محبت ھی محبت ھے

      No Comments on محبت ھی محبت ھے
محبت ھی محبت ھے

محبت ھی محبت ھے

ازقلم: راحیلہ بیگ چغتائی

میری فلائیٹ میں ابھی دو گھنٹے باقی تھے اور سامان کلیئر کروانے کے بعد میں نے ایک کپ کافی لےکر ویٹنگ ایریا میں آکر بیٹھ گئی اور اپنے وطن میں گزرا ھوا ایک ایک لمحہ آنکھوں کے آگے گھومنے لگا۔ وہیں پرویٹنگ ایریا میں دل کی ساری کیفیات کو مختلف انداز میں اپنے اردگرد کے مسافروں میں دیکھتے ھوئے کافی کے سپ لینے لگی۔ کہیں پرکوئی کسی کو جلدی آنے کی تسلیاں دے رہا تھا تو کوئی کسی اپنے کا دل بہلانے کے لئے پوچھ رہا تھا اچھا رونا بند کرو یہ بتاو تمھارے لئے کیا لے کر آؤں؟ کہیں کوئی سٹوڈنٹ اپنے والدین کو سمجھانے کی کوشش کرتا نظرآیا کہ اماں ابا پریشان نہ ھوں میں دل لگا کر پڑھوں گا اور روز فون کروں گا۔

وہی ایک لڑکی بناؤ سنگار کئے ھوئے ہر بات پرمسکراتی اور شرماتی جارہی تھی۔ نئی نویلی دلہن تھی شاید پہلی باربیرون ملک اپنے ساجن کے ساتھ جارہی تھی۔ شرمانا اورسنورنا دونوں ھی بنتے تھےاس سب ماحول کا حصہ بنتے ھوئے کوئی میرے جیسے بھی تھے۔ جو بظاہر کتاب کھولے ھوئے کافی کا سپ لے رہے تھے، مگرچہرے پے کبھی اداسی کبھی مسکراہٹ سجاتے ھوئے کبھی کبھی کسی میسج پرجذباتی ھو کر جواب دیتے ھوئے نظر آرہے تھے۔

محبت ھی محبت ھے

جب ہی ایک مسافر کے لئے اعلان ھوا کہ وہ گیٹ نمبر 24 پر تشریف لے جائیں میرا دل بہت زور سے دھڑکا سامنے سے ایک تقریبا25 سال کا لڑکا بھاگا ھوا آیا وہ اپنی فلائیٹ کے لئے لیٹ ھو رہا تھا اور ایک طوفان جیسے آیا اور تھم گیا۔ جہاز میں بیٹھے اس لڑکے کوعلم بھی نہی تھا کہ اسکا نام ایک لڑکی کی دنیا ہلا کر چلا گیا۔

وہ تھا ہی ایسا خوبصورت آواز اور پیاری سی مسکراہٹ والا حلیم سا انسان اسے بھی شاعری کاشوق تھا شاید لکھتا بھی تھا۔ اس نے کبھی بتایا نہی اورنا میں نے کبھی پوچھا، مگرلگتا تھا کہ لکھتا ھوگا۔ خوبصورت سی مسکراہٹ میں سنجیدگی کے رنگ گھولتا ھوا بولتا توجیسے دھنک سی بکھر جاتی، اسے میری آواز بہت پسند تھی وہ ہمیشہ کہتا تھا اس لئے میں جانتی ھوں مگر اسکی آواز مجھے کس حد تک پسند ھے وہ یہ کبھی جان نہی پایا۔ کیونکہ میں اسے کبھی نہی کہہ پائی وہ میری دیوانگی کبھی نہی جان پایا، ہماری ملاقات ایک ریڈیو پرھوئی تھی۔ ہم دوست بنے ایک دوسرے کے لئے انتہائی احترام تھا۔ مگروہ کب مجھے اچھا لگنے لگا پتا ھی نہی چلا، ایک دوسرے کو اپنی اپنی آواز میں شاعری سناتے، ایک عجیب سا حق محسوس کرنے لگی تھی۔

اس پرکہ جیسے اس نے کدھر جانا ھے وہ تو صرف میرا ھے میرے جیسا ھے۔ میں ساری ساری رات اسے سوچتی مگر وہ انجان میری سنجیدہ طبعیت کی وجہ سے اسے کبھی احساس ھی نہی ھوا، وہ لڑکی اسے نظرھی نہی آئی، جو اسے پاگلوں کی طرح چاہتی تھی۔ ایک دن اس نے مجھے کال کی اور کہا دوست تم سے ایک بات شیئر کر سکتا ھوں، میں نے دھڑکتے دل سے کہا کیوں نہی کرو تو وہ بولا ایک لڑکی ھے مجھ سے پیار کرتی ھے، بہت کیئرکرتی ھے، میرے ساتھ شادی کرنا چاہتی ھے، میں جیسے کنوئیں میں گر رہی ھوں میں نے بڑی مشکل سے اپنی آواز سنبھال کر کہا اور تم؟

اس نے کہا نہی میں نے کبھی نہی سوچا مگریار زندگی میں کہیں نہ کہیں تو سیٹ ھونا ھی ھےتو پھریہ کیوں نہی، دوسال سے جانتی ھے، کیئرکرتی ھے، میں نے کہا مجھ سےکیوں پوچھ رے ھو؟ وہ بے خیالی میں شاید کہہ گیا کہ تم ھی تومیری اپنی ھو، میں نےساری ہمت جمع کر کے کہا جومیں کہوں گی وہ مان لو گے؟ اس نے کہا اگر تم کہو گی نہی تونہی کروں گا، میرے لئے یہ بہت کچھ تھا۔

میں نے کہا اگرلڑکی اچھی ھے چاہتی ھے تو کر لو شادی، وہ خوش ھوگیا اورمیں کتنے دن روتی رہی خود بھی یاد نہی۔ مگراللہ کا شکر ادا کیا کہ وہ سامنے نہی تھا، اس نے میرا ٹوٹنا نہی دیکھا، اس نے اپنی کہہ کر بھی ایک بہترین دوست کی جگہ رکھا اور میں نے اسکی خوشی کی خاطر اپنی محبت کو اسکی بہترین دوست بنا دیا، محبت اسکی خوشی میں خوش ھونے کا نام ھے جسے چاہا جائے۔

کافی کا مگ بھی ٹھنڈا ھو چکا تھا قریب ہی ایک بچے کے رونے سے یادوں کا تسلسل ٹوٹ گیا۔ میری فلائیٹ میں ابھی بھی کچھ وقت تھا اس نے زندگی میں صرف دو باتیں شیئر کیں ایک اپنی شادی کی اور ایک میری شادی کے لئے مجھے یاد ھے، اس نے کہا تھا میرا ایک دوست ھے بہت پرانا بہت بہترین انسان ھے، تمہارے جیسی لڑکی ھی ھونی چائیے، میں نے کہا میری شادی کی فکر تم مت کرو، تم سمجھو میری شادی ھو چکی ھے۔ مجھے ابھی پڑھنا ھے اور وہ خاموش ھو گیا۔ وہ آج بھی اتنا ھی انجان ھے، میں جب بھی پاکستان آتی ھوں ہزار خواہش کے باوجود اس سے ملنے کی ہمت کبھی نہی کر سکی کئی بار تو اسی ویٹنگ ایریا سے اسے کال کی وہ جان نہی پایا اور میں کہہ نہی پائی۔

محبت ھی محبت ھے

جب اس نے مجھے اس لڑکی کے بارے میں بتایا تھا تو میں نے اس ڈر سے کہ اسے کھو نہ دوں مسکرا کر اجنبی کر دیا تاکہ اس طرح کم از کم جب چاہوں دوست ھونے کہ ناطے اپنی کشتیاں اسکے خیریت کے کنارے پر بھیج تو سکتی ھوں، جہاں وہ رہتا ھوگا ھوں جہاں وہ رہتا ھوگا۔

ایک طرفہ محبت کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ھے کہ وہ پاکیزہ ھوتی ھے، عبادت کے جیسی بے لوث دوسرے کی خوشی میں خوش ھونے کا حوصلہ دیتی ھے۔ محبت اگر ان کہی رہ جائے تو اسے ہمارے اندر چیخنے کی عادت پڑ جاتی ھے۔ اعلان ھو چکا ھے فلائیٹ کا وقت ھو چکا ھے تھکے قدموں کے ساتھ کافی کامگ وہیں رکھتے ھوئے اپنے مقرر کردہ گیٹ کی طرف جارہی ھوں، اس بار بھی میں اپنے اندر اس لڑکی کو ہرا کر واپس جارہی ھوں جو اس پیارے سے انسان کی بہترین دوست ھے۔ کیونکہ وہ آج بھی نہی جانتا کہ آج میری فلائیٹ ھے اور جہاں وہ رہتا ھے میں کافی دنوں سے اسی شہر میں تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *