بہ عنوانِ نئی ردیف (احمد فراز ایوارڈ) مشاعرہ

ahmad faraz award mushiara

رپورٹ: نفیسؔ ناندوروی صاحب

محترم امین اڈیرائی صاحب کے دھماکہ خیز آئیڈیا اور محترم توصیف ترنل صاحب کی بے لوث جنونی ادبی خدمات نے اِس منفرد سفر کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ادارے کی جانب سے 02/12/2017 بروز سنیچر، شام 7 بجے، 127واں پروگرام بہ عنوانِ نئی ردیف(احمد فراز ایوارڈ) مشاعرہ منعقد کیا۔ ھٰذا مشاعرہ، آنلائن اردو ادب میں اپنی ایک منفرد تاریخ رقم کرگیا۔ اس محفلِ مشاعرہ کے صدر محترم انؔیس بھٹکلی صاحب (انڈیا) اور مہمانانِ خصوصی محترم مائل پالدھوی صاحب سورت (انڈیا) رہیں، نیز محترم علیم طاہر صاحب (انڈیا) نے اپنے منفرد لب ولہجہ اور دَمدار اندازِ نظامت سے محفلِ مشاعرہ میں جادوئی سَما باندھ دیا۔

whatsapp-image-2017-11-28-at-12-24-36

مشاعرہ کا باقائدہ آغازربِّ ذوالجَلال کی پاک وشفّاف حَمد وثنا کے ساتھ محترم ڈاکٹر نبیل احمد نبیل صاحب (پاکستان) نے پیش کیافرماتے ہیں۔

میرے مولا تری قدرت کو بیاں کیسے کروں
اپنے جذبات کو لفظوں سے عیاں کیسے کروں
محترم ڈاکٹرنبیل احمدنبیل صاحب(پاکستان

رسول اکرم نُور مُجسّم محمّدﷺ کی شانِ اقدس میں نعتیہ کلام کا نظرانۂ عقیدت محترم طارق تاسی صاحب لاہور پاکستان نے پیش کیا…حمدیہ اور نعتیہ کلام کے بعد معمول کے مطابق شعرائے عالم نے ذاتی مع نئی ردیف پر اپنے اپنے کلام اور کمالِ فن کے قیمتی موتی بکھیرتے ہوئے محفلِ مشاعرہ میں چار چاند لگا دئیے۔

عشقِ نبی نہ پوچھ رِیا کار میں نہیں
رَحمان کی عَطا سے محبّت نفیسؔ ہے
نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی(انڈیا

دینے لگے ہیں آج حیا کو خراجِ فن
ا لفا ظ تا جد ار معانی پرت پرت
محترمہ نفیسہ حیا صاحبہ(انڈیا

کرب جیسی ہے تُو مرے اندر
اشک جیسا بہوں حقیقت میں
محترم علیم طاہر صاحب (انڈیا

یہ فیضِ اخترؔ و احمد فرازؔ ہے کاشرؔ
کہ میں بھی کہہ سکوں ہوں،ہےمعاملہ یوں ہے
محترم شوزیب کاشر صاحب (کشمیر

img-20171115-wa0019

ہوگئی ہے کیوں ردائے شرمساری تار تار
بےحیامیں بھی نہ تھا,تم بھی نہ تھے,پھرکون تھا؟
محترم شکیل انجم صاحب (انڈیا

طبیعت بے قراری پر اُتر آئے ظہیر احمد
جو لے انگڑائی کوئی آرزو تو شعرہوتا ہے
محترم ظہیر احمد صاحب(کشمیر

کیوں ارم مجھ میں چھایا سناّٹا
ہر طرف بے شمار شور و غل
محترمہ انبساط ارم صاحبہ(انڈیا)

وہ سڑکیں ناپتا پھرتا ہے آج کل مختار
پرانا گھر جو سمجھ کر کمینہ بیچ آیا
محترم مختار تلہری صاحب(انڈیا

جسمیں چہروں کوپَرکھنےکا ہُنر ہو مائل
ایسی تعلیم دعاوں میں لٹائ جاۓ
محترم مائل پالدھوی صاحب(انڈیا

دنیا کو انتظار ہے جس صبح کا فصیح
وہ صبحِ انقلاب مری دسترس میں ہے
محترم شاہین فصیح ربانی صاحب(عمان

کون سنتا ہے وہاں تیری صدائیں “مینا”
اپنےگھر شہرِخموشاں کی طرح واپس آ
محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ(انڈیا

زندگی بخشی جسے دستِ گدائی نے امین
اک شہنشاہ کی شاہی نے اسے مار دیا
محترم امین اڈیرائی صاحب(پاکستان

img-20171115-wa0029

تو بنا کے پھر سے بگاڑ دے ، مجھے چاک سے نہ اُتارنا
رہوں کو زہ گر ترے سامنے، مجھے چاک سے نہ اُتارنا
محترم شہزاد نیّر صاحب (پاکستان

بین الاقوامی سطح پر منعقد اس پروگرام میں دنیا بھر کے شعرائے اکرام نے نئی ردیف کے ذریعے اپنی ایک الگ پہچان بنانے کے لئے اپنی زمینوں میں غزلیں کہیں… اور پروگرام کے آخر میں ججیز کمیٹی نے بلا تفاوت اوّل نمبر پر آنے والی بہترین نئی ردیف کا اعلان کیا… جس کی تخلیق کار محترمہ نفیسہ حیا صاحبہ(انڈیا) کو احمد فراز ایوارڈ سے نوازہ گیا۔ بین الاقوامی سطح پر حالیہ منعقد پروگرام “نئی ردیف (احمد فراز)ایوارڈ مشاعرہ” کے ذریعہ بہترین ادبی کارنامہ سر انجام دیا گیا ہے جس نے ادب و ثقافت کو جلا بخشی اور طے پایا کہ ادب اس مُشک کی مانند ہے جس کی خوشبو بِلا تفاوت ہر سمت پھیلتی ہے۔ اس تاریخی پروگرام میں شریک معزّز موصوفیانِ اردو ادب اور تمامی رفقائے بزم کو ادارے کی جانب سے مبارکباد… ساتھ ہی ادارۂ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کی انتظاميہ بالخصوص گولڈ میڈلسٹ محترم توصيف ترنل صاحب کو بے لوث خدمتِ اردو ادب کیلئے قلبی تہنیت پیش کرتا ہوں۔

مقالہ: نئی ردیف

مقالہ نگار: علیم طاہر

img-20171115-wa0020

ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری کے زیرِ اہتمام ایک سو ستائیس واں منفرد پروگرام بعنوان ” نئی ردیف” کا انعقاد عمل میں آگیا ہے ـ اس عنوان کے تحت تمام شعرائے کرام اپنی غزلیات سے ایسی غزل پیش کریں گے جو ان کے مطابق یا حقیقتاً بالکل نئی اور منفرد ہو ـ کمیٹی تین ایسی غزلوں کا انتخاب عمل میں لائے گی جو بہترین اور نئی ہو ـ پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے شاعر کو احمد فراز ایوارڈ سے بھی نوازا جائے گا ـ اور دوسرے تیسرے نمبر پانے والے شعراء کو اسناد سے سرفراز کیا جائے گا ـ ایسی منفرد شرائط پر آج کے عظیم الشان مشاعرہ کا انعقاد بھی عمل میں آیا ہے ـ یہ بہت بڑی بات ہےـ

آئیے اب ہم گفتگو کریں “نئی ردیف ” کے متعلق ـ شاعر کا کلام شاعر کی اپنی شناخت کہلاتا ہے ـ شاعر کی کہی ہوئی غزل میں اس غزل کا قافیہ، اس غزل کا مواد، اس غزل کی ردیف، اس غزل کے فنّی تقاضے، اس غزل کی صحتِ زبا ن، اس غزل کی روانی،اس غزل کی برجستگی، اس غزل میں شعریت، اشاریت ،رمزیت، معنویت، کلاسیکیت، موسیقیت، کی جاذبیت، وغیرہ تمام خوبیاں اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔

 

img-20171115-wa0017

ان تمام خوبیوں میں نئی ردیف کی خوبی کو نظر انداز قطعی نہیں کیا جا سکتاـ کیونکہ نئی ردیف کو نبھانے کے لیے بھی فنّی مہارت کی ضرورت پیش آتی ہےـ زبان و بیان کی علمیت کے بغیر نئی ردیف کو بہتر سلیقے سے نبھایا نہیں جا سکتاـ اکثر وبیشتر مشاہدے کے مطابق شعراء حضرات سینئر شعراء کی زمینوں اور ردیفوں میں طبع آزمائی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اپنی نئی ردیف نکالنے کی زحمت نہیں کرتےـ تقلیدی عمل میں سہولت کے سبب انہیں لطف محسوس ہوتا ہےـ یا یوں کہہ لیجئے کہ پکا پکایا کھانا کھاتے ہیں۔ انسانی فطرت آسانیوں کی جانب زیادہ مائل ہوتی ہےـ مگر سلام ان صلاحتوں کو جو ہمہ وقت نئے راستے تلاشنے اور ان پر نئی منزلیں کھوجنے میں مشغول رہتی ہیں۔ ایسی ہی صلاحتیں جب سے دنیا وجود میں آئی تب سے نہ صرف مقبولِ عوام رہی بلکہ قابلِ تقلید اور قابل ِ رشک بھی رہی ہیں۔

img-20170829-wa0006

آج نئی ردیف پر توجہ مرکوز کرنےکا اہم مقصد یہ بھی ہے کہ شعرائے کرام خودکفیل بنےـ اپنی زمینیں اپنی ردیفیں اپنے قافیے نکالنے کی جانب پیش قدمی کریں۔ ہرعہد کے شعری منظر نامے تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن فنّی تقاضے اپنی جگہ قائم رہتے ہیں ـ شعرائے کرام کو چاہیئے کہ اردو ادب کو مزید دلچشپ بنانے کے لیے انہیں ابھی مزید محنتیں درکارہیں۔ اور اپنے تخلیقی الاؤ کو مزید دہکانے کی ضرورت ہےـ

ہم برادر توصیف ترنل صاحب کو مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ وہ مسلسل ادارہ عالمی بیسٹ اردو کے ذریعے اردو زبان و ادب کی خدمت کئے جارہے ہیں۔ برق رفتاری کے ساتھ مختلف پروگر امس دیئے جارہے ہیں۔ یہ واقعی تاریخی کارنامہ اور ناقابلِ فراموش خدمتِ اردو ادب ہےـ

img-20170829-wa0010

جسے وقتِ مستقبل بھی وقتِ حال کی طرح سنہرے حرفوں سے یہ تحریر کرنے میں فخر محسوس کرے گا کہ ” محترم توصیف ترنل صاحب ناقابلِ فراموش شخصیت ہیں۔ میں آجکے اس مشاعرے میں شریک تمام شعرائے کرام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ کہ اس منفرد پروگرا م سے ادبی دنیا میں نئی ردیف نکالنے اور نئی ردیف کو اہمیت دینے کا مزاج اور ماحول بنے گاـ جو ادب کے فروغ ہی کا ایک اہم اور بنیادی حصہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *