بے یقینی

      No Comments on بے یقینی
%d8%a8%db%92-%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86%db%8c

بے یقینی

چلو پھر زادِ رہ باندھیں
چلو پھر وقتِ رخصت ہے
ہمارے ساتھ چلتے ہو
ہمیں تو دُور جانا ہے
ہمارا ہاتھ تھامو گے
نہ جانے کیوں ہمیں کچھ بے یقینی ہے
یقین آئے بھی تو کیوں کر
تمہیں تو خود  بھی اپنے پر یقیں شاید نہیں ہے
چلو پھر ایسا کرتے ہیں
ابھی سے رہ بدلتے ہیں !
ہمیں تنہا ہی رہنا ہے
ہمیں تو دُور جانا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *