Naat e Rasool Maqbool Lyrics In Urdu

Naat e Rasool Maqbool Lyrics In Urdu

نعت رسول مقبول ﷺ پیش خدمت ہیں۔

شوزیب کاشر صاحب

تو سيّدِ عالم ہے رفعنا لک ذکرک
پیارے تجھے کیا غم ہے رفعنا لک ذکرک

اسحاق ؑ و براہیمؑ ترے جدِّ ممجّد
تو خود بھی مکرم ہے رفعنا لک ذکرک

بعثت میں تری ذات مؤخر ہے ولیکن
تو سب سے مقّدم ہے رفعنا لک ذکرک

محبوب ترے ذکر کی بالائی پہ شاہد
یہ آیتِ محکم ہے رفعنا لک ذکرک

کچھ یوں بھی تری ذات ہے اوصاف کی حامل
کچھ یوں بھی تو اکرم ہے رفعنا لک ذکرک

واصف ترا خود رب ہے تو ذاکر ترے قدسی
پیرو ترا آدم ہے رفعنا لک ذکرک

ہر آج ترا اور حسیں کل کی بنسبت
یہ بات مسلّم ہے رفعنا لک ذکرک

اک مژدۂ تسکین ہے نشرح لک صدرک
اک زمزمہ پیہم ہے رفعنا لک ذکرک

جاءوک تری شانِ مسیحائی کا چرچا
رحمت تری چھم چھم ہے رفعنا لک ذکرک

پابندِ یُصَلُّونَ ، وَصَلُّوا ملکوتی
انساں کا بھی سر خم ہے رفعنا لک ذکرک

پڑھتا ہے درود آپ پہ خود مالکِ کونین
یہ اوج کا عالم ہے رفعنا لک ذکرک

پابندئ اوقات نہیں ذکرِ نبی میں
ہر آن ، بہردم ہے رفعنا لک ذکرک

وَاستَغفَرَ امت کی شفاعت کی ضمانت
جو سب کو فراہم ہے رفعنا لک ذکرک

امت تری دوزخ کی اذیت سے ہے آزاد
تو کس لیے پرنم ہے رفعنا لک ذکرک

اے منکرِ میلاد لے کچھ ہوش کے ناخن
یہ نص بھی تجھے کم ہے رفعنا لک ذکرک

اسفل ”ھُوالابتَر” سے ابوجہل وغیرہ
”کوثر” سے تو اعظم ہے رفعنا لک ذکرک

” تَبَّت یَدَا” شامت ہے ترے بےاَدَبوں کی
تو کس لیے برہم ہے رفعنا لک ذکرک

واللّہ کہ اعدا ہیں ترے خائب و خاسر
اونچھا ترا پرچم ہے رفعنا لک ذکرک

طائف کے مبلغ سے تحمّل کا سبق سیکھ
جو خیرِ مجسّم ہے رفعنا لک ذکرک

مدّاحِ شہِ کون و مکاں ہوں ، مجھے کاشرؔ
کیا خوفِ جہنم ہے رفعنا لک ذکرک

شوزیب کاشر صاحب

Naat e Rasool Maqbool Lyrics In Urdu

اک پل کو بھی کر دیں وہ اگر فیضِ نظر،بند
کونین کے ہو جائیں وہیں قلب و جگر بند

مایوس ِ کرم لوٹ کر آتا نہیں کوئی
ہوتا نہیں منگتوں پہ کبھی آپ کا در بند

کس در پہ کہاں جاتی خدائی پئے بخشش
بشری کہ نہیں بابِ شہنشاہِ اَبَر بند

امداد کو آجانا وہاں بھی شہِ والا
محشر میں ہوا ہم پہ اگر بابِ ظفر بند

لاشے سے بھی آئے گی صدا صل علی کی
ہو جائیں گے جس دم یہ مرے قلب و نظر بند

جس سمت قدم رنجہ ہوئے جاگ اٹھے باگ
جا کھولے کئی آپ کی تشریف نے گھر بند

خود اپنی حفاظت میں اسے لے کے خدا نے
فرما دیا قرآن میں تحریف کا در بند

خواہش نہ رہے مجھ کو کہیں اور سفر کی
یوں جا کے میں ہو جاؤں مدینے میں نظر بند

اے کاش میں اس دور میں ہوتا تو اٹھا لیتا
سرکار کی کفشیں کبھی کوزہ کبھی سر بند

اب اور وسیلوں کی،دعاؤں میں طلب کیا
مخلوق پہ وا کر دئیے ابوابِ اثر بند

جب چاہوں مدینے میں پہنچ سکتا ہوں کاشر
مجھ ایسے تصور کا پرندہ نہیں پر بند

نوازش نازش مارولی صاحب

 

Naat e Rasool Maqbool Lyrics In Urdu نبی

افضل جن و ملک خیرالبشر میرے نبی
اور پھر ان سب کو ہیں محبوب تر میرے نبی

ہے دعا تحریر ہو ایسا سفر میرے نبی
دیکھنے میں جاؤں رحمت کا نگر میرے نبی

ہاتھ میں تلوار لے کر چل دیئے تھے قتل کو
پہنچے کیا دربار میں بولے عمرؓ میرے نبی

ہے تمنّا آخری باقی ہے جو عمر رواں
آپ کے قدموں میں ہوجائے بسر میرے نبی

ہیں میرے دن رات میری بات کے عینی گواہ
یاد آپ آتے ہیں مجھکو کس قدر میرے نبی

آپ کی مدح سرائی کا عجب فیضان ہے
مشک و عنبر ہے مرا باغِ جگر میرے نبی

کیا نظر کا مدعا ہے جانتا ہے رب علیم
ڈھونڈتی ہے کس کو نازش کی نظر میرے نبی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *