Meri Kahani Meri Zubani By Qaisar Hameed Ronjho

Meri Kahani Meri Zubani

میری کہانی میری زبانی

تحریر: قیصر حمید رونجھو

یوں تو میرے کئی نام ہیں۔ مختلف ادوار میں مختلف قومیں مجھے مختلف ناموں سے پکارتی رہی ہیں لیکن اس دور تک پہنچتے پہنچتے نہ صرف میرے نام بدلتے رہے بلکہ میرے خدو خال بھی بدل گئے۔ آج دنیا مجھے لسبیلہ کے نام سے پکارتی اور جانتی ہے۔

میری عمر کا کسی کو اندازہ نہیں ہے۔ میری حیات کے پنوں پر صدیوں کی گرد جمی ہوئی ہے اس لیۓ میری عمر کا تعین ممکن نہیں۔ میں صدیوں کا سفر طے کرتے کرتے اس دور تک پہنچا ہوں زمانوں کی دھوپ چھاؤں کو دیکھا ہے موسموں کی سختیوں کو جھیلا ہے۔ آندھی طوفانوں کا سامنا کیا ہے۔ صدیوں کی اس مسافت میں دھول کی کئی تہیں میرے وجود میں جم کر میرے اصل کو مٹا چکی ہیں۔ میری کہانی دردناک ہے۔ میرا سینہ چاک ہے۔

Meri Kahani Meri Zubani

میرے زخموں کی گہرائیوں میں گم ہوجاؤ گے لیکن زخموں کا حساب تم سے نہ ہوگا۔ اب تو وقت کے فرعونوں نے میرے جسم کے کئی حصوں کو کاٹ کر مجھ سے الگ کر دیا ہے اور ظالموں نے میرے رستے زخموں پر بجائے مرہم لگانے کے نمک چھڑک دیا تاکہ میں تڑپتا رہوں، چیختا چلاتا رہوں اور وہ میری بے بسی کا تماشہ دیکھ، دیکھ کر لطف اٹھاتے رہیں اب میرے کمزور ناتواں وجود میں اتنی سکت نہ رہی کہ میں اپنی آپ بیتی کو سنا سکوں۔

تم لوگوں کو علم نہیں شاید تم لوگوں کو یہ ایک افسانہ لگے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایک زمانے میں ہند، سندھ اور عرب، عجم میں میرے نام کی گونج سنائی دیتی تھی۔ محبتوں کی سرزمین کا خطاب بھی مجھے ملا تھا، امن کے نقارے کی گونج مشرق و مغرب میں سنائی دیتی تھی۔ میرے لوگوں کا خلوص اور بھائی چارہ جہاں میں مثالی تھا۔ سب رشک کرتے تھے مجھ سے جلتے بھی تھے۔ مارے حسد اور رقابت کے میرے خلاف سازشیں بھی کرتے تھے۔

Meri Kahani Meri Zubani

وہ اپنی سازشوں میں ہرگز ہرگز کامیاب نہ ہوتے اگر دشمنوں کی صفوں میں آگے آگے میرے اپنے ہی نہ ہوتے۔ تاریخ گواہ ہے، جب بھی مجھ پہ وار ہوا، جب بھی مجھے نیا زخم ملا، جب بھی میں لہولہان ہوا ان سب کارستانیوں میں غیروں سے زیادہ میرے اپنوں کا ہاتھ رہا۔ اپنوں کی دغا بازی کا صدمہ تو بہت ہوا، لیکن میں چپ رہا، انہیں معاف کرتا آیا، کبھی ان سے شکوہ نہ کیا، کبھی ان کیلیۓ بدعا نہ دی۔

بلکہ ان کے لیۓ ہدایت کی دعائیں مانگتا رہا کہ نادان ہیں وہ، ناسمجھ ہیں تبھی تو اپنا اور اپنی آنے والی نسل کا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ ایک دن آئے گا جب وہ اپنے کیۓ پر پشیمان ہوجائیں گے اور اپنی آنے والی نسل سے اپنی خطاؤں کی معافی مانگیں گے اور انکو یہ غلطی نہ دورانے کی تلقین کریں گے۔ یہ میری خوش فہمی تھی وہ اپنے کیۓ پہ کبھی پشیمان نہیں ہوئے، انہیں یہ احساس ہی نہ ہوا کہ ہم غلط تھے۔ بلکہ وہ اپنے اس کارنامے پہ اتراتے رہے۔ میری بدقسمتی تھی کہ وہ میرے اپنے تھے، انکے کالے کرتوتوں کے باوجود بھی مجھے ان سے محبت تھی اور میں انہیں محبت کرنے کا درس دیتا رہا۔

Meri Kahani Meri Zubani

زمانے بدلتے رہے، تو زمانے والوں کے طور طریقے بھی بدلتے رہے۔ لیکن میرے اپنے ویسے کے ویسے رہے، انکو زمانے کے ساتھ ساتھ چلنے کا گر نہ آیا، انکی ایک دوسرے کے دامنوں کو کھینچنے کی عادت پختہ ہوتی چلی گئی۔ انکی نظر گھر اور چاردیواری کے پار نہ جاسکی، ایک خول میں بند جیتے رہے، میں چیخ چیخ تھک ہارا، انہیں ہوشیار کرتا رہا خبردار کرتا رہا لیکن یہ اپنی دنیا میں گم رہے۔ وقت کی رفتار تیز تھی اور اس دوڑ میں زمانہ آگے نکل گیا اور میرے اپنے پیچھے بہت پیچھے رہ گئے۔

میں حد درجہ حساس تھا، اپنے تو اپنے، میں اگر کسی غیر کو معمولی تکلیف میں دیکھتا تو تڑپ اٹھتا، انکی دلجوئی کرتا، انکو دلاسے دیتا اور انہیں اپنی بانہوں میں چھپا کہ زمانے کی سرد و گرم سے بچاتا۔ لیکن میری قسمت ہی خراب تھی وہ بھی دغاباز نکلے، میری وفاؤں کا بدلہ جفاؤں سے دیتے رہے۔ اپنوں اور غیروں کے ہاتھوں زخم کھاتے کھاتے، درد سہتے سہتے میں بے حس ہوگیا۔ شاید میری چھٹی حس نے مجھے بھیانک مستقبل سے آگاہ کردیا تھا کہ میں نے حساسیت کو دفنا کہ بے حسی کا لبادہ اوڑھ کر آنے والے وقت کیلیۓ خود کو تیار کرلیا۔

Meri Kahani Meri Zubani

وقت گزرتا رہا دیکھتے ہی دیکھتے میری آنکھوں کے سامنے سب کچھ بدل گیا۔ کبھی کبھی میں اپنے حسین ماضی کی یادوں میں کھو جاتا ہوں، تودھندلے سے منظر میری نظروں کے سامنے ابھرنے لگتے ہیں، جب چند بستیاں تھیں، بستیوں کے کچے مکانات تھے، ایک ایک مکان میں کئی کئی خاندان ایک ساتھ رہا کرتے تھے۔ محبتیں تھیں، بھائی چارہ تھا، سچائی تھی۔ بغض، کینہ عداوتوں کی پرچھائی تک نہ تھی۔ غربت تھی، بھوک تھی، افلاس تھا۔ بداخلاقی، بد فعلی، بے حیائی کا نام و نشان نہ تھا۔

اچانک میرے اس گلشن کو کسی کی نظر بد لگ گئی اور پھر خاندان بٹتے گئے، مکانات بنتے گئے، بستیاں پھیلتی گئیں، نئے شہر آباد ہوتے گئے۔ محبتیں رخصت ہوئیں، بھائی چارے کا بے رحمی سے گلا گھونٹا گیا، سچائی سے منہ موڑنے لگے۔ بغض نے جنم لیا، کینہ پلنے لگا، عداوتوں نے ڈیرے ڈالے۔ غربت مٹ گئی، بھوک ختم ہوگئی، افلاس کے لالے پڑ گئے ۔ بداخلاقی کا دور آیا، بدفعلی کو فروغ ملا، بے حیائی سرعام ہونے لگی۔

Meri Kahani Meri Zubani

بھائی چارے کی جگہ دشمنیاں پلنے لگیں، محبتوں کی خوشبو کی جگہ میری فضاؤں سے انسانی خون کی بدبو آنے لگی، میرا وجود تو زخمی تھا ہی لیکن اب میری روح تک گھائل ہوگئی ہے۔ مسیحا کی تلاش میں بھٹکتا رہا، کچھ حاصل نہ ہوسکا۔ میرے وجود کے زخم کسی کو نظر نہ آسکے تو میری روح کے گھاؤ کیسے کسی کو دکھائی دیتے۔ اب میرا سب کچھ بدل چکا ہے، اب اپنا آپ ہی مجھے اجنبی محسوس ہوتا ہے۔

Meri Kahani Meri Zubani

ابھی بھی مجھے اپنے مستقبل کی فکر ستا رہی ہے کہ اس پرفتن دور میں خون کا رنگ ہی بدل گیا ہے، بھائی، بھائی کا دشمن ہے میرا کیا ہوگا۔ ایک مدھم سی آس من کے کسی کونے کھدرے میں پل رہی تھی کہ میری آنے والی نسل کو میرااحساس ہوگا، وہ میرے گھاؤ پہ مرہم رکھے گی۔ مجھے اپنا سمجھے گی، میری فکر کرے گی۔

لیکن یہ تو نرالے نکلے، یہ تو مجھے پہچانتے ہی نہیں۔ انہیں تو مجھ سے کوئی لگاؤ نہیں، رتی بھر بھی انسیت نہیں ہے۔ ایک مسیحا کا انتظار ہے مجھے، جانے ابھی کتنا انتظار کرنا پڑے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *