Mehndi Aur Mohabbat By Raheela bag Chughtai

      No Comments on Mehndi Aur Mohabbat By Raheela bag Chughtai
Mehndi Aur Mohabbat

انتخاب: اروی سجل

محبت ایک ایسا جذبہ ہے جس میں کچھ کہنے سے بھی بیشتر کچھ کہنے کو دل کرتا ہے۔ یہ دنیا کا واحد ’’نظریہ‘‘ ہے جس میں نفرت سے بھی نفرت ہو جاتی ہے۔ کہانی ہے سرسبز پہاڑوں کے درمیان بستے ایک خوبصورت گائوں کی، کہ جس میں صبح اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ سورج کی کرنوں کو اپنے اندر سمو چکی ہے۔ گھروں میں عورتیں ناشتے کے بعد دوسرے گھریلو کاموں میں مصرووف ہیں۔ مرد کھیتوں میں جا چکے ہیں، کمہار دینو مٹی کو مختلف شکلیں دینے کیلئے تیار کر رہا ہے۔

چوہدری صاحب کی گاڑی آ کر رکی، سلام دعا ہوئی. دینو کے پوچھنے پر چوہدری صاحب نے بتایا کہ وہ شہر کھاد لینے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی ان کی پانچ سالہ بیٹی بائمہ بھی تھی جو اسی دوران دینو کے بیٹے نورے کے ساتھ کھیلنے لگی۔ نورا اس کو مٹی سے کھلونے بنا کر دے رہا تھا۔ وہ بہت خوش تھی کیونکہ مٹی کو مختلف شکلیں دیتا ہوا نورا اسے بہت اچھا لگا۔

Mehndi Aur Mohabbat
چوہدری صاحب بولے دیکھ انہیں ذرا، ایسے خوشی سے کھیل رہے ہیں جیسے برسوں سے آشنا ہوں۔ دینو بولا، صاحب جی! بچپن بادشاہ ہوتا ہے، اس میں امیری غریبی، ذات پات کہاں ہوتی ہے۔ چوہدری صاحب مسکرائے اوربولے تم نے بالکل ٹھیک کہا۔ دیکھو  نا ہم دونوں بھی تو بچپن کے دوست ہیں۔ دینو کی آنکھوں میں فخر آنسو بن کر لہرایا۔ چوہدری صاحب کے جانے کے بعد وہ پھر سے کام میں مصروف ہو گیا۔ پھر تو روز کا معمول بن گیا۔ بائمہ اور نورا ساتھ ساتھ کھیلتے۔ نوراں طرح طرح کے کھلونے بنا کر دیتا، نہایت دلکش رنگوں سے نقش بناتا اور بچپن پر لگا کر اڑتا رہا۔
دونوں نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا۔ بچپن کا رشتہ دوستی سے محبت میں کب بدلا، اس سے دونوں بے خبر تھے۔ ایک دن بائمہ نے کہا نورے تیرے بچپن سے دیئے کھلونے اور برتن اپنی رنگینی میں مشہور ہیں۔ تم اتنے پیارے رنگ کہاں سے لیتے ہو؟ نورا بولا اپنے ہاتھ دکھا، بائمہ۔ اس نے اپنے ہاتھ آگے بڑھا دیئے۔ مہندی والے ہاتھوں کو بہت پیار سے دیکھ کر بولا، میرے برتنوں پر رنگ تیری مہندی کا ہوتا ہے۔

Mehndi Aur Mohabbat
بائمہ شرمائی تو جیسے ہر طرف جل ترنگ بج اٹھے ہوں۔ وہ خوشی سے سرشار حویلی پہنچی تو پہلی بار شیشے کے سامنے خود کو دیکھا۔ نورے کا یہ فقرہ بہت دیر اور دور تک اس کے ساتھ رہا۔ جب بائمہ نورے سے کسی بات پر ناراض ہوتی تو کئی کئی دن برتن رنگوں سے محروم ہو جاتے اور جب بائمہ راضی ہو جاتی تو برتنوں پر دھنک بکھر جاتی۔ ایک دن چوہدرائن نے بائمہ سے کہا آج کے بعد تیرا حویلی سے نکلنا بند۔ تم کیا ہر وقت کمہاروں کے گھر گھسی رہتی ہو۔کمہاروں کا چوہدریوں سے کیا میل؟

یوں گہری خاموشی کے ساتھ کچھ ٹوٹ گیا۔ بائمہ کے رشتے آنے لگے اور ایک جگہ بات پکی ہو گئی۔ شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ حویلی کو روایتی اندازمیں سجانے کیلئے نورے کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ پوری حویلی کو رنگین دیوں سے سجائے گا۔ جب نورا دیئے لیکر حویلی آیا تو بائمہ نے ماں سے آخری بار اپنے بچپن کے ساتھی سے ملنے کی ضد کی، اجازت مل گئی۔ تب وہ یہ دیکھ کر حیران ہوئی کہ سارے دیئے سادے تھے۔ یہ کیا نورے؟ اپنی ہی دوست کی شادی کیلئے دیئے سادے بنا دیئے۔ توپورے علاقے کو رنگوں سے رنگتا ہے، میرے لئے تیرے پاس کوئی رنگ نہیں بچا؟

Mehndi Aur Mohabbat
نورا رقت آمیز لہجے میں بولا،  بائمہ نے کھلونے نورے کو لوٹاتے ہوئے کہا ۔ نورے! جہاں میں جا رہی ہوں وہاں میں انہیں لیجا نہیں سکتی۔ بس اس طرح ہی بہت خوبصورت سی دوستی، بہت شرمیلا سا پیارا اس لین دین میں ہمیشہ کیلئے جدا ہو گیا مگر یہ کہانی دیو ںاور کھلونوں کی ہوتی تو ختم بھی ہو جاتی۔ یہ کہانی مہندی اورمحبت کی تھی، ہمیشہ رہنے والی تھی

دل کے اندر،روح کی گہرائیوں میں۔ اس واقعہ کو بہت عرصہ بیت گیا۔ اس وقت نورا ستر سال کا ایک بوڑھا ہےجو آج بھی مسجد کے پیچھے چوپال کے قریب برگد کے درخت کے نیچے جھکی ہوئی کمر کے ساتھ برتن بنانے میں محو نظر آتا ہے اور آج بھی اگر کوئی بچہ سادہ لٹو کو رنگین بنانے کی ضد کر بیٹھتا ہے تو نورا شرما کرمسکرا کر اور تھوڑا سا ڈانٹ کر بڑی معصومیت سے کہتا ہے، چلو بھاگو! مجھ سے چوری نہیں ہوتی۔ جو کام جوانی میں نہیں کیا اب کیسے کر سکتا ہوں۔Mehndi Aur Mohabbat

رنگوں والی سارے رنگ ساتھ لے گئی، اب میرے پاس تو کوئی رنگ نہیں۔
نورے اور بائمہ کی زندگی ختم ہونے پر ان کی کہانی تو ختم ہو جائے گی مگر اعتبار اور محبت کا ساتھ ہمیشہ رہے گا اور جہاں اعتبار نہیں رہے گا وہاں محبت بھی نہیں رہے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *