Molvi Muhammad Aslam Selected Urdu Poetry

Molvi Muhammad Aslam Selected Urdu Poetry

مولوی محمد اسلمؔ کے مجموعہ غزلیات ’’ آئیے شام ہونے والی ہے‘‘ سے منتخب اشعار

انتخاب: سیّدہ رِدا شیرازی

اپنے پچھلے عہد کی تاریخ پڑھنے کے لیے
لوگ کرتے ہیں سفر پھر یادگاروں کی طرف

کونسا دل ہے کہ جس کو وصل کی خواہش نہیں
دیکھتی رہتی ہیں جھیلیں، آبشاروں کی طرف

ہاتھ کی انگلیاں بتاتی ہیں
کب یہ سارا جہاں برابر ہے

مفلسوں کی اس قدر اونچی نظر جاتی نہیں
آسمان گر ٹوٹ کر گِرتا تو میں بھی دیکھتا

دکھاتا نیکیاں ہے اور شر تقسیم کرتا ہے
انوکھے ہی تماشے جادوگر تقسیم کرتا ہے

پرندوں سے یہ کہہ دینا ہمارے باغ کا مالی
اڑانیں چھین کر سونے کے پر تقسیم کرتا ہے

وہ اسکے اپنے ہی کنبے کے سب افراد ہیں اسلمؔ
امیر شہر جن لوگوں میں زر تقسیم کرتا ہے

رعونت چال سے ٹپکے ہے اسلمؔ
حکومت کا بڑا افسر ہے کوئی

اپنے کھونے کا غم نہیں مجھ کو
تیری ہستی سے آشنا تو ہوا

دنیا صاف دکھائی دے
اپنے مَن کو ستھرا کر

حال گلشن کا دیکھتے کیا ہو
خشک پتوں سے ہے بَہار یہاں

Molvi Muhammad Aslam Shayari

Molvi Muhammad Aslam Selected Urdu Poetry

کب تک رکھو گے تم اسے اسلمؔ حجاب میں
گر عشق ہے تو تم سے چھپایا نہ جائے گا

پسِ منظر ہی دیکھا ہے کبھی منظر نہیں دیکھا
جو ہم نے دیکھا ہے لوگوں نے وہ اکثر نہیں دیکھا

حسین ابن علی ع کے تذکرے ہیں کیوں زبانوں پر
بہادر آدمی تھا اس نے اپنا سر نہیں دیکھا

مری غزلوں پہ سر دُھنتے رہے، احباب برسوں تک
مگر اسلمؔ کسی نے جھانک کر اندر نہیں دیکھا

کس سے قصاص مانگتا شہرِ یزید میں
میرے لہو میں ہاتھ ہیں سب نے رنگے ہوئے

پیاسوں کی بے بسی کا وہ منظر عجیب تھا
طغیانیاں تھیں اور تھے پہرے لگے ہوئے

Molvi Muhammad Aslam Best Urdu Poetry

Molvi Muhammad Aslam Selected Urdu Poetry

دیئے سے لوگ دیئے کو جلاتے آئے ہیں
یہی تو رسم ہے اچھی مرے زمانے کی

تاراج ہو چکی ہیں ستاروں کی بستیاں
پیدا شبوں سے اب تو سحر ہونی چاہیے

جذبہ عشق کبھی موت سے بھی ہارا ہے؟
یہ پتنگا ہی سہی شمع پہ جل جاتا ہے..

وقت آتا ہی نہیں واپس کبھی گزرا ہوا
بیتے لمحوں کو صدا دو گے تو خالی جائے گی

بے عمل لوگوں کی صحبت میں اگر بیٹھے رہے
زندگی اپنی بھی اسلمؔ ہو خیالی جائے گی

Molvi Muhammad Aslam Poetry

Molvi Muhammad Aslam Selected Urdu Poetry

یہی بہتر ہے اپنے ہاتھ سے تقسیم کر جاؤ
تمہارے پاس دولت کے خزینوں کو نہیں رہنا

دن تمہارے پاس بھی ہیں آنے والوں کیلئے
ہم ہوئے بوڑھے تو بچو! دن تمہارے آ گئے

اب کسی چوپال میں بھی محفلیں جمتی نہیں
گھر کی دیواریں ہیں بس سننے سنانے کے لیے

شب کی تاریکی میں جن بچوں کو پھینکا ماؤں نے
پھر رہے مارے مارے سر چھپانے کے لئے

یوں کر دئیے غربت نے سیاہ اُس کے مقدر
کِھلتا نہیں پھول اُس کی ہتھیلی پہ حنا کا

Molvi Muhammad Aslam Selected Urdu Poetry

Molvi Muhammad Aslam Selected Urdu Poetry

مرے گھر میں اندھیرا دن بہ دن بڑھتا ہی جاتا ہے
چمک سورج سے کوئی بھی کرن لے کر نہیں آتی

روشنی پھیلانے والے کو سزا دی جائے گی
جب اندھیرا شہر کا فرمانروا بن جائے گا

جب ہوا احساس لوگوں کی ضرورت کا مجھے
روٹی، کپڑے اور مکاں کی شاعری کرنی پڑی

ہمیشہ غیرتیں ہی قتل اِس بستی میں ہوتی ہیں
جو بے غیرت ہوں ان لوگوں کے سر محفوظ رہتے ہیں

Molvi Muhammad Aslam

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *