آن لائن اردو ڈاٹ کام: تین مشہور شعراء کے خوبصورت کلام میں سے منتخب غزلیں

بسملؔ آن لائن اردو ڈاٹ کام: تین مشہور شعراء کے خوبصورت کلام میں سے منتخب غزلیں

انتخاب: عثمان عاطسؔ

کیوں جل گیا نہ تاب رخ یار دیکھ کر
جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر

آتش پرست کہتے ہیں اہل جہاں مجھے
سرگرم نالہ ہائے شرربار دیکھ کر

کیا آبروئے عشق جہاں عام ہو جفا
رکتا ہوں تم کو بے سبب آزار دیکھ کر

آتا ہے میرے قتل کو پر جوش رشک سے
مرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر

ثابت ہوا ہے گردن مینا پہ خون خلق
لرزے ہے موج مے تری رفتار دیکھ کر

واحسرتا کہ یار نے کھینچا ستم سے ہاتھ
ہم کو حریص لذت آزار دیکھ کر

بک جاتے ہیں ہم آپ متاع سخن کے ساتھ
لیکن عیار طبع خریدار دیکھ کر

زنار باندھ سبحۂ صد دانہ توڑ ڈال
رہ رو چلے ہے راہ کو ہموار دیکھ کر

ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار

مرزا غالب

اب دم بخود ہیں نبض کی رفتار دیکھ کر
تم ہنس رہے ہو حالت بیمار دیکھ کر

سودا وہ کیا کرے گا خریدار دیکھ کر
گھبرا گیا جو گرمئ بازار دیکھ کر

اللہ تیرے ہاتھ ہے اب آبروئے شوق
دم گھٹ رہا ہے وقت کی رفتار دیکھ کر

دیتا کہاں ہے وقت پڑے پر کوئی بھی ساتھ
ہم کو مصیبتوں میں گرفتار دیکھ کر

آتے ہیں میکدے کی طرف سے جناب شیخ
سرگوشیاں ہیں لغزش رفتار دیکھ کر

غیروں نے غیر جان کے ہم کو اٹھا دیا
بیٹھے جہاں بھی سایۂ دیوار دیکھ کر

آتے ہیں بزم یاراں میں پہچان ہی گیا
مے خوار کی نگاہ کو مے خوار دیکھ کر

اس مدھ بھری نگاہ کی اللہ رے کشش
سو بار دیکھنا پڑا اک بار دیکھ کر

تم رہنمائے وقت سہی پھر بھی چند گام
چلنا پڑے گا وقت کی رفتار دیکھ کر

وقت سحر گزر گئی کیا کیا نہ پوچھیے
گردن میں ان کی سوکھے ہوئے ہار دیکھ کر

تلچھٹ ملا کے دیتا ہے رندوں کو ساقیا
ساغر پٹک نہ دے کوئی ہشیار دیکھ کر

بسملؔ کو کیا ہے چادر رحمت رسول کی
سائے میں لے ہی لے گی گنہ گار دیکھ کر

بسملؔ عظیم آبادی

گرتے ہیں لوگ گرمئ بازار دیکھ کر
سرکار دیکھ کر مری سرکار دیکھ کر

آوارگی کا شوق بھڑکتا ہے اور بھی
تیری گلی کا سایۂ دیوار دیکھ کر

تسکین دل کی ایک ہی تدبیر ہے فقط
سر پھوڑ لیجئے کوئی دیوار دیکھ کر

ہم بھی گئے ہیں ہوش سے ساقی کبھی کبھی
لیکن تری نگاہ کے اطوار دیکھ کر

کیا مستقل علاج کیا دل کے درد کا
وہ مسکرا دیے مجھے بیمار دیکھ کر

دیکھا کسی کی سمت تو کیا ہو گیا عدمؔ
چلتے ہیں راہ رو سر بازار دیکھ کر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *