(آج کی شخصیت مرزا محمد ھادی رسوا صاحب ( مرحوم

(آج کی شخصیت مرزا محمد ھادی رسوا صاحب ( مرحوم

(آج کی شخصیت مرزا محمد ھادی رسوا صاحب ( مرحوم

انتخاب: مہر خان

آج 21 ، اکتوبر معروف ناول نگار اور ادیب مرزا ھادی رسوا کا یومِ وفات ھے ۔
مرزا محمد ہادی رسوا (1857ء تا 21 اکتوبر، 1931ء) ایک اردو شاعر اور فکشن کے مصنف (بنیادی طور پر مذہب، فلسفہ، اور فلکیات کے موضوعات پر) گرفت رکھتے تھے۔ انہیں اردو، فارسی، عربی، عبرانی، انگریزی، لاطینی، اور یونانی زبان میں مہارت تھی۔ ان کا مشہور زمانہ ناول امراؤ جان ادا 1905ء میں شائع ہوا جو ان کا سب سے پہلا ناول مانا جاتا ہے۔ یہ ناول لکھنؤ کی ایک معروف طوائف اور شاعرہ امراؤ جان ادا کی زندگی کے گرد گھومتا ہے بعد ازاں ایک پاکستانی فلم امراؤ جان ادا (1972)، اور دو بھارتی فلموں، امراو جان (1981) اور امراو جان (2006) کے لئے بنیاد بنا۔ 2003ء میں نشر کئے جانے والے ایک پاکستانی ٹی وی سیریل کی بھی بنیاد یہی ناول تھا۔

مرزا محمد ہادی رسوا کی زندگی کی درست تفصیلات دستیاب نہیں ہیں اور ان کے ہم عصروں کی طرف سے دی گئی معلومات میں تضادات موجود ہیں۔ البتہ رسوا نے خود تذکرہ کیا ہے کہ ان کے آباء و جداد فارس سے ہندوستان میں آئے اور ان کے پردادا سلطنت اودھ کے نواب کی فوج میں ایک ایڈجوٹنٹ تھے۔ جس گلی میں رسوا کا گھر تھا اسے ایڈجوٹنٹ کی گلی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے والد اور دادا کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں بتایا کہ وہ دونوں ریاضی اور فلکیات میں خاصی دلچسپی رکھتے تھے۔ مرزا محمد ہادی رسوا 1857ء کو، ایک گھڑسوار، فوجی افسر، مرزا محمد تقی کے گھر لکھنؤ، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے گھر میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ وہ سولہ سال کے تھے جب ان کے والدین دنیا سے کوچ کر گئے۔ نوجوانی میں وفات پانے والےان کے بڑے بھائی مرزا محمد ذکی، ایک علمی شخصیت تھے۔ اس دور کے ایک مشہور خطاط حیدر بخش نے رُسوا صاحب کو خوش خطی سکھائی اور انہیں کام کرنے کے لئے کچھ رقم ادھار بھی لیکن حیدر بخش کی آمدنی ڈاک کی جعلی ٹکٹ سازی سے آتی تھی لہٰذا اُسے گرفتار کر لیا گیا اور ایک طویل مدت کے لئے قید کی سزا سنائی گئی۔ رُسوا کے لکھنے کے کیریئر میں اُن کی مدد کرنے والے بہت سے لوگوں میں سے ایک اردو شاعر، دبیر بھی تھے۔ رسوا نے گھر میں تعلیم حاصل کی اور میٹرک پاس کیا، اس کے بعد انہوں نے منشی فاضل کے کورس کا امتحان دیا اور منشی فاضل ہوگئے۔ کوئٹہ بلوچستان میں ریلوے میں ملازمت کی۔ دوران ملازمت کیمیا کا ایک رسالہ ہاتھ لگ گیا جس کے مطالعے کے بعد کیمیا گری کی طرف مائل ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ مرزا رسوا نے پچاس سے زیادہ تصنیفات یاد گار چھوڑیں تاہم اردو ادب میں ان کا نام ناول نگار کی حیثیت سے ہمیشہ زندہ رہے گا۔ مرزا محمد ھادی رسوا 21، اکتوبر 1931ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *