شہناز مزمّل صاحبہ (پاکستان) اور محترم فائز تُرابی صاحب (بھارت)، مہمانانِ اعزازی محترم سیّد سبطین کاظمی صاحب، محترم اسلم رضا خواجہ صاحب، محترم ظہیر احمد ضیا صاحب (آزاد کشمیر)، معزّز ناقدینِ اکرام محترم مسعود حسّاس صاحب (بھارت)، محترم شہزاد نیّر صاحب (پاکستان)، محترم خواجہ فراز بادامی صاحب (بھارت)، محترم شفاعت فہیم صاحب (بھارت)، پرگرام کی نظامت محترم علیم طاہر صاحب (بھارت) نے اپنے عمدہ اندازِ تخاطب سے سر انجام دی۔ پروگرام کا آغاز ربِّ ذوالجَلال کی پاک وشفّاف حمد وثنا کے ساتھ محترمہ شہناز مزمّل صاحبہ (پاکستان) نے یوں کِیا

مِلا حَرف حَرف سَجا ہُوا, یہ مرے کریم کی ہے عَطا
کروں شکر کیسے بَھلا اَدا,دی حَقیر بَندے کو یہ نِدا

رسول اکرم نُور مُجسّم محمّدﷺ کی شانِ اقدس میں نعتیہ کلام کا نظرانۂ عقیدت محترم خالد سرویا صاحب (پاکستان) نے پیش کیا۔ علاوہ ازیں معزّز شعرائے اکرام میں

img-20170829-wa0006

محترم علیم طاہر (انڈیا
تری آنکھوں کا جادو بولتا ہے
میں سنتا ہوں وہ اردو بولتا ہے

محترم مزمّل علی صاحب(پاکستان
تھم سکے گا نہ علی گردش دوراں کا رواج
موت آنا ہے اگر تجھ کو تو آتی چلی جا

محترم حفیظ مینانگری (انڈیا
وہ میری سمت آرہے ہیں حفیظ
زندگی اب ہو زندگی شاید

محترمہ شمشاد ٹاکیدرا صاحبہ (بھارت
میں پڑھ لکھ کر جہاں بھر میں اجالا کرنے والی ہوں
دلوں میں علم کی دولت سبھی کے بھرنے والی ہوں

محترم نصیر حشمت (پاکستان
نصیر اس قلم کا کروں حق ادا یوں
مروں تو کہیں سب ، کھرا قلمداں تھا

محترم محمد صابر علی قریشی (پاکستان
نقش سا اک عیاں ہے مجھے نہیں معلوم
یقیں ہے کہ گماں ہے مجھے نہیں معلوم

محترم شوزیب کاشر (آزادکشمیر
“کن” کہوں اور کام ہو جائے
آدمی ہوں کوئی خدا ہوں کیا

سروراجیہ انقلابی

محترم مختار تلہری (انڈیا
زمانہ سمجھتا تھا مختار تنہا
مرے ساتھ یادوں کا اک کارواں تھا

محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی (انڈیا
محترم انیس بھٹکلی (انڈیا
محترم ارشد مینا نگری (انڈیا
محترم خالد سروحی گوجرنوالہ (پاکستان
محترم ڈاکٹر فرحت عباس (پاکستان
محترمہ ارسلان گوشی (سیالکوٹ
محترم انور کیفی (انڈیا

معزّز صاحبان نے یکے بعد دیگرے اپنے عمدہ کلام مع تفکّرات اور منفرد عشوہ اندازی، سے اِس ادبی محفل میں چار چاند لگا دیئے۔ پروگرام کا لطف تَدمَزید دوبالا ہوگیا جب ایک جانب معزّز سامعینِ مجلس نے شعراۓ اکرام کو داد وتحسین سے نوازہ تو دوسری جانب ماہرینِ علم وفن نے غیر جانبدارانہ طریقے سے کلام میں موجود محاسن و اسقام پر شعرائے اکرام کی رہنمائی فرمائی۔

img-20170829-wa0000

بین الاقوامی سطح پر حالیہ پروگرام (لائیو ویڈیو مشاعرہ) کے ذریعہ بہترین ادبی کارنامہ سر انجام دیا گیا ہے جس سے نہ صرف ادب و ثقافت کی جڑیں مضبوط ہوگی بلکہ دورِ حاضر میں سائنسی برقی آلات کے استعمال سے مزید ترقی کی راہیں بھی ہموار ہوگی۔ آج کا سائنٹفک دور ادب کو جہاں گیر برقی آلات اور نئے نئے سائنسی پروگرامز تک لے جانے میں کارگر ثابت ہوا ہے۔ جس کا استعمال ادارۂ ھٰذا کے *بانی و چئیرمن محترم توصیف ترنل بخوبی جانتے ہیں۔

اس تاریخی پروگرام میں شریک معزّز موصوفیانِ اردو ادب اور تمامی رفقایےء بزم کو ادارے کی جانب سے مبارکباد…ساتھ ہی ادارۂ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری گروپ کی انتظاميہ بالخصوص محترم توصيف ترنل صاحب کو خدمتِ اردو ادب کیلئے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ آخر میں ادارۂ عالمی بیسٹ پوئٹری گروپ کی شان میں مجھ ادنیٰ خادمِ اُردو اَدب کے یہ چار مصرعے پیشِ خدمت ہیں۔

img-20170829-wa0005

سارے جہاں کے نام پَیامِ سُخن وَراں
عالَم میں اِنتخاب کلامِ سُخن وَراں
یہ عالَمی اِدارہ بھی کِتنا نفیسؔ ہے
بخشا خُدا نے اِس کو مقامِ سُخن وَراں

بسم اللہ الرّحمٰن الرّحیم 

حرفِ آغاز

فنِ موسیقی کا تعلق کان سے ہے موسیقی کونسی زبان میں کیوں نہ ہو ,حالانکہ موسیقی کی کوئی زبان نہیں ہوتی، کوئی نہ کوئی زبان دی جاتی ہے اسی موسیقی پر ہرزبان کا نغمہ، گیت، غزل لکھاجاتاہے، موسیقی جس کی کوئی زبان نہیں ہوتی بلکہ سماعت پراثر ہوتی ہے انسان کو مست بےخود بنا دیتی ہے، موسیقی دل ودماغ دونوں کع متاثر کرتی ہے,نغمہ,گیت ہو یاغزل یا کوئی اور صنف ہو موسیقی میں کم سے کم الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں,

img-20170829-wa0004

مگر مفہوم کے اعتبار سے اس میں کائنات ہوتی ہے کلام مترنم ہوتا ہےتو موسیقی کی دھن بھی اعلٰی ہوتی ہے,فنکار کو فنِ موسیقی کے اصول و ضوابط جاننا بے حد ضروری ہوتا ہے اس کے لئے فن کی طبیعت کی موزونیت ضروری ہے اگر طبیعت موزوں نہ ہوتو ترنم بھی درست نہیں ہوتا اکثر فنکار موزونیت پر دھیان دیتے ہیں,فنکار کو چاہئےکہ الفاظ کا درست تلفظ کا جاننا نہایت ضروری ہے ورنہ ترنم بگڑ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے ترنم کا باقاعدہ دارومدار الفاظ کاترنم ہی ہے,فنکار جذبات,احساسات اور دلی کیفیات کا ترجمان ہوتا ہے,بالفاظ دیگر تلفظ کے ادا کرتے ہوئے فنکا اپنے فن کا مظاہرہ کریں تو احاسات,جذبات اور دلی کیفیات سے ادا کرنے کا نام ہی موسیقی ہے۔

Urdu Adab Ko Kaisay Zindah Rakha Jaye

غزلیات کے اس انتخاب کو پروگرام,,ویڈیو مشاعرہ,,انعقاد کا مقصد صرف اتنا ہے کہ عام طور پر قدیم وجدید روایتی و جدیدیت کے کلام پر تنقید کے ذریعہ شعراء کے کلام کے دواوین و کلیات ایک جگہ دستیاب نہیں ہوتے ایسی صورت میں دانش گاہوں کی مختلیف سطحوں پر ,,ویڈیو مشاعرہ,,میں شامل غزلیات کی فراہمی کے سلسلہ میں شعراء کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے,لہذا اس الجھن کو کچھ حد تک سلجھانے کی بذریعہ ,,ویڈیو مشاعرہ,,حقیر کوشش کی ہے جس سے شائد اردو زبان وادب کے نومشق شعراء کی کچھ مدد ہوسکے,اس ویڈیو مشاعرہ میں روایتی اور جدید غزلیں شامل ہیں میں(امیرالدین امیر) ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری(وائس)کے

img-20170829-wa0010

چیف,آرگنائزر توصیف ترنل کا بے حد ممنون ہوں کہ انہوں نے ,,ویڈیو مشاعرہ,,کے ذریعہ غزلیات کو ترنم کی شکل دےکر ,,ویڈیو مشاعرہ,,کا انعقاد کرتے ہوئے شعراء وسامعین کو وقار بخشا اور عزت افزائی فرمائی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *