Naat e Rasool e Pak Lyrics | Naat e Rasool e Maqbool

Naat e Rasool e Pak Lyrics

نعتیہ کلام ﷺ قارئین کرام کے لئے پیش خدمت ہے۔

عادل حسین عادل صاحب

(اسلام کے بانی ہیں پیمبر ہیں محمّد(ص
(نورالہدیٰ ہیں نور کے پیکر ہیں محمّد(ص

ممکن ہی نہیں آپ(ص) کے جیسا ہو کوئی بھی
(گنجینۂ ثقلین کے گوہر ہیں محمّد(ص

ظلمت نہ وہاں سایۂ ظلمت کا نشاں ہے
(دن رات مدینے میں منوّر ہیں محمّد(ص

مظہر ہے نمازوں میں درودوں میں اُنہی(ص) کا
(تعمیلِ عبادات میں اکثر ہیں محمّد(ص

ہیں بزمِ رسالت میں بہت یوں تو ستارے
(محبوبِ خدا دین کے محور ہیں محمّد(ص

حرفوں میں مہکتی ہے صداقت ہی صداقت
(قرآن کی خوشبو سے معطّر ہیں محمّد(ص

باہر کے نظارو میں نہیں پاؤگے عادل
(مومن با دل و جان کے اندر ہیں محمّد(ص

نعتِ نبیﷺ

ﺭﻭﻧﻖ ﺍﻓﺮﻭﺯ ﺟﻮ ﻧﻮﺭ ﺍﻥﷺ ﮐﺎ ﺳﺮِ ﻋﺎﻡ ﻧﮧ ﮨﻮ
ﺳﺎﺭﮮ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﺎﻟﮯ ﮐﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﺎﻡ ﻧﮧ ﮨﻮ

ﮐﺎﺭﻭﺍﮞ ﺯﯾﺴﺖ ﮐﺎ ﺭﺍﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﭩﮑﺘﺎ ﮨﯽ ﺭﮨﮯ
ﻣﺸﻌﻞِ ﻋﺸﻖِ ﻣﺤﻤﺪﷺﺟﻮ ﺑﮩﺮ ﮔﺎﻡ ﻧﮧ ﮨﻮ

ﯾﺎﺩ ﺍٓﻗﺎﷺ ﮐﯽ ﺍﮔﺮ ﺍٓﺋﮯ ﻧﮧ ﻣﺸﻔﻖ ﺑﻦ ﮐﺮ
ﻗﻠﺐ ﮐﻮ ﭼﯿﻦ ﻧﮧ ﮨﻮ، ﺭﻭﺡ ﮐﻮ ﺍٓﺭﺍﻡ ﻧﮧ ﮨﻮ

ﺍﯾﮏ ﺫﯼ ﺭﻭﺡ ﺩﮐﮭﺎ ﺩﯾﺠﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ
ﺟﺲ ﭘﮧ ﺳﺮﮐﺎﺭﷺﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﮞ ﻧﮧ ﮨﻮ، ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻧﮧ ﮨﻮ

ﮔﻮ ﺩﮬﮍﮐﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﻣﺮﺩﮦ ﺩِﻝ ﮨﮯ
ﺟﺲ ﮐﯽ ﺩﮬﮍﮐﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺎ ﺍٓﭖﷺ ﮐﺎ ﺍﮐﺮﺍﻡ ﻧﮧ ﮨﻮ

ﻣﺎﻧﮕﻮ ﺍٓﻗﺎﷺ ﮐﮯ ﻭﺳﯿﻠﮯ ﺳﮯ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﻧﺎﺯﺵؔ
ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﯾﻮﮞ ﻣﺎﻧﮕﻮ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﺎﻡ ﻧﮧ ﮨﻮ
ﺣﻨﯿﻒ ﻧﺎﺯﺵؔ

نعتِ پاک ﷺ

Naat e Rasool e Pak Lyrics

زائرو حدِ ادب لاترفعوا اصواتکم
ہے درِ شاہِ عرب لاترفعوا اصواتکم

طبعِ سرور کی نزاکت کا رہے ہر دم لحاظ
ہے یہی فرمانِ رب لاترفعوا اصواتکم

چھوٹنے پائے نہ دامن ہاتھ سے تکریم کا
چاہے دن ہو یا ہو شب لاترفعوا اصواتکم

کوچۂ سرکار میں آواز مت کرنا بلند
خبط ہو جائے نہ سب لاترفعوا اصواتکم

دوسرے پیغمبروں کا مرتبہ ایسا کہاں
اُن کی ہے عظمت عجب لاترفعوا اصواتکم

ذہن میں ہے آیتِ مذکور اُٹھتے بیٹھتے
خامشی کا ہے سبب لاترفعوا اصواتکم

کاشرؔ اُن کی بارگہ میں قدسی و جن و بشر
کہہ رہے ہیں زیرِ لب لاترفعوا اصواتکم
شوزیب کاشرؔ

نعتِ رسولِ مقبول ﷺ

Naat e Rasool e Pak Lyrics

نہ چارسُو نہ کہیں چرخِ ہفتمیں سے ملا
خرد کو نکتہءتوحید شاہِ دیں سے ملا

جہاں کی دانش و حکمت میں یہ کمال کہاں
شعورِ زیست مدینے کی سر زمیں سے ملا

بھٹک رہی تھی حقیقت کی جُستجو میں نظر
درِ اِلہٰ مجھے راہِ شاہِ دیں سے ملا

کسے خبر تھی کہ ہم کیا ہیں؟یہ جہاں کیا ہے؟
یہ راز دولتِ قرآن کے امیں سے ملا

بہارِ عرش کی خُوشبو ہے جس کے دامن میں
وہ لامکاں کا چمن فرش کے مکیں سے ملا

جو دے سکا نہ مجھے کوئی عالمِ کُن میں
وہ راز خالقِ دوراں کے ہم نشیں سے ملا

مرے وُجود پہ رحمت کا سایہ ہے موجود
یہ مرتبہ مجھے سُلطانِ مُرسلیں سے ملا

نظر فروز ہے جس میں جمالِ منزلِ عشق
وہ قاعدہ مجھے سردارِ قائدیں سے ملا

جہاں جہاں وہ رُکے اور جہاں جہاں ٹھہرے
نشانِ منزلِ ایماں وہیں وہیں سے ملا

مرے حُضور کا ہے لُطفِ بے بہا کہ نبیل
نظر کو حُسن بھی محبوبِ عاشقیں سے ملا

ڈاکٹر نبیل احمد نبیل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *