Mushtaq Aajiz 2 Line Poetry

      No Comments on Mushtaq Aajiz 2 Line Poetry
Mushtaq Aajiz 2 Line Poetry

مشتاق عاجزؔ صاحب کے شعری مجموعے’’الاپ‘‘سے منتخب اشعار

انتخاب: عبداللہ نعیم رسول

اوڑھ رکھی تھی اداسی کی رِدا ماحول نے
کر رہا تھا اک مغنّی راگ بھیروں کا الاپ

اک ایک سانس کے لئے کاسہ لئے پھریں
ایسے بھی ہم نہیں ہیں طلب گار زیست کے

چھپا بیٹھا ہے اک دشمن حصارِ ذات کے اندر
شکستِ جسم سے پہلے اسے تسخیر کرنا ہے

گئے دن کا پرانا پیرہن پھر چاہیے مجھ کو
نئے دن کے لبادے میں گھٹن محسوس کرتا ہوں

چمن میں جشنِ بہاراں کا اہتمام کرو
کہ اک اسیر پرندے کے پر سلامت ہیں

ہم نے پلکوں سے تمہاری راہ کے کانٹے چنے
جانتے ہو! ہم تمھیں منزل پہ لائے کس طرح

کوئی سیّارہ تجھے اب گود لینے کا نہیں
تو نے آغوشِ زمین کو معتبر جانا نہ تھا

آگے بڑھا تو اپنی نگاہوں میں ہیچ تھا
پیچھے ہٹا تو لوگ اُٹھاتے تھے انگلیاں

دعوٰئِ پارسائی اپنی جگہ
اعترافِ گناہ لازم ہے

Mushtaq Aajiz 2 Line Poetry In Urdu

Mushtaq Aajiz 2 Line Poetry

کچھ ہے تو حقیقت سے جدا ہو نہیں سکتا
چاہے بھی تو انسان خدا ہو نہیں سکتا

کم نگاہی کا نہ طعنہ مجھے دینا عاجزؔ
تو کہ سورج تھا تجھے آنکھ میں بھرتا کیسے

وہ جس کی خاطر دیارِ دل میں دئیے جلائے
فصیلِ شہرِ بدن سے باہر ٹھہر گیا ہے

ہو سکے تو نِت نئی مشکل میں رہنا چاہیے
آدمی کو آدمی کے دل میں رہنا چاہیے

مرے رستے میں لوگوں نے وہ دیواریں اٹھائی ہیں
کہ اپنے گھر کا دروازہ بھی اب دیوار لگتا ہے

میں کر رہا تھا اہلِ زمیں کے ستم شمار
اتنے میں آسمان مرے سر پہ آ گِرا

خرد مندوں کے شہرِ بے ہنر میں
وہ زندہ تھا یہی اس کا ہنر تھا

مجھے جانا ہے اک لمبے سفر پر
اجازت چاہتا ہوں زندگی سے

Mushtaq Aajiz 2 Line Poetry

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *