Natia Shayari Ifadiyat-O-maqsadyat Episode 1 By Dr Bi Mohammad Davood Muhsin

Natia Shayari Ifadiyat-O-maqsadyat

ڈاکٹر بی محمد داؤد محسن صاحب کے تحقیقی مضمون نعتیہ شاعری افادیت و مقصدیت  کی پہلی قسط پیش خدمت ہے

کلامِ الٰہی اور احادیث نبویؐ دواہم ذرائع ہیں جن پر عمل پیرائی نہایت ضروری ہے اور یہی حاصل زندگی اور باعث نجات بھی ہے۔ قرانِ مجید کو اللہ رب العزت نے انسان کی ہدایت کے لئے حضور اکرم ﷺ کے توسط سے نازل فرمایا اورصاف الفاظ میں بتایا کہ۔ یاایھاالذین اٰمنو اٰمنوا باللہِ والکتٰب الذی نزل علیٰ رسولہِ۔ ( اے ایمان والو ایمان رکھو اللہ اور اللہ کے رسولؐ پر اور اس کتاب پر جو اپنے ان رسولؐ پر اتاری )

دراصل قرانِ کریم احکامِ خداوندی اورفرامینِ رب العزت کی عبارتوں کا ایک ذخیرہ اور سیرتِ رسولؐ و اسوہ ٗ حسنہ اور واقعات وحوادث کا ایک حسین اور دلکش گلدستہ ہے۔ جس کے مضامین وعظ ونصیحت پرمبنی ہیں جو ہدایاتِ انسانی کے لئے ایک نہایت موثراور دلپذیر ذریعہ ہیں۔ دینِ اسلام کا صحیح تصور اور مفہوم اگر سمجھاجاسکتا ہے تو وہ قرانِ مجید کو حضرت محمدﷺ سےاورحضرت محمدﷺ کو قرانِ مجید سے ہی ممکن ہے۔

Natia Shayari Ifadiyat-O-maqsadyat

ارشادِ باری تعالیٰ ہے وَاَرْسَلْنٰکَ لِلْنّاسِ رَسُولاًً وَّ کَفیٰ بِاللّہِ شھیدا۔ (اور اے محبوب ہم نے تمہیں سب لوگوں کے لئے رسول بھیجا اور اللہ کافی ہے گواہ ) ۔اس آیتِ کریمہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کو رسولؐ بنا کر بھیجنے کی گواہی دے رہا ہے۔ جس سے آپ ؐ کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔ اسی طرح قرانِ کریم میں جگہ جگہ پر اوصافِ محمدﷺ کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو یٰسین، طٰہ، فرقان، مدثر، مزمّل جیسے معزز القاب و خطابات سے یاد فرمایاہے۔ آپ کی تعریف و توصیف بیان کرتے ہوئے کہیں وَماارسلنٰکَ اِلاَ رَحْمَتَ اِ للْعاَلَِمینْ کہا تو  کہیں وَمَا اَرْسَلْنٰکَِ الاّ کَافَۃَ الِلْنّاسْ اور کہیں محمد بشر لا کالبشر یاقوت حجر لا کالحجر(محمد ؐ بشرہیں عام بشر نہیں یاقوت پتھر ہے عام پتھر نہیں) کہا گیا۔ اور کہیں وَ اِنّکَ لَعَلیٰ خْلقِِ عَظِیم (اور بے شک آپؐ کے اخلاق نہایت عالی ہیں)کہاگیا۔

اسی طرح وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکْ ( اور ہم نے بلند کر دیا ہے آپ کی خاطر آپ کے ذکر کو )کہا گیا۔ حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ سیدِ عالم حضور اکرم ﷺ نے اس آیت کے متعلق حضرتِ جبرئیل سے دریافت فرمایا۔ جواب میں جبرئیل امین نے فرمایا۔ ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ کے ذکر کی بلندی یہ ہے کہ جب میرا ذکر کیا جائے میرے ساتھ آپؐ کا بھی ذکر کیا جائے گا۔

Natia Shayari Ifadiyat-O-maqsadyat

حضرتِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ’’ اذان میں ، تکبیر میں ، تشہد میں ، منبروں پر ،خطبوں میں اگر کوئی اللہ رب العزت کی عبادت کرے ہر بات میں اس کی تصدیق کرے اور حضرت رسول ﷺ کی رسالت کی گواہی نہ دے تو یہ سب بے کار ہے۔ اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ تمام ذکر و اذکار میں کلمہء طیبہ کے بعد افضل الذکر درودِ پاک ہے جسے جزوِ عبادت قرار دیا گیا ہے۔

کلامِ پاک میں لفظ ’ عشق ‘کا استعمال نہیں ہوا البتہ ’محبت ‘کا استعمال ضرور ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ محبت افضل ترین شئے کا نام ہے۔ دراصل یہی صفتِ کمالِ انسانی بھی ہے اور وصفِ خداوندی بھی۔ یہ وہ پاک وصفِ خاص ہے جو خود خدائے بزرگ و برتر کو حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی ذات بابرکت سے ہے۔ چنانچہ دیکھا جائے تو محبت کی ابتدا خوداللہ و رسولﷺ سے ہوتی ہے۔ اسی محبت کا نتیجہ ہے کہ آپؐ کا اسم پاک جب بھی آئے تودل و زبان سے بے اختیار درود کے الفاظ خود بخود جاری ہوجاتے ہیں۔

Natia Shayari Ifadiyat-O-maqsadyat

آپ ؐ کو اللہ تعالیٰ نے قرانِ پاک میں کئی مقامات پررحمت اللعالمین کے لقب سے نوازا اور آپ ؐپردرود بھی بھیجا اورآپ ؐ کی نعت و ثنا اور تعریف وتوصیف بھی بیان کی۔ حضرت موسیٰؑ کو کلیم کہا اور حضور اکرم ؐ کو حبیب کہا۔ کلیم یعنی جو اللہ تعالیٰ سے کلام یا محبت کرے حبیب یعنی وہ جواللہ تعالیٰ جس سے محبت کرے۔ قرآنِ کریم کی کئی آیات سے یہ ثابت ہے کہ حضور اکرم ؐ کی نعت اور مدحت و ثنا بیان کرنے والا خود خدائے بزرگ و برترہے۔

اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کی تعریف و توصیف ہی نہیں بیان کی بلکہ ہمارے لئے واعطی اللہِ و واعطی الرسولکی شرط بھی رکھی۔ توریت و انجیل میں بھی آپؐ کا ذکر کیا۔ حضرتِ آدمؑ سے لے کر حضرتِ عیسیٰ ؑ تک کے بیشتر انبیاء و مرسلین نے آپؐ کے تقدس اور عظمت کا اعتراف کیا ، بشارت دی اور آپ کی امّت میں ہونے کی خواہش ظاہر کی۔

دوسری قسط کے لئےیہاں کلک کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *