آج کی شخصیت ندا فاضلی صاحب

      Comments Off on آج کی شخصیت ندا فاضلی صاحب
آج کی شخصیت ندا فاضلی صاحب

انتخاب: مہر خان

آج کے دن اردو کے معروف ہندوستانی شاعر اور نغمہ نگار ندا فاضلی کا بھارتی شہر ممبئی میں انتقال ہو گیا۔ ان کی عمر 77 برس تھی۔ ندا فاضلی کا اصلی نام مقتدا حسن تھا۔ بالی وڈ کی فلمی دنیا کے لیے بعض یادگار گیت تخلیق کرنے کے علاوہ ان کے لکھے گئے دوہوں اور غزلوں کو جگجیت سنگھ نے لاکھوں لوگوں تک پہنچایا۔ ندا فاضلی 1938 میں بھارتی ریاست گوالیار میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد بھی شاعر تھے جو 1960 میں مذہبی فسادات کے دوران مارے گئے۔ ان کے خاندان کے باقی افراد پاکستان منتقل ہو گئے لیکن ندا ہندوستان ہی میں رہے۔

بھارتی حکومت نے ندا فاضلی کو پدم شری، ساہتہ اکیڈمی ایوارڈ، اور میر تقی میر ایوارڈ سے نوازا۔ ندا فاضلی نے ’رضیہ سلطان،‘ کے علاوہ ’سرفروش،‘ ’اس رات کی صبح نہیں،‘ ’آپ ایسے تو نہ تھے،‘ اور ’گڑیا‘ کے گیت لکھے جنھوں بہت شہرت حاصل ہوئی۔ 2003 میں انھیں فلم ’سُر‘ کے لیے سٹار سکرین ایوارڈ کے بہترین نغمہ نگار کا ایوارڈ ملا۔

فلم ’آپ ایسے تو نہ تھے‘ کے ان کا لکھا ہوا اور محمد رفیع کا گایا ہوا نغمہ ’تو اس طرح سے مری زندگی میں شامل ہے‘ آج بھی بہت مقبول ہے۔ ندا فاضلی انسان دوست شاعر تھے اور اس سلسلے میں وہ سماج کی جانب سے عائد پابندیوں، خاص طور پر مذہبی قید و بند پر تنقید کرتے ہیں۔

ندا فاضلی صاحب کے خوبصورت کلام میں سے منتخب غزل

کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا
تمام شہر میں ایسا نہیں خلوص نہ ہو
جہاں امید ہو اس کی وہاں نہیں ملتا
کہاں چراغ جلائیں کہاں گلاب رکھیں
چھتیں تو ملتی ہیں لیکن مکاں نہیں ملتا
یہ کیا عذاب ہے سب اپنے آپ میں گم ہیں
زباں ملی ہے مگر ہم زباں نہیں ملتا
چراغ جلتے ہیں بینائی بجھنے لگتی ہے
خود اپنے گھر میں ہی گھر کا نشاں نہیں ملتا