Mera Kamra By Samina Abro

      No Comments on Mera Kamra By Samina Abro
Mera Kamra By Samina Abro

میرا کمرہ

ازقلم: ثمینہ ابڑو

چھوٹا سا کچی پکی اینٹوں سے بنا ناہموار فرش دو چارپائیاں ایک ٹیبل اور کچھ کتابیں میری کل کائنات۔ کمرہ جسے میں اپنی ساری تکلیفیں اور دکھ درد سناتے ہوئے بلک اٹھتی وہ مامتا کی طرح مجھے اپنی باہوں میں بھر لیتا اور لوری کی طرح حسین سپنے سناتا۔

سپنے رنگوں کے، پھولوں کے،خوشبو کے، بادل، بارش اور پرندوں کے، پرندے… پرندے تو آزاد ہوتے ہیں ہنستے مسکراتے گنگناتے ……دور آکاش میں اڑتے ہوئے…اور میں … ہاں میں بھی تو اڑنا چاہتی ہوں …دور ….بہت دور اونچا… بہت اونچا… مگر اس کمرے کی واحد کھڑکی سے “جو لگ بھگ چھت کے ساتھ روزن کی طرح ہے” چارپائی پہ کھڑی ہو کے باہر جھانکتی ہوں تو….تو چاند کھڑکی کی، سلاخوں کے پیچھے قید اور تارے نیم کے درخت میں الجھے نظرآتے ہیں۔

Mera Kamra By Samina Abro

میں بے چارگی سے بیٹھ جاتی ہوں اور بلب کی گھٹن زدہ پیلی روشنی میں کتابیں پڑھنے لگتی ہوں… یہاں تک کہ پلکیں بوجھل ہونے لگتی ہیں اور میں کھو جاتی، ہوں سہانے سپنوں میں اور پھر اچانک سیلاب آتا ہے…نہ اب وہ کمرہ ہے نہ گھر نہ گاؤں……. اب میں آزاد ہوں…. پر میرے سپنے۔

میرے سپنے مقید ہیں وہیں … اسی چھوٹے سے ٹوٹے پھوٹے کمرے میں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *