Naveed Malik Introduction And Ghazals

      No Comments on Naveed Malik Introduction And Ghazals
Naveed Malik Introduction

نوید ملک صاحب کا تعارف اور کلام

تعارف
نوید ملک صاحب بہت اچھے شاعر ہیں۔ نوید ملک صاحب کا اصلی نام نوید احمد ہے مگرجب قلم رشتہ جُڑاتو آپ نے اپنانام نوید ملک رکھ لیا یوں اردوادب کی دنیا میں آپ نوید ملک کے نام سے مشہور ہوئے۔ نوید ملک صاحب 10 جولائی1982 کو گلگت، پاکستان میں پیدا ہوئے اورآپ اسوقت اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ نوید ملک صاحب روح فورم زیرِاہتمام بطورکونٹینٹ رائٹراینڈ سوشل میڈیا ایڈوائزر کے اپنی خدمات سر انجام دے رہیں ہیں۔ آپ نے 2005 میں اہے شاعری سفرکا آغاز کیا۔ ابھی تک آپکی دو کتابیں منظرعام پرآ چکی ہیں۔

جن میں اک سفر اندھیرے میں (غزلیات)اور کامنی (نظمیں) شامل ہیں۔ نوید ملک صاحب حلقہ اربابِ ذوق راولپنڈی کے جوائنٹ سیکریٹری ہونے کے ساتھ ساتھ اورکئی ادبی تنظمیوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔  آپکو کئی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ہے۔ نوید ملک صاحب شاعری پرنمل یونیورسٹی کی ایک طالبہ تھیسس بھی کرچکی ہے۔ آئیے نوید ملک صاحب کی کچھ غزلیں دیکھتے ہیں۔

منتخب غزلیں

میں ان آنکھوں پہ وحشت کا اِجارہ دیکھ سکتا ہوں
تجھے کس دشت سے سب نے گزارا دیکھ سکتا ہوں

محبت کرنے والوں پر ہی پنہاں عکس کھُلتے ہیں
میں تیرے دکھ سمجھتا ہوں، خسارا دیکھ سکتا ہوں

تو وہ کونپل ہے جو مہکی تھی پہلی بار اس دل میں
تری پلکوں پہ جو ٹوٹے گا تارا دیکھ سکتا ہوں

مرے گھر میں جو پنچھی آ کے اکثر چہچہاتے ہیں
میں ان کے شور میں بھی شہر سارا دیکھ سکتا ہوں

نوید ایسے گزاری زندگی گوشہ نشینی میں
کہ جیسے مر کے بھی دنیا دوبارہ دیکھ سکتا ہوں

وا عشق کا ہے در، کہ وہ میری نگہ میں ہے
سب کو ہے یہ خبر ، کہ وہ میری نگہ میں ہے

دھڑکی نہ زندگی کسی منظر پہ اس سے قبل
اچھا ہے اب سفر، کہ وہ میری نگہ میں ہے

دنیا ! یہ خدّوخال ترے مجھ پہ کیوں کھُلیں
قصہ ہے مختصر، کہ وہ میری نگہ میں ہے

اُس بے وفا کو دشت کا ہے سامنا مگر
اُس کو نہیں ہے ڈر ، کہ وہ میری نگہ میں ہے

اُس سے کہو اڑان بھرے آندھیوں میں بھی
کھُولے اب اپنے پر ، کہ وہ میری نگہ میں ہے

Naveed Malik Ghazals

زندگی کیا ہے تمناوں کا کھارا پانی
ہر کوئی پی کے یہاں مانگے دوبارہ پانی

فیصلہ اُس نے جدائی کا سنایا تو لگا
جیسے صحرا میں کوئی پیاس میں ہارا پانی

کھِلتے ہونٹوں نے وہ جذبات بکھیرے کہ یہاں
پتھروں نے اُسے دیکھا تو پکارا پانی

اس لیے لوگ سلگتے ہی یہاں کربل میں
جسے ملتا ہے وہ پی لیتا ہے سارا پانی

تشنگی بانٹ کے ہر قوم کا رہبر یہ کہے
ساری دنیا میں تو بہتا ہے ، ہمارا پانی

آج جذبات ہیں پیاسے سرِ قرطاس نوید
کر رہا ہے مجھے ہر لفظ اشارہ پانی

Naveed Malik Ghazals

میں  قدم جب بھی اٹھاتا ہوں سفر بنتے ہیں
کئی رستے مرے ہونے سے اِدھر بنتے ہیں

اُس بغاوت سے بھلا کیوں تجھے نفرت ہے بہت
جس سے دنیا میں کئی اور نگر بنتے ہیں

کشتیاں ہم نے بچانی ہیں نئی نسلوں کی
توڑ دو سارے بھنور جو بھی جدھر بنتے ہیں

اب چھڑکتا ہوں سیاہی توورق پر یکدم
میرے اِس دیس کے ٹوٹے ہوئے گھر بنتے ہیں

کتنے صحرا تری سوچوں پہ اُبھرتے ہیں نوید
اُس کے بس ایک تبسم سے شجر بنتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *