Noshi Gilani ki Khobsorat 3 Ghazals

      No Comments on Noshi Gilani ki Khobsorat 3 Ghazals
Noshi Gilani

دل تھا کہ خوش خیال تجھے دیکھ کر ہوا  

دل تھا کہ خوش خیال تجھے دیکھ کر ہوا
یہ شہر بے مثال تجھے دیکھ کر ہوا
طول شب فراق تری خیر ہو کے دل
آمادۂ وصال تجھے دیکھ کر ہوا
یہ ہم ہی جانتے ہیں جدائی کے موڑ پر
اس دل کا جو بھی حال تجھے دیکھ کر ہوا
آئی نہ کبھی مرے لفظوں میں روشنی
اور مجھے یہ کمال تجھے دیکھ کر ہوا
بچھڑے تو جیسے ذہن معطل سا ہو گیا
شہر سخن بحال تجھے دیکھ کر ہوا
پھر لوگ آگئے مرا ماضی کریدنے
پھر مجھ سے اک سوال تجھے دیکھ کر ہوا

یہ کیسا خوف تھا رخت سفر بھی بھول گئے

Noshi Gilani

یہ کیسا خوف تھا رخت سفر بھی بھول گئے
وہ کون کوگ تھے جو اپنے گھر بھی بھول گئے
یہ کیسی قوتِ پروازڈر نے پیدا کی
پرندے اُڑتے ہوئے اپنے پر بھی بھول گئے
دکھوں نے چین لی آنکھوں کی ساری بینائی
ہم اس کا شہر تو کیارہگور بھی بھول گئے
خیال تھا کہ سنائیں گے حال دل لیکن
ہم اسکے سامنے غرض ہنر بھی بھول گئے
جُدا ہوئے تو کھلا ہے تمہاری بستی میں
ہم ایک دل ہی نہیں، چشم تر بھی بھول گئے

محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا

Noshi Gilani

محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا
جو میرے حصے میں آئی ہیں وہ اذتیں بھی شمار کرنا
 جلائے رکھوں گی صبح تک میں تمہارے رستوں میں اپنی آنکھیں
مگر کہیں ضبط ٹوٹ جائے تو بارشیں بھی شمار کرنا
جو حرف لوحِ وفا پہ لکھے ہیں ان کو بھی دیکھ لینا
جو رائیگاں ہو گئیں وہ ساری عبادتیں بھی شمار کرنا
یہ سردیوں کا اداس موسم کی دھڑکنیں برف ہو گئیں ہیں
جب ان کی یخ بستگی پرکھنا ،تمازتیں بھی شمار کرنا
تم اپنی مجبوریوں کے قصے ضرور لکھنا وضاحتوں سے
جو میری آنکھوں میں جل بجھی ہیں وہ خواہشیں بھی شمار کرنا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *