مستحسن جامی صاحب کی بہترین غزلیں

مستحسن جامی صاحب کی بہترین غزلیں

انتخاب: عثمان عاطس

اب سوچ رہے ہیں یہاں کیا کیا نہیں دیکھا؟
نکلے جو تری سمت تو رستہ نہیں دیکھا

تو نے کبھی آنکھوں سے بہائے نہیں آنسو
تو نےکبھی دریاؤں کو بہتا نہیں دیکھا

پھر یوں ہے کہ سورج کو نہیں جانتا وہ شخص
جس نے مرے آنگن کا اندھیرا نہیں دیکھا

کرتے ھیں بہت بات یہ ویرانئ دل کی،
ان لوگوں نے شاید مرا حلیہ نہیں دیکھا

گو گردشِ دوراں میں ہیں دن رات مگر یاں
ھے ایسی سیاہی کہ سویرا نہیں دیکھا

اس شخص کو آیا نہیں ملنے کا سلیقہ
اس شخص نے اس سال بھی میلہ نہیں دیکھا

مستحسن جامی

muhammad-mustahsan-jaami-ghazals

کھیت ایسے سیراب نہیں ہوتے بھائی
اشکوں کے سیلاب نہیں ہوتے بھائی

ہم جیسوں کی نیند تھکاوٹ ہوتی ہے
ہم جیسوں کے خواب نہیں ہوتے بھائی

زندہ لوگ ہی ڈوب سکیں گے آنکھوں میں
مرے ہوئے غرقاب نہیں ہوتے بھائی

اب سورج کی ساری دنیا دشمن ہے
اب چہرے مہتاب نہیں ہوتے بھائی

ان جھیلوں میں پریاں روز اترتی ہیں
آنکھوں میں تالاب نہیں ہوتے بھائی

سوچیں ہیں جو دوڑ دوڑ کے تھکتی ہیں
تھکے ہوئے اعصاب نہیں ہوتے بھائی

مستحسن جامی

رنگ و صفاتِ یار میں دل ڈھل نہیں رہا
شعلوں کی زد میں پھول ہے اور جل نہیں رہا

وہ دھوپ ہے کہ پیڑ بھی جلنے پہ آ گیا
وہ بھوک ہے کہ شاخ پہ اب پھل نہیں رہا

لے آؤ میری آنکھ کی لَو کے قریب اسے
تم سے بجھا چراغ اگر جل نہیں رہا

ہم لوگ اب زمان و زمانہ سے دُور ہیں
یعنی یہاں پہ وقت بھی اب چل نہیں رہا

مستحسن جامی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *