بعنوان “نوواردانِ ادب ایوارڈ” مشاعرہ

بعنوان " نوواردانِ ادب ایوارڈ " مشاعرہ

 

رپورٹ: ثمینہ ابڑو

حسبِ روایت ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی جانب سے٣٠ دسمبر بروز ہفتہ شام ٧ بجے ایک محفل بعنوان ” نوواردانِ ادب ایوارڈ ” کا انعقاد محترم توصیف ترنل صاحب کی سربراہی میں کیاگیا۔ محفل کی صدارت محترم ظہیر احمد مغل صاحب کشمیر نے کی۔ مہمانانِ خصوصی اور منصفین کے فرائض محترم مختار تلہری صاحب، محترم علی مزمل صاحب اور محترم ضیا شادانی صاحب نے انجام دیے جبکہ نظامت محترمہ ثمینہ ابڑو نے کی۔

whatsapp-image-2017-12-18-at-12-49-35-pm

محفل کا آغاز مختار تلہری صاحب کی دل افروز حمد باری تعالیٰ سے ہوا. بعد ازاں محترم ڈاکٹر نبیل احمد نبیل، محترم شوزیب کاشرمحترمہ ڈاکٹر مینا نقوی اورمحترم یار باجواہ نے بارگاہِ رسالت میں نذرانہءعقیدت پیش کیا۔ ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری ہمیشہ ہی شعراء و ادباء کی حوصلہ افزائی کرتا رہا ہے اور یہ پروگرام اس لیے خصوصی اہمیت کا حامل رہا کہ اس میں نہ صرف نئے شاعروں کی بذریعہ داد و تحسین حوصلہ افزائی کی گئی بلکہ ان کے کلام کی اصلاح استاد شعراء نے کی اور بہترین کاوش کو ایوارڈ بھی دیا گیا۔

پہلی پوزیشن پانے والے خوش نصیب محترم ا شرف علی اشرف پاکستان رہے۔

ایوارڈ یافتہ غزل
تیری خاطر بھلا کیا کیا نہیں کرنا چاہا
دور کر دوں تجھے ایسا نہیں کرنا چاہا

میں نے اک بار کہا تھا کہ بھلا دوں گا تجھے
میں نے اس عہد کو ایفا نہیں کرنا چاہا

whatsapp-image-2017-12-18-at-12-49-38-pm-1

اتفاق ایسا ہوا ہو گا کہ اس نے مجھ سے
سامنے آ کے جو پردہ نہیں کرنا چاہا

اس فقیری میں شہنشاہی کے لیتا ہوں مزے
میں نے اقدار کا سودا نہیں کرنا چاہا

اب وہ کس لہجے میں اقرارِ وفا تجھ سے کرے
تونے جس شخص کو اپنا نہیں کرنا چاہا

یہ بڑے حوصلے کی بات ہے صاحب میں نے
دھوکے کھا کھا کے بھی دھوکا نہیں کرنا چاہا

پارسا بن کے جو بیٹھے ہو یہاں پر حضرت
میرا ہی ظرف ہے رسوا نہیں کرنا چاہا

بے وفائی کے ترے شہر میں چرچے ہیں مگر
میں نے اس شہر کو کوفہ نہیں کرنا چاہا

مجھ کو تو خاک نشینی بڑی راس آتی ہے
میں نے اصنام کو آقا نہیں کرنا چاہا

اپنی ہی فکر کو معیار سمجھ بیٹھےہیں
ہم نے اسلاف کا چرچا نہیں کرنا چاہا

تم نے اغیار سے رکھی ہیں بڑی امیدیں
اپنے اشرف پہ بھروسا نہیں کرنا چاہا

شرکاء محفل کے نام اور نمونہء کلام

ظہیر احمد مغل
میں سب کو بھول چکا ہوں مگر ظہیراحمد
یہ کیا ستم کہ تجھے بھولتا نہیں ہوں میں

مختار ساگر قریشی
ساگر ذرا لہجے کو شیریں تو بنا پہلے
دشمن کو حسیں لہجہ ہی دوست بناتا ہے

محمد عبدالقدیر
کسی محبوب کی دنیا میں غم آۓ تو پھر شاہد
ہم اس کی چاہ میں الفت کے مارے ڈوب جاتے ہیں

whatsapp-image-2018-01-02-at-4-35-58-am

نصیر حشمت گرواہ
یہ میرا وعدہ ہے ثابت قدم رہوں گا نصیر
تو میرے دوست مجھے جب بھی آزمائے گا

عبدالحمید ابنِ ربانی
جانے ربانی وہ سانحہ…….کب ہوا
جس کا احساسِ درد آج بھی دل میں ہے

محمد رضوان عالم
وہ جانتی ہے کہ میں کچھ نہیں کہوں گا اسے
سو مطمئن ہے بہت مجھ کو چھوڑ جانے سے

یقیناً اس طرح کے اصلاحی پروگرامس میدانِ ادب میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ نوجوان کسی بھی قوم و ادب کا بیش بہا سرمایہ ہوتے ہیں اور ان تمام نوواردانِ ادب کی خوبصورت کاوشیں اردو ادب کی کامیابی و کامرانی کی نوید ہیں۔

مقالہ: نوواردانِ ادب ایوارڈ

تحریر: ظہیراحمد مغل

whatsapp-image-2018-01-02-at-4-35-55-am

دنیا میں جہاں جہاں اردو زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے وہاں وہاں اردو ادب کی ترویج اور خدمت کے لیے اردو کے چاہنے والوں نے ادبی تنظیمیں بنا رکھی ہیں اور رسائل و جرائد کی اشاعت بھی کر رہے ہیں۔ اردو زبان بہت میٹھی اورمہذب زبان ہے۔

راوش صدیقی کا شعر ہے
اردو جسے کہتے ہیں تہذیب کا چشمہ ہے
وہ شخص مہذب ہے جس کو یہ زباں آۓ

جہاں ہر شہر میں مقامی سطح پر ادبی تنظمیں کام کر رہی ہیں وہیں برقی دور میں جہاں دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے اور روزمرہ کے کام کاج میں مصروفیات اس قدر در آئی ہیں کہ کسی کو گھر والوں کے لیے بھی وقت میسر نہیں ہے۔ وہاں توصیف ترنل نامی شخص اٹھ کے واٹس ایپ پہ ادب کی خدمت کے جذبے سے بیسٹ اردو پوئیٹری گروپ بناتا ہے۔ دنیا میں رائج معاشی اور معاش کے حصول نے انسانوں کو ایک دوسرے سے بہت دور کر دیا ہے ایسے میں اس ادارے کی بدولت ہر ملک سے علمی ادبی دوستوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا سہرا توصیف ترنل کے سر جاتا ہے۔ اس ادارے کی بدولت ہم ایک دوسرے تک اپنے اپنے خیالات و جذبات کی ترسیل با آسانی کر سکتے ہیں، ایک دوسرے سے سیکھ سکتے ہیں۔ یقینا بہت سارے ذاتی مسائل و مشکلات کے باوجود توصیف ترنل اپنے کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور مسائل کا سامنا کر کے ان کو حل بھی کرتے ہیں۔ جب کہ فی زمانہ مصروفیات سے وقت نکال کر ادب نواز دوستوں کے لیے کام کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ الطاف حسین حالی کا ایک شعر یاد آ رہا ہے۔

زمانہ اگر ہم سے زور آزماہے
تو وقت اے عزیزو! یہی زور کا ہے

whatsapp-image-2018-01-02-at-4-35-49-am

بیسٹ اردو پوئیٹری کے زیر اہتمام ہر ہفتہ شام ٧ بجے ایک شعری محفل منعقد کی جاتی ہے جو ہر گزشتہ محفل سے منفرد اور اچھوتی ہوتی ہے۔ ان محافل میں ادب دوستوں کی حوصلہ افزائی کے لیے جیتنے والے کو ایوارڈ بھی دیا جاتا ہے اور شاعری پر تنقید بھی کی جاتی ہے جس سے نوواردانِ ادب کے علم میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان منفرد ادبی محافل کی بدولت ہم بظاہر ایک دوسرے سے ہزاروں میل کی تفاوت کے باوجود مل بیٹھتے ہیں یہ توصیف ترنل کا ادبی دنیا میں وہ کارنامہ ہے جو کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ منفرد ادبی محافل کا سلسلہ چلتے چلتے سال کے آخری ہفتہ بتاریخ ٣٠ دسمبر ٢٠١٧ تک آ پہنچتا ہے جس میں توصیف ترنل نے ادب میں نئے آنے والے نو آموز شعراء کے لیے ایک منفرد پروگرام کا اعلان کیا۔ اس پروگرام میں شامل ہونے والے شعراء نے اپنی ایک غزل اصلاح کروا کر پیش کرنا تھی اور جیتنے والے کو ”نوواردانِ ادب ایوارڈ” سے نوازا جانا تھا۔

whatsapp-image-2018-01-02-at-4-35-54-am

نوواردانِ ادب کی اس محفل کے مہمانانِ خصوصی جو پروگرام کے منصفین بھی تھے ان میں محترم مختار تلہری بھارت سے، محترم علی مزمل کراچی پاکستان سے اور محترم ضیاء شادانی بھارت سے، شامل تھے۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض پاکستان سے جدید لہجے کی شاعرہ محترمہ ثمینہ ابرو صاحبہ نے کی اور نوواردان ادب کے اس پروگرام میں صدارت کے منصب پر توصیف ترنل نے نوواردانِ ادب میں سے ہی ظہیر احمد مغل کو صدارت تفویض کی۔ جو کہ ایک نیا اقدام تھا جس سے نو آموز شعراء کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ اس پروگرام میں ٧ نوآموز شعراء نے حصہ لیا جن میں محمد رضوان عالم، ڈیرہ اسماعیل خان، ابن ربانی (مانسہرہ پاکستان)، نصیر حشمت گرواہ (چنیوٹ پاکستان)، اشرف علی اشرف (سندھ پاکستان)،مختار ساگر (مہاراشٹر انڈیا) محمد عبداللہ شاہد سیفی اور راقم ظہیر احمد مغل شامل تھے۔

پروگرام کا باقاعدہ آغاز مقررہ وقت پر ٹھیک ٧ بجے شام پاکستانی وقت کے مطابق مختار تلہری صاحب کی کہی گئی حمد پاک سے ہوا۔ نعت رسول مقبولﷺ کی سعادت ڈاکٹر نبیل احمد، شوزیب کاشر اور یار باجوہ صاحب نے حاصل کی۔ محترمہ ثمینہ ابڑو صاحبہ نے جاندار نظامت کی اور ہر آنے والے شاعر کو ایک خوبصورت منتخب شعر پڑھ کر دعوت کلام دی ۔

whatsapp-image-2018-01-02-at-4-35-57-amشعراء اپنی اپنی باری پر کلام پیش کرتے رہے اوربزم میں موجود تمام احباب انہیں دادو تحسین سے نوازتے رہے۔ پروگرام کی فہرست میں جن احباب کے نام تھے ان کے علاوہ بھی ادارے کے احباب نے داد و تحسین سے محفل میں اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلایا۔ پروگرام تقریباً ٩ بجے کے لگ بھگ اختتام پذیر ہوا جس کے بعد منصفین کی جانب سے جیتنے والے شاعر کا نام سننے کے لیے تمام شرکاء بڑی بے تابی سے انتظار کرتے رہے۔ آخر کار چند منٹ کے انتظار کے بعد اعلان ہوا کہ آج کی بزم کو محترم اشرف علی اشرف نے لوٹ لیا اور سال ٢٠١٧ کے آخری پروگرام ” نوواردانِ ادب ” کا ایوارڈ اشرف علی اشرف کی عمدہ تخلیق پر ان کے نام ہوا۔

ایوارڈ یافتہ غزل سے چند اشعار بطور نمونہ پیش خدمت ہیں

تیری خاطر بھلا کیا کیا نہیں کرنا چاہا
دور کر دوں تجھے ایسا نہیں کرنا چاہا
میں نے اک بارکہا تھا کہ بھلا دوں گا تجھے
میں نے اس عہد کو ایفا نہیں کرنا چاہا
پارسا بن کے جو بیٹھے ہو یہاں پر حضرت
میرا ہی ظرف ہے رسوا نہیں کرنا چاہا
بے وفائی کے ترے شہرمیں چرچے ہیں مگر
میں نے اس شہر کو کوفہ نہیں کرنا چاہا
تم نے اغیار سے رکھی ہیں بڑی امیدیں
اپنے اشرف پہ بھروسا نہیں کرنا چاہا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *