مصطفی دلکش صاحب کی بہترین غزلیں

مصطفی دلکش صاحب کی بہترین غزلیں

خزاں کے دور میں کوئی قریب اتنا آ گیا
پلٹ کے جب گیا تو جانے کتنے گل کھلا گیا

میں چادر_حزیں میں تھا کوئی اسے ہٹا گیا
دھنک کے رنگ کی مجھے جو اک ردا اوڑھا گیا

ادب کے نام پر وہ ایک بدنما سا داغ ہے
دیار_میر میں غزل بھی میر کی سنا گیا

اسے مری محبتیں ستا رہی ہیں غالبا
دوپٹے سے لپٹ کے گلبدن وہ کسمسا گیا

سلگ رہے ہیں ہم اِدھر، سلگ رہے ہیں وہ ادھر
ہمارے درمیاں یہ کون آگ سی لگا گیا

خزاں رسیدہ تھا مری حیات کا ہر ایک پل
مگر مری حیات کو کوئی چمن بنا گیا

کسی نے بھول کر کیا نہ یاد اس غریب کو
وقار_ہند کیلئے جو اپنا سر کٹا گیا

کی میں نے جسکی پرورش بڑے ہی اعتماد سے
مجھے غموں کی دھوپ میں وہ آئنہ دکھا گیا

وہ کم سنی میں پھول تھا، جوانی میں کچھ اور ہے
جدھر سے بھی گزر گیا، اک آگ سی لگا گیا

نہ اس نے حالدل کہا، نہ میں نے حالدل کہا
وہ اپنا غم چھپا گیا، میں اپنا غم چھپا گیا

میں صدقے جاوءں ” دلکش ” ایسے گلبدن کے بار بار
کہ جس کے لمس سے میں آج عطر میں نہا گیا

دل مرا بے قرار سا ہے
نفس میں بھی شرار سا ہے

جانتا ہوں نہ آئے گا وہ
ہاں مگر انتظار سا ہے

اک فسردہ فسانہ دل پہ
کل بھی تھا اب بھی بار سا ہے

پاس بیٹھو ذرا مرے تم
حالِ دل سو گوا ر سا ہے

جشن دل کھول کر مناؤ
گلشنِ دل بہار سا ہے

آتے ہی مسکرا دیا میں
سمجھے وہ ساز گار سا ہے

گلسِتاں کا حسین گل تو
کچھ نہ کچھ میرے یار سا ہے

صورتِ یار دل میں میرے
اے مرے یار خار سا ہے

اس سے دلکش کبھی ملا تھا
مجھ کو اب بھی خمار ساہے

مصطفی دلکش صاحب کی بہترین غزلیں

جفا نہ کرنا ستم نہ کرنا ہمارے حق میں کبھی نہ کرنا
تمہیں قسم ہے ہماری جاں کی ہمارے حق میں کمی نہ کرنا

کہاں ہے آنا کہاں ہے جانا کسی سے کچھ بھی کبھی نہ کہنا
کہاں ملے تھے کہاں ملیں گے یہ ذکر ہر گز کبھی نہ کرنا

کبھی بھی آنکھوں کو نم نہ کرنا ستم کرے تجھ پہ لاکھ دنیا
محبتوں کی لاج رکھنا وفا میں ہرگز کمی نہ کر نا

نہ ذکر کرنا سلام کرنا کبھی بھی میرا نہ نام لینا
کبھی بھی ایسی خطانہ کرنا اے دلربا دشمنی نہ کرنا

بہت حسیں ہو جوان ہو تم نظر کہیں لگ نہ جائے میری
قدم قدم پر فریب دیتے ہیں لوگ تم دوستی نہ کرنا

خیال رکھنا یہ دل نہ ٹوٹے تمہیں قسم ہے ہمارے سر کی
سنو کبھی دل لگی نہ کرنا اے دلربا بے رخی نہ کر نا

مصطفی دلکش صاحب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *