آج کی شخصیت نیاز فتح پوری صاحب

آج کی شخصیت نیاز فتح پوری صاحب

انتخاب: مہر خان

اردو کے نامور ادیب، نقاد، محقق، مترجم، مورخ، صحافی اور ماہر لسانیات علامہ نیاز فتح پوری 28 دسمبر 1884ء کو فتح پورسہوہ میں پیدا ہوئے تھے۔ 1922ء میں انہوں نے ایک ادبی جریدہ نگار جاری کیا جو تھوڑے ہی عرصے میں اردو میں روشن خیالی کا مظہر بن گیا۔ علامہ نیاز فتح پوری قریباً 35 کتابوں کے مصنف تھے جن میں من و یزداں، نگارستان‘ شہاب کی سرگزشت‘ جمالستان اور انتقادیات کے نام سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی سینکڑوں تحریریں، نگار میں شائع ہوئیں جنہوں نے اردو میں نت نئے مباحث کو جنم دیا۔ بھارت نے انہیں ہندوستان کا سب سے بڑا ادبی اعزاز پدمابھوشن عطا کیا تھا۔ 24 مئی 1966ء کو علامہ نیاز فتح پوری کراچی میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

گھڑی گھڑی نہ ادھر دیکھیے کہ دل پہ مجھے
ہے اختیار پر اتنا بھی اختیار نہیں

میں اب تو اے جنوں ترے ہاتھوں سے تنگ ہوں
لاؤں کہاں سے روز گریباں نئے نئے

نہ دنیا کا ہوں میں نہ کچھ فکر دیں کا
محبت نے رکھا نہ مجھ کو کہیں کا

تم تو ٹھکرا کر گزر جاؤ تمہیں ٹوکے گا کون
میں پڑا ہوں راہ میں تو کیا تمہارا جائے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *