کلیاتِ منیر نیازی سے منتخب اشعار

کلیاتِ منیر نیازی سے منتخب اشعار

انتخاب: عبداللہ نعیم رسول

شرماتے ہوئے بندِ قبا کھولے ہیں اس نے
یہ شب کے اندھیروں کے مہکنے کی گھڑی ہے

صبحِ کاذب کی ہوا میں درد اتنا تھا منیرؔ
ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا

آیا وہ بام پر تو کچھ ایسالگا منیرؔ
جیسے فلک پہ رنگ کا بازار کھل گیا

لاکھ پلکوں کو جھکاؤ،لاکھ گھونگھٹ میں چھپو
سامنا ہو کر رہے گا دل کے موہن چور سے

اس کو بھی تو جا کر دیکھو،اس کا حال بھی مجھ جیسا ہے
چپ چپ رہ کر دکھ سہنے سے تو انساں مر جاتا ہے

کل میں نے اس کو دیکھا تو دیکھا نہیں گیا
مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی بہت غم سے چور تھا

جرم آدم نے کیا اور نسلِ آدم کو سزا
کاٹتا ہوں زندگی بھر میں نے جو بویا نہیں

جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیرؔ
غم سے پتھّر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں

یہی آن تھی مری زندگی،لگی آگ دل میں تو اُف نہ کی
جو جہاں میں کوئی نہ کر سکا وہ کمال کر کے دکھا دیا

اس آخری نظر میں عجب درد تھا منیرؔ
جانے کا اس کے رنج مجھے عمر بھر رہا

آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے
ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے

مدّت کے بعد آج اسے دیکھ کر منیرؔ
اک بار دل تو دھڑکامگر پھر سنبھل گیا

منیرؔ حسنِ باطنی کو کوئی دیکھتا نہیں
متاعِ چشم کھو گئی لباس کی تراش میں

عہدِ انصاف آ رہا ہے منیرؔ
ظلم دائم ہوا نہیں کرتا

میں سن رہا ہوں اسے،جو سنائی دیتا نہیں
میں دیکھتا ہوں اسے،جو دکھائی دیتا نہیں

زندہ لوگوں کی بود و باش میں ،ہم
مردہ لوگوں کی عادتیں باقی

وہ قیامتیں جو گزر گئیں
تھیں امانتیں کئی سال کی

کلیاتِ منیر نیازی سے منتخب اشعار

منیر نیازی

ڈر کے کسی سے چھپ جاتا ہے جیسے سانپ خزانے میں
زر کے زور سے زندہ ہیں سب خاک کے اس ویرانے میں

چار چپ چیزیں ہیں بحر و بر،فلک اور کوہسار
دل دہل جاتا ہے ان خالی جگہوں کے سامنے

جو ہنر جس میں نہیں ہے مدعی اس کا ہے وہ
کوئی اپنی اصل کواپنا نشاں کرتا نہیں

ساری زمین سارا جہاں راز ہی تو ہے
یہ بود و ہستِ کون و مکاں راز ہی تو ہے

وقت کس تیزی سے گزرا روزمرہ میں منیرؔ
آج کل ہوتا گیا اور دن ہوا ہوتے گئے

جو خبر پہنچی یہاں تک اصل صورت میں نہ تھی
تھی خبر اچھی مگر اہلِ خبر اچھے نہ تھے

چار دن اس حسنِ مطلق کی رفاقت میں کٹے
اور اس کے بعد سب دن اس کی حسرت میں کٹے

شہر کا تبدیل ہونا،شاد رہنا اور اداس
رونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیں

تری تلاش میں یوں تو کہاں کہاں نہ گئے
جہاں پہ جانا تھا ہم کو مگر وہاں نہ گئے

منیر نیازی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *