Natia Shayari Ifadiyat-O-maqsadyat Last Episode

      No Comments on Natia Shayari Ifadiyat-O-maqsadyat Last Episode
Natia Shayari Ifadiyat-O-maqsadyat

آخری قسط نعتیہ شاعری افادیت و مقصدیت

تحریر: ڈاکٹر بی محمد داؤد محسن

پہلی قسط) (دوسری قسط) کے لئے یہاں کلک کریں)

درحقیقت شاعر وہی ہے جس کا تصور و تخیّل بلند اور عظیم ہو اورعظیم شاعری وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسولؐ کی عظمت سے متعلق ہو۔خالص اس نوعیت کی شاعری کا شرف انہیں اصحابِ فن کو نصیب ہوتا ہے جن کا دل عشقِ مصطفےٰ ؐ کے لئے دھڑکتا ہے اور جن کا قلم عظمتِ نبیؐ رقم کرنے کے لئے بے قرار رہتا ہے۔تب کہیں جاکر نعت کا حق ادا ہوسکتا ہے۔

بلغ العلیٰ بکمالہِ
کشف الدجیٰ بجمالہِ

حسنت جمیع خصالہ
صل علیہ و آ لہ

Natia Shayari Ifadiyat-O-maqsadyat

نعت کہنے کے لئے ایمان شرط ہے اور عشق نبیؐ نہایت ضروری ہے۔ساتھ ہی خلوص و جذبۂ عقیدت بھی درکار ہے۔اس کے علاوہ پاک ذہن اور پاک طینیت ضروری ہے نعت کہنے کے لئے اپنے قلب کو منّور اور روشن کرنا ہی نہیں بلکہ عشقِ رسولؐ میں تپا کر کندن اور اپنے دل کو مدینہ بنانا پڑتاہے تب کہیں جاکر نعت ہوسکتی ہے اور حضورؐ کا فیض حاصل ہو سکتا ہے۔مثلاًً

ان کی محبت میں مجھ کو گالی ملے تب نعت ہو
فاقوں کے مارے پیٹ پر پتھر بندھیں تب نعت ہو

آرام کرسی پر پڑا نعتیں اگر فرماؤں گا
اس بارگاہِ خاص سے کیا فیض آخر پاؤں گا

نعت میں حضور اکرم ؐ کی شان اور مراتب کا لحاظ رکھتے ہوئے آپ کے تقدس کو برقرار رکھنا ہے۔ نعت کا فن آسان نہیں ہے یہ بال سے باریک اور تلوار سے تیز پل صراط سے گذرنے کی مانندہے۔ جہاں ایک چھوٹی سی لغزش ،خطا اور ایک ہلکا سا لفظ جومقامِ نبوت اور شانِ رسالت کے خلاف یا منافی ہو یا کم ہو نعت گو کو گستاخانِ ر سولؐ اورمنافقت کی صف میں کھڑا کر دے گا۔ علاوہ ازیں ذرا سی مبالغہ آرائی بھی نعت گو کو کفر و شرک کا مرتکب بنا دے گی۔ جبکہ حمدیہ شاعری میں ہزار مبالغہ آرائی کی گنجائش ممکن ہے کیونکہ حمدیہ شاعری میں مبالغہ بھی عین حقیقت بن جاتا ہے۔

Natia Shayari Ifadiyat-O-maqsadyat

مگر نعت میں تعریف و توصیفِ محمدؐ کے لئے مراتب اور حدود مقرر ہیں۔ ان حدود اور مراتب سے تجاوز کرناگویا ایمان سے خارج ہونا اور شرک و کفر کا مرتکب ہوناہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ باخدا دیوانہ باشدو با محمد ہوشیا ر اورحضورؐ کے مرتبہ کے لحاظ سے یہ بھی ضروری قرار دیا گیا کہ :گر فرق مراتب نہ کنی زندیق۔

نعتیہ شاعری کاشمارعقائد پر مبنی شاعری میں ہوتا ہے۔ جس طرح حمد اللہ تعالیٰ کی تعریف و توصیف سے عبارت ہے، اسی طرح منقبت بزرگانِ دین سے اظہارِ عقیدت کا نام ہے اورنعت مخصوص ہے حضورﷺ کی ذات سے۔ جہاں تک عقیدہ کا سوال ہے اس میں جذبہٗ لگاؤ بھی ہوتا ہےاورایک قسم کا ڈراور خوف کا خدشہ بھی رہتا ہےاوراس میں اپنی فلاح اور نجات کا پہلو بھی پوشیدہ ہوتا ہے۔ مذہبِ اسلام میں نجات کا تصور آتے ہی شافعِ محشر حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی طرف ہمارے قلب و ذہن خود بہ خود مائل ہو جاتے ہیں اور لب پر درود کا نذرانہ ہوتا ہے۔

Natia Shayari Ifadiyat-O-maqsadyat

ذہن گنبدِ خضریٰ کی جانب اور دل میں ایک امنگ کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جسے جذبۂ عقیدت سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اسی عقیدت کا نتیجہ ہے کہ ہماری نعتیہ شاعری میں مبالغہ عام ہوگیا ہے۔جہاں عشق کم اورعقیدہ کی بنیاد پر محبت کا پہلو زیادہ موجود ہے۔ نعت گوئی میں محبوب کے سامنے محب کی التجااس کے دل کی آئینہ دار ہوتی ہےاورہرایک مسلمان نبی کریمؐ سے محبت رکھتا ہے۔ ایمان کی شرط بھی عشقِ رسول ؐ کی بنیاد پر ہی ہے۔ اورایمان کا تقاضا بھی اللہ پر، رسولوں پر، فرشتوں پر، کتابوں پرآخرت پر مکمل یقین رکھنا ہی ہے۔

یہی یقین وایمان اور عقائد کا نتیجہ ہے کہ نعتیہ شاعری کا پلہ حمدیہ شاعری سے بھاری ہے کیونکہ بعد از خدائے بزرگ توی قصّہ مختصر۔ دراصل نعت بھی درود ہی کی ایک شکل ہے جس میں عشق و عقیدت اور اطاعت و تسلیم کا رجحان شعری روپ اختیار کرلیتا ہے۔نعتیہ شاعری رسمی شاعری نہیں ہے۔یہاں ذاتی جذبات و تخیلات کا ہرگز عمل دخل نہیں ہوتا۔نعت کے لئے فنّی مہارت و لیاقت اور قدرت کلام سے کہیں زیادہ مقامِ نبوت کا صحیح عرفان، عظمتِ نبوت کا سچّا وجدان، حضور اکرم ؐ کی شان و شوکت اورعظمت، سیرت کا بھر پور علم، توحید اور رسالت کے حدود کا لحاظ اور آپ ؐ سے سچّا عشق اور سچّی عقیدت نہایت ضروری ہے۔

Natia Shayari Ifadiyat-O-maqsadyat

مگریہاں بھی مقام اورمراتبِ الوہیت اور نبوت کا لحاظ رکھنا از حد ضروری ہے۔عظمتِ ربوبیت اور عظمتِ نبوت سے واقفیت لازمی ہے۔نعت کے لئے خلوص وعقیدت کے ساتھ ساتھ عشق واطا عت کا ہونا شرط ہے۔ عشق اور عقیدت کے حدود بھی مقرر اور متعین ہیں۔ لیکن عشق کی انتہا اور عشق کا حاصل بھی آپؐ ہی کی ذاتِ با برکت ہے۔
عقل کی منزل ہے وہ،عشق کا حاصل ہے وہ
حلقۂ آفاق میں گرمئ محفل ہے وہ

غیر مسلم شعراء کے یہاں بھی نعت میں عشق پایا جاتا ہے ۔لیکن یہاں سوال ایمان کا اٹھتا ہے۔ہمارے ادب میں غیر مسلم شعراء نے بھی نعتِ رسول ؐ لکھ کر عشق و عقیدت کا ثبوت دیا ہے ایک غیر مسلم شاعر کالکا پرشاد ؔ کی نعت میں پایا جانے والا عشق اور عظمت مصطفیٰ ؐ کا انداز دیکھئے۔

مشرق تا مغرب تھا درہم و دینار
لے کر زمین تا بہ فلک مال کا انبار

دریا سبھی بنے موتی،پارس بنے کوہسار
ایک سمت کھڑے ہوں جو مرے سیدِابرار

پوچھے کوئی کالکا پرشاد سے کہ کیا لے
نعلینِ کفِ پائے نبیؐ سر پہ اٹھالے

Natia Shayari Ifadiyat-O-maqsadyat

یہ عشق، یہ جذبہ ،یہ خلوص اور یہ محبت ایک غیر مسلم شاعر کے یہاں ملتا ہے جو ایمان کی دلالت کرتا ہے جو ایک مومن کے لئے ضروری ہے۔یہ جذبہ نعت کے لئے شرط اول ہے جس سے نعت کی عظمت دوبالاہو جائے گی ورنہ زبانی خرچ اور زبانی ہمدردی اور دکھاوے کی عقیدت ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *