ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئٹری کے زیر اہتمام بہ عنوان مرزا غالب ایوارڈ

مرزا غالب ایوارڈ

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئٹری کے زیر اہتمام بہ عنوان مرزا غالب ایوارڈ

رپورٹ: نفیسؔ ناندوروی

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئٹری کی جانب سے 14 اکتوبربروزسوموارشام 7 بجے 121واں بالکل منفرد پروگرام بہ عنوان مرزا غالب ایوارڈ منعقد کیا گیا۔ ھٰذا مشاعرہ اردو ادب میں منفرد مقام اور جداگانہ طرز سُخن کے مالک استاد شاعر محترم مرزا اسد اللہ خان غالب کو بطور خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور

img-20170829-wa0002

پروگرام آرگنائزر ادارے کے بانی و چئیرمن، دِل آویز شخصیت محترم توصیف ترنل صاحب (ہانگ کانگ)، منصبِ صدارت محترم مسکین رائچوری صاحب، مہمانانِ خصوصی، محترم ڈاکٹر بلند اقبال نیازی صاحب کانپور (بھارت)، محترمہ شمشاد جلیل شاد صاحبہ (بھارت) مہمانانِ اعزازی محترم شہزاد نیّر صاحب (پاکستان)، محترم ڈاکٹر شاھد رحمان صاحب (فیصل آباد)، محترم حفیظ مینانگری صاحب (بھارت) ناقدین محترم شفاعت فہیم صاحب (بھارت)، محترم مَسعود حسّاس صاحب (بھارت) مبصرین محترم مزمّل علی خان صاحب کراچی (شاعر و مزاح نگار)، محترم امین اڈیرائی صاحب (پاکستان)، محترم احمد کاشف صاحب (بھارت) پروگرام کی نظامت محترمہ ثمینہ ابڑو صاحبہ (پاکستان) نے اپنی خوش نوائی مع عمدہ اندازِ تخاطب سے اِس آنلائن محفلِ مشاعرہ میں چار چاند لگا دیئے۔

پروگرام کا آغاز ربِّ ذوالجَلال کی پاک وشفّاف حمد وثنا کے ساتھ ادنیٰ خادمِ اردو ادب نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی (بھارت) نے یوں کِیا

img-20170829-wa0006

نَظَر چار سُو آئے رَحمت خُدا کی
دو عالَم پہ چھائی عِنایت خُدا کی
ذَرا مَن کی آنکھوں کو کھولو تو جانو
ہر اک شے سے ظاہر ہے قدرت خُدا کی

اور رسول اکرم نُور مُجسّم محمّدﷺ کی شانِ اقدس میں نعتیہ کلام کا نظرانۂ عقیدت محترم انیس بھٹکلی صاحب (بھارت) نے پیش کیا۔ علاوہ ازیں دیگر *معزّز شعرائے اکرام میں

محترم مزمّل علی صاحب کراچی
جو آنکھوں سے نکل جائیں تو ہر سو دشت ھے مجھ میں
یہ آنسو ضبط کے سارا بدن سیراب رکھتے ھیں

محترم مسکین رائچوری صاحب
آنے والے وقت کی تختی پہ اپنا نام لکھ
تیرے دروازے کی تختی توقضا لےجائےگی

محترم مائل پالدھوی صاحب انڈیا
میری طرف بھی دیکھ ذرا آسمانِ وقت
میں بھی تو ہوں زمین پراک پاسبانِ وقت

محترمہ ڈاکٹر مینا نقوی صاحبہ انڈیا
عروج ایسا کہ جس کو زوال تھا ہی نہیں
محبّتوں کو وہ حاصل کمال تھا ہی نہیں

img-20170829-wa0005

محترم ڈاکٹر نبیل احمد نبیل صاحب
تیری تلاش , تیری تمنّا تو میں بھی ہوں
جیسا ترا خیال ہے ویسا تو میں بھی ہوں

محترم شوزیب کاشر صاحب آزادکشمیر
احساس کی دیوار گرادی ہے چلا جا
جانے کے لئے یار جگہ دی ہے چلا جا

محترم امیرالدین امیر صاحب انڈیا
حواس وعقل ونظر ہوش کھونے والا ہوں
فنا کے بحر میں میں غرق ہونے والا ہوں

محترم خالد سروحی صاحب
جب سے دو چار ہوگئیں آنکھیں
تب سے لاچار ہوگئیں آنکھیں

محترم علیم طاہر صاحب انڈیا
فلک کو اس زمیں کا آبشار کر دیا گیا
بس ایک آدمی تھا بے شمار کر دیا گیا

محترم ثمریاب ثمر صاحب انڈیا
گلہائے چمن بند قبا کھول رہے ہیں
گھنگرو تری پائل کے کہیں بول رہے ہیں

محترمہ ثمینہ ابڑو صاحبہ پاکستان، محترمہ شمشاد شاد صاحبہ انڈیا، محترمہ گل نسرین صاحبہ پاکستان، محترم مصطفیٰ دلکش صاحب انڈیا، محترم ڈاکٹر ارشاد صاحب انڈیا، محترمہ شہناز مزمّل صاحبہ پاکستان، محترم جعفر بڑهانوی انڈیا، محترم عبدالمجید آتش صاحب انڈیا، محترم عادل حسین عادل صاحب انڈیا، محترم میم آتش صاحب انڈیا، محترمہ انبساط ارم صاحبہ انڈیا، محترم عتیق احمد عتیق صاحب، محترم صدف فریدی صاحب۔

img-20170829-wa0004

معزّز شعرائے اکرام نے یکے بعد دیگرے اپنے عمدہ کلام مع تفکّرات اور منفرد طرزِ سُخن سے اِس ادبی محفل میں چار چاند لگا دیئے۔ پروگرام کا لطف تَدمَزید دوبالا ہوگیا جب ایک جانب معزّز سامعینِ مجلس نے شعراۓ اکرام کو داد وتحسین سے نوازہ تو دوسری جانب ماہرینِ علم وفن نے کلام میں موجود محاسن و اسقام پر شعرائے اکرام کی رہنمائی فرمائی اور تمام غزلیات پر نہایت باریک بینی، چابک دستی اور غیر جانبدارانہ طریقے سے تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے محترم شہزاد نیّر صاحب پاکستان کو جامع، مرصع غزل پر مبارکباد پیش کی اور ساتھ ہی قابلِ احترام اعزاز مرزا غالب ایوارڈ سے بھی نوازہ۔

اس تاریخی آن لائن مشاعرے میں شریک معزّز موصوفیانِ اردو ادب اور تمامی رفقایےء بزم کو ادارے کی جانب سے مبارکباد۔ ساتھ ہی ادارۂ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری گروپ کی انتظاميہ بالخصوص ادارے کے بانی و چئیرمن محترم توصيف ترنل صاحب کو خدمتِ اردو ادب کیلئے قلبی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

مقالہ: غالب پر حالی کا مختصر جائزہ

امیرالدین امیر بیدرکرناٹک بھارت

img-20170829-wa0010

غالب(1797-1869) کا شمار صرف اردو اور فارسی کے عظیم الشان شاعروں میں ہوتا ہے بلکہ دنیا کی مختلف زبانوں کے چند عظیم شعراء میں بھی غالب کی ایک خاص شناخت ہے، اردو شاعری میں غالب کو کلاسک شاعر کا درجہ حاصل ہے اگر یہ کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا کہ غیر اردوداں حضرات بھی اردو کے حوالے غالب کو اور غالب کے حوالے سے اردو کو جانتے ہیں۔ غالب نے خود کے جدتِ خیال، ندرت بیانی، دل نشین معنی آفرینی، شوخی وظرافت اور ہمہ رنگ وآہنگ کیفیات سے اردو غزل کو فرسودگی سے نجات دلائی ساتھ ہی نہ صرف تازگی شگفتگی وتوانائی بخشی بلکہ اسے فکری وفلسفیانہ اساس بھی فراہم کی۔

حالی جب پانی پت سے بغرض تعلیم دہلی آئے تو یہاں ان کی ملاقات جیسے نابغہء روزگار سے ہوئی، حالی نہ صرف غالب کے حلقہء احباب میں شامل ہوگئے بلکہ ان سے شرفِ تلمذ بھی حاصل کیا، وہ ایک زمانے تک غالب کی صحبتوں سے فیض حاصل کرتے رہے۔ انھیں بہت قریب سے دیکھا ان کے مزاج، اخلاق وعادات سے بھی متاثر رہے۔ حالی، غالب کے شاعرانہ کمالات کے قائل بھی تھےاور ان کے مخلص معتقد بھی۔ اگرچہ بعد میں حالی شیفتہ کی صحبت سے بہت مستفید ہوئے لیکن وہ معتقد بہرحال غالب کے تھے۔

سروراجیہ انقلابی

بہرحال حالی کو غالب سے بڑی محبت تھی جس کا حق انہوں نےنہ صرف “یادگارِ غالب” لکھ کر ادا کیا بلکہ ان کی وفات پر عقیدت ومحبت سے مملو پُرسوز مرثیہ بھی لکھا اس مرثیہ میں حالی نے غالب کے مزاج، عادات واطوار، شخصیت، شوخی ،ظرافت، بدلہ سنجی، رندیو سرمستی، احباب نوازی و مہمان نوازی، نکتہ دانی، نکتہ شناسی، پاک دامنی اور مجلسی زندگی کی جیتی جاگتی تصویر پیش کی ہے۔ غالب کو نوشہ اور شہرِ دِلّی کو برات قرار دیتے ہوئے یہ کہا کہ غالب کے مرنے سے دلی مرگئی، مراد یہ ہےکہ دلی کی شعرو سخن کی محفلوں کی رونق وآب وتاب غالب سے تھی۔

حالی کے خیال میں غالب کے شاعرانہ کمالات ایسے تھے جن پر فارسی کے عظیم شعراء کو بھی رشک ہوتا تھا، حالی نے یہ کہہ کر بھی غالب کو خراجِ عقیدت پیش کیا کہ غالب کو فارسی شاعری میں عظیم شعراء کا ہم پلّہ ٹھہرانا غلط ہے بلکہ غالب کا درجہ ان شعراء سے بھی بہت بلند ہے۔ غالب کی وفات سے حالی کو جو دلی صدمہ پہنچا اور وہ ذہنی و روحانی کرب وابتلا کا شکار ہوئےاس کا اظہار بھی انہوں نے بڑے رقت آمیز اسلوب میں کیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ زار وقطار رو رہے ہیں اور حزن وملال کے دریا میں بہے جارہے ہیں۔

ameen udirai

آخر کلمات ادارہ کی افادیت پر پیش کرتا ہوں کہ منفرد عظیم الشان ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری (وائس) فی زمانہ یعنی دنیا کا واحد ادارہ ہے جو اس سوشیل میڈیاواٹس ایپ، برقی ترقی یافتہ دَور میں شعراء، ادباء اور مصنفین، زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کے ساتھ تراویج وترقی اور اردو ادب کی بےمثال خدمت بھی کرتا ہے اور آئے دن نت نئے لسانیاتی پروگرامز منعقد کرتا چلا آرہا ہے بقول محترم توصیف ترنل جہاں واہ ،واہ کے پروگرامز کے ساتھ ساتھ برائے تنقیدی پروگرامز نیز افسانہ نویس کو روشناس کرانے کےلئے

Ameer ud Ameer

افسانہ پروگرامز بھی منعقد کرتے آرہے ہیں۔ اور ایک تحریک قابلِ رشک ہےکہ شعراء اکرام کو یادِ رفتگان شعراء کے نام کا اعزاز ات سے سرفراز فرما رہے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ آج ادارہ عالمی بیسٹ اردو پوئٹری(وائس) ایک منفرد خصوصیت اور شناخت قائم کیا ہے اور آسمانِ ادب میں ایک منفرد تاریخ رقم کرتا چلا جارہا ہے دراصل یہ محترم توصیق ترنل کی ادبی خدمات کا جوش وجذبہ اور ایک عظیم الشان ذوق ہے اللہ تاحیات قائم ودائم رکھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *