Meri Pehchan Mera Pakistan By Usman Atis

Meri Pehchan Mera Pakistan By Usman Atis

میری پہچان میرا پاکستان

ازقلم: عثمان عاطس

اپنے وطن سےمحبت ہونا ایک فطری عمل ہے۔ اپنےآبائی گھر، علاقہ اور وطن کی محبت میرے اللہ نے ہر انسان کے دل میں رکھی ہے، یہ ہوتی ہی ہوتی ہے۔ آقائے دوجہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنے وطن مکہ سےمحبت تھی۔ جب آپکی قوم نے آپ پر ظلم ستم کی انتہاہ کر دی۔ تو اللہ تعالی نے آپکو حکم دیا میرےمحبوب آپ نےمدینہ کی طرف ہجرت کر جائیں۔ جب آپ نے مدینہ کے لئے رختِ سفر باندھا مکہ سے باہر نکل کر مکہ کی طرف دیکھ کرفرمایا۔ یا مکۃ ما اطیبک من بلدِِ واحبک علیک۔

ترجمہ: اے مکہ تو مجھے بہت عزیز ہے اگرمیری قوم مجھے نکلنے پرمجبور نا کرتی تو میں کبھی تمھیں چھوڑ کر نا جاتا۔

حدیث کی کتابوں میں ایک واقعہ آتا ہے کہ

Meri Pehchan Mera Pakistan By Usman Atis

ایک قریشی نوجوان مکہ کو یاد کر کے شعرپڑھ رہا تھا، اللہ کے نبی اسکے پیچھے کھڑے ہوکرکان لگا کرسنتےرہے پھر فرمانے لگے، ارے بھائی چھپ ہوجا مکہ یاد نہ دلا مدینے میں دل لگنے دے

یہ ہے وہ وطن کی محبت جو ہرانسان کی گھٹی میں ہے، ہمیں یہ ملک یہ آزادی کوئی خیرات میں نہیں ملی اس ملک کی جڑوں میں ہمارے بڑوں کا خون ہے، اس ملک کی آزادی کے لئے ہزاروں عورتوں کی عزتیں تار تار ہوئیں اور ہزاروں بچے نیزوں اورتلواروں پر پورئے گئے

انکا قصور کیا تھا؟؟ کیا کبھی ہم نے سوچا؟؟

صرف اورصرف یہ کہ وہ مسلمان تھے اسلام کا نام لینے والے تھے اور اس ملک سے محبت کرتے تھے جو اسلام کے نام پر بننے والا تھا۔ پاکستان زندہ آباد کا نعرہ لگاتے۔

قارئین محترم

Meri Pehchan Mera Pakistan By Usman Atis

وطن کی محبت کیا ہوتی ہے یہ ان لوگوں سے پوچھیں جو اپنے گھر والوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے یا کسی اور وجہ سےاپنے وطن سے دور ہیں کہ وطن کی محبت کیا ہوتی ہے، میرا لنگوٹیا یارساجد جو اسوقت ملائیشیا میں بسلسلہ روزگار مقیم ہے، اسے ایک مرتبہ میرے دوست امجد نے گاؤں کی چند تصاویر بھیجی، ان تصاویرکو دیکھنے کے بعد اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے ان آنسو کو چھپنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہا، یہ ہے اپنے وطن سے پیار و محبت جو ہرہر پاکستانی کے دل میں موجود ہے، وہ جہاں بھی رہے لیکن سینے میں دھڑکنے والا دل پاکستانی ہے۔

!میرے عزیز ہم وطنو۔۔۔۔

Meri Pehchan Mera Pakistan By Usman Atis

یہ ملک ہمارا ہے اس میں بسنے والے لوگ ہمارے ہیں جب ملک ہمارا اپنا ہے توپھر کیوں اسکی تعمیر و ترقی میں اپنا کردارادا نہیں کرتے؟؟ کیوں ہم ہمیشہ دوسروں کی باعث الزام ٹھراتے؟؟ کیوں ہم اپنے گربان میں نہیں جھاکتے؟؟ ہم ہمیشہ کہتے کہ جب دوسرے ایسا کام کر رہے ہیں تو ہم کیوں نا کریں؟؟

اور اسی کے برعکس جب ہمیں کوئی کامیابی ملتی ہے تب تو ہم نہیں کہتے کہ دوسرے کو کیوں نہیں ملی؟؟ ایک طالب علم امتحان میں پاس ہو جاتا ہے اور دوسرا کسی وجہ سے فیل ہو جاتا ہے تب تو ہم نے کبھی نہیں کہا کہ میں پاس نہیں ہوں گا، جب ایسا نہیں ہے تو پھر کیوں دوسروں کی غلطیوں کی طرف ہماری نظر ہوتی ہے؟

Meri Pehchan Mera Pakistan By Usman Atis

میرےعزیز ہم وطنو اگر ہر شخص اپنا قبلہ درست کر لے اور صحیح معنوں میں اس ملک کی تعمیراورترقی کے لئے کام کرے تو دن دور نہیں کہ جب ہمارا معاشرہ ایک امن پسند معاشرہ ہو گا اور ہمارا ملک پاکستان دنیا کے ترقی پسند ممالک میں آن کھڑے گا اور یہ کوئی نا ممکن کام نہیں ہے۔

آخر میں اس دعا کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ

دعا ہےاُس رب کریم سے کہ وہ ذات ہمیں سچا مسلمان اور سچا محب وطن بنائے آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *