آج کی شخصیت منشی نول کشور صاحب

آج کی شخصیت منشی نول کشور صاحب

انتخاب: مہر خان

افغانستان کے بادشاہ امیرعبدالرحمٰن نے1885 میں ہندوستان کا دورہ کیا جہاں گورنر جنرل لارڈ ڈفرن نے ان کے اعزاز میں دربار منعقد کیا۔ اس دربار میں ایک ہندو منشی کو راجوں مہاراجوں کے برابر جگہ دی گئی جس پر وہ برہم ہو گئے کہ یہ کس کو ہمارے درمیان لا بٹھایا ہے۔ گورنر جنرل نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا: ‘مجھے افسوس ہے کہ آپ جس ہستی کے بارے میں نہیں جانتے اس پر اعتراض کرتے ہیں۔ آپ لوگوں کو کیا معلوم کہ یہ منشی نول کشور ہیں۔

یہ سن کر شہنشاہِ افغانستان چونک اٹھے، اور منشی صاحب کو اپنے پاس تخت پر بٹھا کر کہا: ‘ہندوستان آ کر مجھے یہ شرف حاصل ہوا کہ آپ سے ملاقات ہو گئی۔ مجھے کسی اور بات سے اتنی خوشی نہیں ہوئی۔’ یہ تھے منشی نول کشور جنھوں نے 1858 میں لکھنو میں اس وقت چھاپہ خانہ قائم کیا جب جنگِ آزادی کے بعد ہندوستان زخموں سے چور چور تھا۔ منشی صاحب نے اپنے چھاپے خانے کی مدد سے ہندوستان کے ثقافتی ورثے کو محفوظ کر دیا ورنہ خدشہ تھا کہ کہیں یہ ذخیرہ ہمیشہ کے لیے ضائع نہ ہو جائے۔

منشی جی کا پریس اس قدر کامیاب ثابت ہوا کہ ہندوستان کی کسی بھی زبان کی کتاب اس میں شائع ہو کر نہ صرف پورے ملک میں بلکہ ملک سے باہر بھی خوشبو کی طرح پھیل جاتی تھی۔ منشی صاحب کے پریس میں دو ہزار سے زیادہ کتابیں شائع ہوئیں اور اپنے عروج کے زمانے میں اس کے عملے کی تعداد 200 سے زیادہ تھی۔ جب ایران کے بادشاہ ہندوستان آئے تو انھوں نے کہا کہ میں صرف دو لوگوں سے ملنے آیا ہوں، ایک گورنر جنرل اور دوسرے منشی نول کشور۔ اردو کے اس عظیم محسن کا انتقال 19 فروری 1895 میں 59 برس کی عمر میں ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *