Mukalma In Urdu Between Two Friends By Ahsan Shahzad

Mukalma In Urdu Between Two Friends By Ahsan Shahzad

مکالمہ

ازقلم: احسن شہزاد

قیوم: یارتمہیں نہیں لگتا کہ ہم اکثر اوقات اپنی عورتوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیتے ہیں
ادریس: کونسے بنیادی انسانی حقوق
قیوم: سانس لینے کا حق٬ تعلیم وترقی کا حق٬ اپنی آزاد اور خود مختار رائے رکھنے کا حق٬ اپنی پسند اور رضا سے شادی کرنے کا حق
ادریس: ہر چیز میسر ہے عورت کو٬ تمہارے جیسے لوگ بات کا بتنگڑ بنانا جانتے ہیں
قیوم: ایسا نہیں ہےمیں تو ایک مسئلے کی نشاندھی کررہا تھا۔ پاکستان میں اب بھی جنوبی پنجاب٬ اندرون سندھ خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور بالائی پنجاب کے اکثردیہی علاقوں میں عورتوں کی شادیوں کو لے کر وٹہ سٹہ، ونی اور قرآن سے شادی جیسی قبیح رسومات موجود ہیں

Mukalma In Urdu Between Two Friends By Ahsan Shahzad

ادریس: تمہیں پاکستان میں صرف یہی باتیں نظرآتی ہیں۔ یاوہی باتیں جو تمہارے مغربی آقا تمہیں سکھاتے ہیں۔
قیوم: تم اس موضوع کو غلط رنگ دے رہے ہو۔ اور ہر بات پر مغرب کو بیچ میں کیوں لےآتے ہو؟ میں نےتو صرف عورتوں کوآزادی اور حقوق فراہم کرنے کی بات کی ہے

ادریس: اورکتنی آزادی؟ تم دو دو ٹکے کےمغرب پرست اور نام نہاد روشن خیال مفکرین سے متاثر ہوکر ہمارے ملک میں بے حیائی، بدکاری، عریانی، فحاشی اور مادر پدر آزادی کو فروغ دینا چاہتے ہو۔ یاد رکھو ہماری غیرت وحمیت ان باتوں کو ہرگز گوارا نہیں کرتی۔ ہم اپنی بیٹیوں کو عاصمہ جہانگیر کے نقش قدم پر نہیں چلنے دیں گے

قیوم: یار تم خواہ مخواہ جذباتی ہو رہے ہو۔ اچھا یہ بتاؤ کہ اگر کوئی لڑکی کسی شخص سے محبت کرے، اوراس سے شادی کرنا چاہے۔ تواسے کیا کرنا چاہیے! نیز یہ کہ وہ شخص معاشرے کا ایک ذمہ دار شہری ہے اور مذہبی شعائر کی پاسداری بھی کرتا ہو

ادریس: شریف گھرانوںکی لڑکیاں عشق اورمحبت جیسی غیراخلاقی سر گرمیوں میں ملوث نہیں ہوتیں۔
قیوم: اورشریف گھرانوں کے لڑکے؟
ادریس: لڑکوں کی بات اور ہوتی ہے۔
قیوم: کیسے؟
ادریس: عورت خاندان کی عزت کی پاسبان ہوتی ہے۔ اگروہ ایسی حرکتوں پراتر آئے تومعاشرے میں تذلیل کا باعث ہوتی ہے
قیوم: خاندان کی عزت صرف عورت کی وجہ سے ہی کیوں ہوتی ہے؟ مرد کی کوئی عزت نہیں ہوتی؟

Mukalma In Urdu Between Two Friends By Ahsan Shahzad

ادریس: ہوتی ہے ۔۔ مگر اسکی حفاظت کی ذمہ داری عورت پر ہوتی ہے۔
قیوم: توعورت اپنی مرضی سے شادی نہ کرے؟
ادریس: ہرگز نہیں۔ عورتیں کم فہم ہوتی ہیں۔

قیوم: لڑکے اپنی پسند سے شادی کر سکتے ہیں؟
ادریس: ہاں
قیوم: کیوں؟
ادریس: لڑکوں کی بات اور ہے یار! اب کیسے سمجھاؤں تمہیں؟
قیوم: سمجھا دو
ادریس: چھوڑو ؛ تمہارے پلے نہیں پڑنی۔ تمہارے جیسے لنڈے کے لبرلز سمجھنا ہی نہیں چاہتے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *