Molana Tariq Jameel Ki Dard Naak Haqeeqat By Shoaib Sadiq Gondal

Molana Tariq Jameel Ki Dard Naak Haqeeqat By Shoaib Sadiq Gondal

مولانا طارق جمیل کی درد ناک حقیقت

ازقلم: شعیب صادق گوندل

کہاں 1970کی گمنامی اور کہاں 2017 کی پرواز کاش میاں محمد بخش زندہ ہوتے۔ آج اپنے بیٹے کی پروازیں دیکھتے۔ اگر یہ نوجوان کالج و یونیورسٹی کی راہ پر گامزن رہتا اور اپنے ہی ڈگر پر چلتا رہتا۔ اسی کو سب کچھ سمجھتا اسی میں کامیابی تلاش کرتا۔ پیسہ اور ڈگری اسکا مقصد ہوتا تو آج اپنے چھوٹے بھائی ڈاکٹر طاہر کمال کی طرح ایک عام سا طبیب ہوتا۔

Molana Tariq Jameel Ki Dard Naak Haqeeqat By Shoaib Sadiq Gondal

بقول طارق جمیل صاحب کے اگر میں بھی ڈاکٹر بنتا تو آج کلینک پر بیٹھا ہوتا اور پیسہ اندھا دھند آرہا ہوتا اسکے سوا کچھ نہیں تھا۔ لیکن اس نوجوان نےدنیا کو ٹھوکرمار کر اپنے اللہ تعالیٰ کی طرف لپکا۔ اور اپنے رب کی محبت و قرب کو حاصل کرنے کے لئے مدرسہ عربیہ رائیونڈ کا رخ کیا۔ پھر۔۔۔۔۔۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کر اللہ تعالیٰ سے مانگنا اور وقت کے ساتھ ساتھ مجاہدے کرنا پھر مدرسے کی غربت کی چکی میں پسنا اور مدرسہ کے ایک طویل عرصہ میں لیل و نہار کی گردش سے ٹکرانا۔

جس سے دکھ سکھ میں بدلے۔ پریشانی راحت میں بدلی۔ ظاہری ذلت حقیقی عزت میں بدلی۔ ماں کا پیار اللہ تعالیٰ کے پیار میں بدلا۔ باپ کی شفقت اللہ تعالیٰ کی شفقت و رحمت میں بدلی مجازی عشق چھوڑے۔ مجازی خداچھوڑے، مجازی تخیل چھوڑے۔ اللہ کی طلب میں نکلا۔ اللہ کی جستجو نے دیوانہ وار پھرنے پر مجبور کیا۔ دربدر کی ٹھوکریں کھائی۔ گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا۔

Molana Tariq Jameel Ki Dard Naak Haqeeqat By Shoaib Sadiq Gondal

گلی کوچوں کی مٹی کو چھانا، گھرکو مسافر خانہ سمجھا، دعوت و تبلیغ کو مشغلہ راہ سمجھا۔ جب یہ کم عمر لڑکا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے۔ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم، کی محبت و جستجو میں نکلا تو اسے اللہ کا پیار ملا۔ اللہ کی محبت ملی۔ اللہ کے نبی کا عشق ملا۔ جسے دنیا آج مولانا طارق جمیل کے نام سے جانتی ہے۔ لہذا اللہ ملا سب کچھ ملا۔ اللہ نہ ملا کچھ نہ ملا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *