ناصرؔ کاظمی کے شعری مجموعے برگِ نَے سے منتخب اشعار

ناصرؔ کاظمی کے شعری مجموعے برگِ نَے سے منتخب اشعار

انتخاب:عبداللہ نعیم رسول

تیرے قریب رہ کے بھی دل مطمئن نہ تھا
گزری ہے مجھ پہ یہ بھی قیامت کبھی کبھی

اے دوست ہم نے ترکِ تعلق کے باوجود
محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی

کیا دن تھے جب نظر میں خزاں بھی بہار تھی
یوں اپنا گھر بہار میں ویراں نہ تھا کبھی

وہ روحِ خیال و جانِ مضموں
دل اس کو کہاں سے ڈھونڈ لائے

پھر اہلِ وفا کا دور ہو گا
ٹوٹے گا طلسمِ کم نگاہی

دل ترے بعد سو گیا ورنہ
شور تھا اس مکاں میں کیا کیا کچھ

کلیاں مجھلی جاتی ہیں
سورج پھینک رہا ہے آگ

بہاریں لے کے آئے تھے جہاں تم
وہ گھر سنسان جنگل ہو گئے ہیں

یہاں تک بڑھ گئے آلامِ ہستی
کہ دل کے حوصلے شل ہو گئے ہیں

بقدرِ تشنہ لبی پُرسشِ وفا نہ ہوئی
چھلک کے رہ گئے تیری نظر کے پیمانے

رنگ کُھلے صحرا کی دھوپ
زُلف گھنے جنگل کی رات

دیکھ محبت کا دستور
تُو مجھ سے میں تجھ سے دور

دوست بچھڑتے جاتے ہیں
شوق لیے جاتا ہے دُور

دیکھ خیالِ خاطر دوست
بازی جیت کے ہارے ہم

گزر رہے ہیں عجب مرحلوں میں دیدہ و دل
سحر کی آس تو ہے زندگی کی آس نہیں

سایۂ زلفِ بتاں میں ناصرؔ
ایک سے ایک نئی رات آئی

ناصرؔ کاظمی کے شعری مجموعے برگِ نَے سے منتخب اشعار

آنکھ کھلتے ہی چھپ گئی ہر شے
عالمِ بے خودی میں کیا کچھ تھا

مری بربادیوں پر رونے والے
تجھے محوِ فغاں دیکھا نہ جائے

کبھی روئے کبھی تجھ کو پکارا
شبِ فرقت بڑی مشکل سے گزری

ناصرؔ ہم کو رات ملا تھا تنہا اور اُداس
وہی پُرانی باتیں اس کی وہی پرانا روگ

ترے شہرِ طرب کی رونقوں میں
طبیعت اور بھی گھبرا رہی ہے

نصیبِ عشق دلِ بے قرار بھی تو نہیں
بہت دنوں سے ترا انتظار بھی تو نہیں

رشتۂ جاں تھا کبھی جس کا خیال
اُس کی صورت بھی تو اب یاد نہیں

میٹھی بولی میں پپیہے بولے
گنگناتا ہوا جب تُو نکلا

اہلِ دل سیرِ چمن سے بھی گئے
عکسِ گل سایۂ گیسو نکلا

اوّلیں چاند نے کیا بات سجھائی مجھ کو
یاد آئی تری انگشتِ حنائی مجھ کو

شہرِ لاہور تری رونقیں دائم آباد
تری گلیوں کی ہوا کھینچ کے لائی مجھ کو

کبھی کبھی تو جذبِ عشق مات کھا کے رہ گیا
کہ تجھ سے مل کے بھی ترا خیال آ کے رہ گیا

ایسا مشکل نہیں ترا ملنا
دل مگر جستجو کرے کچھ تو

گھر کے دیوار و در راہ تک تک کے شل ہو گئے
اب نہ آئے گا شاید کوئی سو رہو سو رہو

یہ سانحہ بھی محبت میں بارہا گزرا
کہ اُس نے حال بھی پوچھا تو آنکھ بھر آئی

بچھڑ کے تجھ سے ہزاروں طرف خیال گیا
تری نظر مجھے کن منزلوں میں چھوڑ گئی

یہ اور بات کہ دنیا نہ سُن سکی ورنہ
سکوتِ اہلِ نظر ہے بجائے خود آواز

عروج پر ہے مرا درد ان دنوں ناصرؔ
مری غزل میں دھڑکتی ہے وقت کی آواز

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تری یاد تھی اب یاد آیا

چلو کہ برف پگھلنے کی صبح آ پہنچی
خبر بہار کی لایا ہے کوئی گل پارا

میں اپنا عقدۂ دل تجھ کو سونپ دیتا ہوں
بڑا مزا ہو اگر وا نہ کر سکے تُو بھی

وجہِ تسکیں بھی ہے خیال اُس کا
حد سے بڑھ جائے تو گراں بھی ہے

کوئی رہ رہ کے یاد آتا ہے
لیے پھرتی ہے کوئی باس اُداس

میں تیرے درد کی طغیانیوں میں ڈوب گیا
پکارتے رہے تارے اُبھر اُبھر کے مجھے

خامشی حاصلِ موسیقی ہے
نغمہ ہے نغمہ نما غور سے سُن

یارو کو نصیب سرفرازی
مجھ کو تری گردِ راہ رہنا

ناصرؔ یہ وفا نہیں جنوں ہے
اپنا بھی نہ خیر خواہ رہنا

رقص کرتی ہوئی شبنم کی پری
لے کے پھر آئی ہے نذرانۂ گُل

جب سے دیکھا ہے ترے ہات کا چاند
میں نے دیکھا ہی نہیں رات کا چاند

اُس گُلِ تر کی یاد میں تا صبح
رقصِ شبنم رہا ہے آنکھوں میں

دھیان کی سیڑھیوں پہ پچھلے پہر
کوئی چپکے سے پاؤں دھرتا ہے

دل تو میرا اُداس ہے ناصرؔ
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

بے حجابانہ انجمن میں آ
کم سخن محفلِ سخن میں آ

کیوں نہ اُ س کم نما کو چاند کہوں
چاند کو دیکھ کر جویاد آئے

شہر خلقِ خدا سے بیگانہ
کارواں میرِ کارواں سے دُور

تیرے زندانیوں کی کون سنے
برق چمکی ہے آشیاں سے دُور

چیختی ہیں ڈراؤنی راتیں
چاند نکلا ہے آسماں سے دُور

چاند نکلا تو ہم نے وحشت میں
جس کو دیکھا اُسی کو چوم لیا

اشارا کرے جو نئی زندگی کا
ہم اُس خودکُشی کو روا جانتے ہیں

اُڑ گئے شاخوں سے یہ کہہ کر طیور
اس گلستاں کی ہوا میں زہر ہے

دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہو گا

کون دیکھے گا طلوعِ خورشید
ذرّہ جب دیدۂ بینا ہو گا

ہم نے ایجاد کیا تیشۂ عشق
شعلہ پتھر میں نہاں تھا پہلے

ہم نے محفوظ کیا حسنِ بہار
عطرِ گُل صرفِ خزاں تھا پہلے

دل ٹپکنے لگا ہے آنکھوں سے
اب کسے رازداں کرے کوئی

کس کے جلووں کی دھوپ برسی ہے
آج تو شام بھی سحر سی ہے

ریت کے پھول آگ کے تارے
یہ ہے فصلِ مراد کا گہنا

اُس نے منزل پہ لا کے چھوڑ دیا
عمر بھر جس کا راستا دیکھا

بہت ہی سادہ ہے تُو اور زمانہ ہے عیار
خدا کرے کے تجھے شہر کی ہوا نہ لگے

عالمِ خواب میں دکھائے گئے
کب کے ساتھی کہاں دکھائے گئے

ڈھونڈیں کے لوگ مجھ کو ہر محفلِ سخن میں
ہر دور کی غزل میں میرا نشاں ملے گا

برگِ نَے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *