آن لائن عالمی صوتی مشاعرہ

      No Comments on آن لائن عالمی صوتی مشاعرہ
آن لائن عالمی صوتی مشاعرہ

رپورٹ: ثمینہ ابڑو لاڑکانہ

جدید برقی ترقیاتی دور میں ہر ہفتےمنفرد و کامیاب محافل کا انعقاد ادارہ عالمی بیسٹ اردو کی پہچان ہے۔ اسی سلسلے کی ایک خوبصورت کڑی 18 نومبر بروز ہفتہ شام 7.00 بجے منعقد شدہ “آن لائن عالمی صوتی مشاعرہ و میوزیکل پروگرام” ہے۔ حسب روایت اس منفرد محفل کے منتظمِ اعلیٰ محترم توصیف ترنل”بانی ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری” تھے۔

img-20171115-wa0022

محترم علی مزمل صاحب نے صدارت کے فرائض بہت خوبصورتی و زمیداری سے ادا کیے۔ جبکہ مہمانانِ خصوصی محترم شفاعت فہیم صاحب اور محترم شہزاد نیر صاحب تھے حسبِ سابق یہ محفل بھی تنقیدی محفل تھی جس میں سبھی شعراء کے کلام ہر واہ کے ساتھ ساتھ اصلاحی تنقید بھی ہوتی رہی۔ محفل کی انفرادیت یہ بھی رہی کہ ناظمِ مشاعرہ نہ ہونے کے باوجود محفل میں بلا کا نظم و ضبط رہا۔ شعراء کرام بڑے سلیقے اور سنجیدگی سے باری باری اپنی کاوش پیش فرما کر داد وتحسین اور اصلاحی تنقید پاتے رہے۔ یوں رات گئے تک یہ دلچسپ و خوبصورت سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ادارہ کے کھاتے میں ایک اور منفرد و کامیاب پروگرام کا انعقاد ہوا جس کے لیے بلاشبہ محترم توصیف ترنل ادارہ کی انتظامیہ اور تمام ممبران داد و تحسین کے مستحق ہیں۔

img-20171115-wa0029

کون کہتا ہے کبھی دور خدا ہوتا ہے
د ل کی دھڑکن میں وہ ہر لمحے چھپا ہوتا ہے
شہناز مزمل

نہ ماہ رو نہ کسی ماہتاب سے ہوئی تھی
ہمیں تو پہلی محبت کتاب سے ہوئی تھی
علی مزمل

تری آنکھ سے مجھے اذن, حرف نہ مل سکا
مری آرزو مرا مدعا نہیں ہو سکی
شہزاد نیر

img-20171115-wa0024

زمیں کو جان کر بستر پڑا ہوں
فلک کی اوڑھ کے چادر پڑا ہوں
شوزیب کاشر

جگنو تتلی بھنورے تیرا ذکر کریں
ہر گل میں ہے مہکا مہکا نام ترا
علیم طاہر

عشق ایسا دین ہے جس میں ہے سجدہ یار کو
اور طواف، یار ہے احرام کو سوچے بغیر
اشرف علی اشرف

کیسے لے جائیں کسی کو عشق کی گہرائی تک
سوز سے اپنے جلا لیتی ہے لب شہنائی تک
مینا نقوی

 

img-20171115-wa0019

صورت کوئی دلاسے کی یا رب نکال دے
سینے میں جو دھڑکتا تھا وحشی نہیں رہا
فرحان عزیز

وہ ہے مطمئن مجھے جیتا جاگتا چھوڑ کر
اسے کیا خبر کہ میں زندگی نہیں کر رہا
عاطف چوہدری

اے ناز, چمن فخر, ارم اب تو نکل آ
اک شاعر, درویش ترے گھر پہ کھڑا ہے
ثمریاب ثمر

img-20171115-wa0020

اک گھڑی مجھ سے ملنے آئی تھی
ایک لمحہ بچھڑنے والا تھا
امین اڈیرائی

خون کے آنسو مری آنکھوں کی قسمت ہو گئے
ایک مصرع ہوگیا تھا “میر” کے انداز کا
انور کیفی

کوئی سایہ کوئی پیکر نہیں ہے
کوئی چنگاری بھی بھڑکے کہاں تک
شفاعت فہیم

Usman Atis

آخر میں عثمان عاطس صاحب نے اپنی ایک نثری اصلاحی کاوش بعنوان ٹوٹے دل پیش کی جیسے قارئین خوب سراہا، بعد از مشاعرہ بغیر نظامت تکمیل کو پہنچی اس محفل کے جملہ اراکین نے جناب توصیف ترنل چیئرمین عالمی ادارہ۔ بیسٹ اردو پوئیٹری کا اس منفرد اور کامیاب ترین مشاعرے کے انعقاد پر ڈھیروں مبارک باد سے نوازا۔

مقالہ
تبصرہ نگار: شفاعت فہیم بھارت

گونگی نظامت کا،پہلا پرقی پروگرام ، بہترین ،لاجواب ، بہت ہی عمدہ اور منفرد ، واہ واہ وا ، توصیف ترنل صاحب کی ایجاد کا تو جواب ہی نہیں ہے۔ علی مزمل صاحب کی صدارت میں ایک بہت خوبصورت پروگرام منعقد ہوا اسکے لیے بندے کی طرف سے انکی خدمت میں مبارکباد نیز تمام احباب جو اس ادارے یعنی بیسٹ اردو پوئٹری کے ممبر ہیں انکو بھی اس خاکسار شفاعت فہیم کی طرف سے مبارکباد پیش ہے۔

img-20171115-wa0027

ہر چند کہ اگلے زمانے میں جو شعری محافل ہوا کرتی تھیں، انکا طریقہ بھی ایسا ہی ہوا کرتا تھا کہ شاعر کے آگے شمعِ محفل رکھ دی جاتی تھی۔ تواسکامطلب تھا کہ اب یہ شاعر اپنا کلام پیش کریگا۔ کسی کو آواز دیکر نہیں بلایا جاتا تھا، لیکن یہ مشاعرہ اپنے انداز کا ایک واحد اور منفرد پروگرام اس وجہ سے بھی ہے کہ اسمیں ، تمام دنیا کے لوگ شریک تھے اور کسی کو آ واز نہیں دی گئی جیسے یہ مشاعرہ غیر اردی طور پر چل رہا ہو واہ واہ سبحان اللہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *