ناصرؔ کاظمی صاحب کے شعری مجموعے’’دیوان‘‘ سے منتخب اشعار

ناصرؔ کاظمی صاحب کے شعری مجموعے’’دیوان‘‘ سے منتخب اشعار

انتخاب: عبداللہ نعیم رسول

یہ کیا کہ ایک طور سے گزرے تمام عمر
جی چاہتا ہے اب کوئی تیرے سوا بھی ہو

دیوانگئ شوق کو یہ دھن ہے ان دنوں
گھر بھی ہو اور بے در و دیوار سا بھی ہو

نہ ملا کر اداس لوگوں سے
حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں

پھر ساون رُت کی پون چلی تم یاد آئے
پھر پتوں کی پازیب بجی تم یاد آئے

کپڑے بدل کر بال بنا کر کہاں چلے ہو کس کے لیے
رات بہت کالی ہے ناصر گھر میں رہو تو بہتر ہے

تصوّر نے اسے دیکھا ہے اکثر
خرد کہتی ہے جس کو لامکانی

ناصرؔ آشوبِ زمانہ سے غافل نہ رہو
کچھ ہوتا ہے جب خلقِ خدا کچھ کہتی ہے

ہم نے دیکھے ہیں وہ سناٹے بھی
جب ہر اک سانس صدا ہوتی ہے

اک نیا دور جنم لیتا ہے
ایک تہذیب فنا ہوتی ہے

شور برپا ہے خانۂ دل میں
کوئی دیوار سی گِری ہے ابھی

یاد کے بے نشاں جزیروں سے
تیری آواز آ رہی ہے ابھی

یوں تو ملنے کو وہ ہر روز ملا کرتا ہے
دیکھ کر آج اسے آنکھ بہت للچائی

آج تو بے سبب اداس ہے جی
عشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھی

گونگا ہے تو لب بستوں سے آدابِ سخن سیکھ
اندھا ہے تو ہم ظلم رسیدوں سے چمک لے

ہم سے پہلے زمینِ شہرِ وفا
خاک تھی،کیمیا ہمیں سے ہوئی

تم آ گئے ہو تو کیوں انتظارِ شام کریں
کہو تو کیوں نہ ابھی سے کچھ اہتمام کریں

تُو آنکھوں سے اوجھل ہوتا جاتا ہے
دُور کھڑے ہم خالی ہاتھ ہِلاتے ہیں

چراغ بن کے وہی جھلملائے شامِ فراق
بچا لیے تھے جو آنسو برائے شامِ فراق

زندگی جن کے تصور سے جِلا پاتی تھی
ہائے کیا لوگ تھے جو دامِ اجل میں آئے

عجب ہے رات سے آنکھوں کا عالم
یہ دریا رات بھر چڑھتا رہا ہے

شب کی تنہائیوں میں پچھلے پہر
چاند کرتا ہے گفتگو ہم سے

تمام عمر جہاں ہنستے کھیلتے گزری
اب اس گلی میں بھی ہم ڈرتے ڈرتے جاتے ہیں

منّتِ نا خدا نہیں منظور
چاہے اس کو خدا کہے کوئی

کہتے ہیں غزل قافیہ پیمائی ہے ناصرؔ
یہ قافیہ پیمائی ذرا کر کے تو دیکھو

اہلِ دل آنکھ جدھر کھولیں گے
اک دبستانِ ہنر کھولیں گے

یوں تو شبنم بھی ہے دریا
یوں تو دریا بھی پیاسا ہے

مری خموش نگاہوں کو چشمِ کم سے نہ دیکھ
میں رو پڑوں تو دلوں کے طبق ہِلا دوں گا

میں نے تو اک بات کہی تھی
کیا تُو سچ مُچ رُوٹھ گیا ہے

چاند نکلا افق کے غاروں سے
آگ سی لگ گئی درختوں میں

خوشبوؤں کی اداس شہزادی
رات مجھ کو ملی درختوں میں

ناصرؔ کاظمی صاحب کے شعری مجموعے’’دیوان‘‘ سے منتخب اشعار

جنھیں زندگی کا شعور تھا اُنھیں بے زری نے بچھا دیا
جو گراں تھے سینۂ خاک پر وہی بن کے بیٹھے ہیں معتبر

جاہلوں کی کھیتی
پھول پھل رہی ہے

اتفاقاتِ زمانہ بھی عجب ہیں ناصرؔ
آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے

جی جلاتی ہے اوس غربت میں
پاؤں جلتے ہیں گھاس پر دیکھو

یوں تو تم روشنئ قلب و نظر ہو لیکن
آج وہ معجزہ دِکھلاؤ کہ کچھ رات کٹے

اب شہر میں اس کا بدل ہی نہیں کوئی ویسا جانِ غزل ہی نہیں
ایوانِ غزل میں لفظوں کے گُلدان سجاؤں کس کے لیے

تُو نے تاروں سے شب کی مانگ بھری
مجھ کو اک اشکِ صبحگاہی دے

مرتا نہیں اب کوئی کسی کے لیے ناصرؔ
تھے اپنے زمانے کے جواں اور طرح کے

جدائیوں کے زخم دردِ زندگی نے بھر دیے
تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آگیا

رفتگاں کا نشاں نہیں ملتا
اُگ رہی ہے زمیں پہ گھاس بہت

سنگِ منزل سے کیوں نہ سر پھوڑوں
حاصلِ زحمتِ سفر ہے یہ

کوئی دیکھے تو دکھاؤں ناصرؔ
وسعتِ ارض و سما ہے دل میں

جہاں میں یوں تو کسے چین ہے مگر پیارے
یہ تیرے پھول سے چہرے پہ کیوں اُداسی ہے

برف کے ہاتھ پیانو بجاتے رہیں
جام چلتے رہیں مَے اُچھلتی رہے

شوق کیا کیا دکھائے جاتا ہے
دل تجھے بھی بھُلائے جاتا ہے

کڑوے خواب غریبوں کے
میٹھی نیند امیروں کی

میں خزاں کی شام ہوں
رُت بہار کی ہے تُو

کشتیوں کی لاشوں پر
جمگھٹا ہے چیلوں کا

اس انقلاب کی شاید خبر نہ تھی ان کو
جو ناؤ باندھ کے سوتے رہے کنارے پر

مری بھری ہوئی آنکھوں کو چشمِ کم سے نہ دیکھ
کہ آسمان مقیّد ہے ان حبابوں میں

ہر آن دل سے الجھتے ہیں دو جہان کے غم
گِھرا ہے ایک کبوتر کئی عقابوں میں

مرا تو خوں ہو گیا ہے پانی سِتمگروں کی پلک نہ جھپکی
جو نالہ اٹھا تھا رات دل سے نہ جانے کیوں بے اثر گیا وہ

انھی کے دم سے فروزاں ہے ملّتوں کا چراغ
زمانہ صحبتِ اربابِ فن کو ترسے گا

عمارتیں تو جل کے راکھ ہو گئیں
عمارتیں بنانے والے کیا ہوئے

میں تو بیتے دِنوں کی کھوج میں ہوں
تُو کہاں تک چلے گا میرے ساتھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *