ناصرؔ کاظمی صاحب کے شعری مجموعے’’پہلی بارش‘‘ سے منتخب اشعار

ناصرؔ کاظمی صاحب کے شعری مجموعے’’پہلی بارش‘‘ سے منتخب اشعار

انتخاب: عبداللہ نعیم رسول

میں نے جب لکھنا سیکھا تھا
پہلے تیرا نام لکھا تھا

پہلی بارش بھیجنے والے
میں ترے درشن کا پیاسا تھا

تیرے عکس کی حیرانی سے
بہتا چشمہ ٹھہر گیا تھا

پتھّر کا اک سانپ سنہرا
کالے پتھّر سے لپٹا تھا

بالوں میں تھی رات کی رانی
ماتھے پہ دن کا راجا تھا

ناصرؔ کاظمی

اک رخسار پہ زلف گِری تھی
اک رخسار پہ چاند کِھلا تھا

گئے دنوں کی خوشبو پا کر
میں دوبارہ جی اٹھا تھا

آج وہ سیڑھی سانپ بنی تھی
کل جہاں خوشبو کا پھیرا تھا

تُجھ بِن گھر کتنا سُونا تھا
دیواروں سے ڈر لگتا تھا

میں اِس جانب تُو اُس جانب
بیچ میں پتھّر کا دریا تھا

دیکھ کے دو جلتے سایوں کو
میں تو اچانک سہم گیا تھا

زرد گھروں کی دیواروں کو
کالے سانپوں نے گھیرا تھا

وہم کی مکڑی نے چہرے پر
مایوسی کا جال بُنا تھا

بارہ سکھیوں کا اک جھرمٹ
سیج پہ چکّر کاٹ رہا تھا

چاند کے دل میں جلتا سورج
پھول کے سینے میں کانٹا تھا

کتنی تیز اُداس ہوا تھی
دل کا چراغ بُجھا جاتا تھا

ناصرؔ کاظمی

ناصرؔ کاظمی صاحب کے شعری مجموعے’’پہلی بارش‘‘ سے منتخب اشعار

تیرے شہر کا اسٹیشن بھی
میرے دل کی طرح سُونا تھا

کیسے کہوں رُوداد سفر کی
آگے موڑ جُدائی کا تھا

پل پل کانٹا سا چُبھتا تھا
یہ ملنا بھی کیا ملنا تھا

یہ کانٹے اور تیرا دامن
میں اپنا دُکھ بھول گیا تھا

اِک اُجڑے سے اسٹیشن پر
تُو نے مجھ کو چھوڑ دیا تھا

روتے روتے کون ہنسا تھا
بارش میں سورج نکلا تھا

تنہائی کا دُکھ گہرا تھا
میں دریا دریا روتا تھا

چھوڑ گئے جب سارے ساتھی
تنہائی نے ساتھ دیا تھا

تنہائی میں یادِ خدا تھی
تنہائی میں خوفِ خدا تھا

کِس کِس بات کو روؤں ناصرؔ
اپنا کہنا ہی اتنا تھا

ناصرؔ کاظمی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *