Mukhtar Talhari Interview By Touseef Turanal

      1 Comment on Mukhtar Talhari Interview By Touseef Turanal
Mukhtar Talhari Interview

انٹرویو: توصیف ترنل

اسلام عليكم و رحمۃ الله وبركاتہ
آن لائن ادو سلسلہ انٹرویو کے ساتھ حاضر ہوں آج کی ہماری مہمان شخصیت ہیں
مختار تلہری صاحب. مختار تلہری صاحب  ہندوستان کے صوبہ اتر پردیس میں ضلع شاہ جہانپور کے قصبہ تلہرکےایک چھوٹے سےگرام ڈبھورہ میں ایک غریب لیکن شریف خاندان میں یکم فروری 1960  عیسوی کومیری پیدائش ہوئی میرے والد گرامی جناب الحاج صوفی عظیم اللہ انصاری صاحب  ( جو ابھی تین سال قبل اس دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں ) نے بڑی جد و جہد کرکے حلال کمائی سے پریوار کی پرورش کی یہ ان کا فیضان اور اللہ پاک کا احسان ہے کہ آج بہر طور خوشحال زندگی گزارنے کا شرف حاصل ہو رہا ہے۔

تلہر ایک ایسا قصبہ ہے جہاں گلشن علم و ادب کی ہمیشہ آبیاری ہوتی رہی ہے اور آج بھی محترم استاد طاہر تلہری صاحب ( مرحوم ) کی قائم کردہ بزم ارباب-سخن کے زیر اہتمام ماہانہ طرحی نشستیں ایک درسگاہ کا کام کر رہی ہیں۔ محترم جناب ساجد شاہجہانپوری صاحب میرے بڑےاستاد بھائی ہیں جنکی شفقتیں ہمیشہ آپکو حاصل رہی ہیں. المختصر

Mukhtar Talhari Interview
آپ نےشاعری کا آغاز 1981 میں نعت گوئی سے ہوااور 1998 میں پہلا مجموعہ شہباز – قلم کے نام سے شائع ہوا جو غزلیات پر مشتمل ہے اوردوسرا مجموعہ سن 2000 میں پرتو-نور کے نام سے شائع ہوا جو نعتیہ کلام پر مشتمل ہے آپ کا کلام مختلف رسائل و اخبارات میں چھپتا رہتا ہے۔ علاوہ ازیں 1985 سے کبھی کبھار مشاعروں اور جلسوں کی نظامت کرنے کا شرف حاصل ہوتا رہتا ہے
وقتاً فوقتا” اعزاز بھی حاصل ہوتے رہتے ہیں۔ اورموجودہ صورتحال یہ ہے کہ آپکی کم از کم 1500 سو غزلیات اور قطعات و رباعیات اور کچھ نعتیہ کلام ہیں جنکو کسی وجہ سے کتابی شکل نہیں دے پا رہے ہیں۔

س: سب سے پہلے ایک روائتی سوال لفظوں سے رشتہ کب جڑا ؟ پہلا شعر کونسا کہا اگر یاد ہو ؟
مختار تلہری: سن 1981 میں محترم عبدالحمید عشرت تلہری صاحب ( مرحوم ) نے رغبت دلائی تو مجھے پتا چلا کہ میرے اندر بھی ایک شاعر چھپا بیٹھا ہے جسکو سامنے لانے کی ضرورت ہے لہٰذا سب سے پہلے ایک نعت پاک کہنے کا شرف حاصل ہوا جس کا پہلا مطلع یہ ہے۔
ہم بھی ہیں اک آپکےادنٰی غلام
کیجئے ہم پر کرم خیرالانام

س: والدین کو جب پتہ چلا کہ ان کا صاحبزاد شعر کہتا ہے تو ان کا ردِ عمل کیا تھا ؟
مختار تلہری:اتفاق سے اسی دن ایک مشاعرہ تھا جسمیں مذکورہ نعت پڑھنا تھی میں نے جب والد صاحب سے جانے کی اجازت مانگی اور شعر سنائے تو بہت خوش ہوئے اور دعاوءں کے ساتھ اجازت دی اس کے بعد سے والدین اور بڑے بھائی کی حمایت ہمیشہ میرے ساتھ رہی

س: آپکا قلمی مختار تلہری ہے اس نام کو رکھنے کی کوئی خاص وجہ ؟
مختار تلہری: چونکہ میرا نام مختار احمد پہلے سے ہی تھا تو اور کوئی تخلص بدلنے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور تخلص کے طور پر بھی مختار ہی استعمال کر لیا اور کوئی وجہ نہیں

س: کیا کبھی کسی سے اصلاح لی ؟ کس شاعر کو خود کے لیے زیادہ موثر سمجھتے ہیں ؟
مختار تلہری: جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ محترم عبدالحمید صاحب جو رشتے میں خالو تھے نعت کے بہترین شاعر تھے نعتیں انکو دکھاتا رہا اور جب غزلیات سے تعلق ہوا تو باقاعدہ محترم طاہر تلہری صاحب کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنے کا شرف حاصل کیا

س: شاعری کے بارے میں آپ کا خیال کیا ہے شاعری کیا ہوتی ہے ؟ شاعری کا ذاتی زندگی پر کوئی مثبت یا منفی اثر اگر پڑا ہو تو ؟
مختار تلہری: میرے نذیک شاعری ایک احساسات و جذبات و کیفیات کو عروض کے اصولوں کی پابندی کے ساتھ نظم کرنے کا نام ہے جو شاعر کی روحانی غذا کا کام کرتی ہے اور یہ مثبت پہلو تصور کرتا ہوں اور ہاں جہاں تک منفی اثرات کا سوال ہے تو وہ صرف بیوی کو ناراض رکھنا ہے اسکے علاوہ کچھ نہیں

Mukhtar Talhari Interview

س: طنز و مزاح سے لگاو ؟ کیا کبھی شاعری کے علاوہ نثر میں کچھ لکھا ؟
مختار تلہری: طنز و مزاح کا تعلق صرف سنے تک رہا ہے اور محظوظ بھی ہوتا ہوں لیکن کہنے یا لکھنے کا ارادہ نہ تھا اور نہ ہے

س: موجودہ دور کی شاعری سے کس حد تک مطمئن ہیں ؟ حالات حاضرہ کے شعرا میں آپ کی پسند کا شاعر ؟
مختار تلہری: شاعری موجودہ دور کی ہو یا سابقہ دور کی اچھی شاعری کو ہی پسند کیا جاتا ہے جسمیں شاعرانہ محاسن ہوں اسی کو ہر دور میں پسند کیا جاتا رہا ہے نیز پسند کیا جاتا رہیگا۔ عہد حاضرمیں آپکے پسندیدہ شاعر محترم المقام جناب منتخب احمد خان نور صاحب ککرالوی ہیں اور وہ اسلئے نہیں کہ آپکے مرشد گرامی الشاہ محمد ثقلین میاں حضور کے بھائی ہیں بالکہ یقینا” وہ بےمثال شاعر ہیں

س: کسی ادبی گروہ سے وابستگی ؟ اردو ادب کی ترویح و ترقی کے لیے جو کام ہو رہا ہے کیا آپ اس سے مطمئن ہیں ؟
مختار تلہری: تلہر کی بزم ارباب-سخن اور بریلی کی بزم نورالادب سے ہمیشہ جڑاوء رہا ہے دوسرے سوال کے جواب میں یہ عرض کرونگا کہ جہاں اچھا کام ہو رہا ہے ظاہر ہے اس سے مطمئن نہ ہو نے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

س: محبت کے بارے میں کچھ بتائیے کیا آپ نے کبھی محبت کی ؟ کیا شاعر ہونے کے لیے محبت ضروری ؟
مختار تلہری: اس بارے میں کیا جواب دوں یہ صیغۂ راز میں رہنے دیجئے دوسرے سوال کے جواب میں نفی کا اظہار کر تا ہوں

س: جہاں سوشل میڈیا نے نئے لکھنے والوں کے لیے سہولیات دی ہیں وہاں پر کتب سے دوری بھی دی ہے ۔ آپ کے خیال میں وہ کتابوں کا دور ٹھیک تھا یا حال ٹھیک ہے ؟ کتابوں سے محبت کا کوئی ذریعہ ؟
مختار تلہری: جو حضرات علم و ادب سے جڑے ہوئے تھے اور ہیں وہ ہیں اور رہینگے حال بھی ٹھیک ہے اور ماضی بھی ٹھیک تھا میں دونوں سے متفق ہوں

س: کس بحر میں غزل پسند ہے ؟ آپ کا اپنا کوئی پسندیدہ شعر ؟
مختار تلہری: عموما” مترنم بحروں کو پسند کرتا ہوں وہ کوئی بھی ہو یوں تو اپنے سبھی شعر اچھے لگتے ہیں یہاں پر اپنا پسندیدہ یہ شعر پیش کر تا ہوں
مجھے مرنے کا ہر گز غم نہیں ہے خوف تو یہ ہے
نظر میں میرے قاتل کو مری اولاد رکھے گی

س: پہلی ملاقات میں سامنے والی شخصیت میں کیا دیکھتے ہیں آپ ؟
مختار تلہری: خوبیوں پر نظر رہتی ہے اور بس

س: غالب کے بارے میں آپ کی رائے ؟
مختار تلہری: المختصر غالب علی کل غالب
مختار تلہری صاحب کلام میں سے چند منتخب اشعار پیش خدمت ہیں۔

نہ جانے کون سی باتوں نے دل دکھایا ہے
کہ آج عارض-خوددار پر بھی آنسو ہیں

خلوت میں بھی سوچا تجھے جلوت میں بھی دیکھا
ہر رخ سے دلآویز تری جلوہ گری ہے

زعم-خودآرائی میں جب کوئی سنتا ہی نہیں
ایسے عالم میں کسے سمجھاوءں تیرے شہر میں

یادآتی ہےماضی کی تولگتاہےکہ اب بھی
آواز وہی کان میں رس گھول رہی ہے

روایت ہے اپنی کہ ظالم کے آگے
کٹا تو دیا سر جھکایا نہیں ہے

دریا کی طرح میں بھی اب آزاد ہو گیا
بس چل دیا ادھر کو جدھر راستہ ملا

بہت سستا ہے سودا مل کے تو دیکھو فقیروں سے
دعائیں کتنی دے جاتے ہیں وہ دو چار آنوں میں

اپنی عادت کے مطابق کوئی تہمت رکھ دو
اور لوگوں کی طرح میری بھی تشہیر سہی

تمہاری بات سر آنکھوں پہ لیکن
ہمارے ساتھ کچھ مجبوریاں ہیں

اس کے دل کی تہہ میں ہم اترے تو یہ عقدہ کھلا
روح کی گہرائیوں میں اک خلا پہلے سے تھا

Mukhtar Talhari Interview

سوچ کے جنگل سے نکلوں کس طرح
سوچنا   اک   مشغلہ   سا    ہو    گیا

بے کیف کہانی  کا میں اک باب ہوں یارو
اچھاہےکہ تم نےمجھےپڑھ کرنہیں دیکھا

شاید مری  زبان  کی  تاثیر اڑ گئی
بچہ بھی میری بات ہوا میں اڑاگیا

صبح سے میں شام تک تنہا یونہی پھرتا رہا
اور جب گھر میں گیا فکروں کا لشکر لےگیا

تشنگی پھرلےچلی ہمکوسرابوں کیطرف
پھر فریب-دل ہمیں منزل نظر آنے لگا

یوں تو فقرہ فقرہ زہر آلود تھا اس کا مگر
غور سے دیکھا تو ہر جملہ حکیمانہ ملا

اس کی آنکھوں کوسمندرلکھ کر
میری  آنکھوں  کو  جزیرہ لکھنا

اپنی جانب سے نہ تاریخ کے اوراق لکھو
چہرہء عصر کی تحریر کو پڑھ کر لکھنا

الٹ کردیکھتاہوں جب بھی ماضی کی کتابوں کو
میں اپنی  زندگی  کا  لمحہ  لمحہ دیکھ لیتا ہوں

جلا بیٹھا ہوں بازو گرمئ پرواز سے لیکن
غرور اتنا نہیں رہنے دیا ہے آسمانوں ک

1 comment on “Mukhtar Talhari Interview By Touseef Turanal

  1. Mohammed Farhathullah Khan

    waah waah ustaad e mohtram janab Mukhtar Tilhari sb. ke interview se bahut kuchh seekhne ko mila hai. mohtram aap salaamat rahiye … aameen.

    onlineurdu.com ke muntazmeen ka behad shukriya.

    😀

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *