خاطر غزنوی ایوارڈ “محفل نظم نگری”رودادِ مشاعرہ

خاطر غزنوی ایوارڈ "محفل نظم نگری"رودادِ مشاعرہ

مرتب: علی مزمل

ادارہ،عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری اپنے منفرد اور جداگانہ طرزِعمل کے باعث دنیائے ادب کے افق پر کثیرالجہت روشنیاں منعکس کرتے ستارے کی مانند جگمگا رہا ہے اور ان شاءاللہ وہ وقت زیادہ دور نہیں جب ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری چیئرمین جناب توصیف ترنل صاحب کی سربراہی میں “شمس الادب” کہلانے میں حق بجانب ہوگا

img-20171115-wa0022

فی زمانہ نظم اردو ادب کی ایک معروف صنف ہونے کے باوجود غیرمحسوس طور پر پسِ پشت چلی گئی ہے ادارے نے اسی رجحان کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے “نظم نگری” کے عنوان سے ایک محفلِ مسابقت بسلسلہ ” عالمی موضوعاتی، تنقیدی، نظمیہ ” مورخہ- ۲۰۰۱۷-۱۱-۲۵ بروز ہفتہ بوقت ۷ بجے شام منعقد کئی جس میں بشمول پاکستان اور بھارت دنیا بھر کے معروف شعراء نے شرکت فرما کر محفل کو رونق افروز کیا۔

آج کےعالمی موضوعاتی تنقیدی نظمیہ مشاعرہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اول آنے والی نظم کو “خاطر غزنوی ایوارڈ” سے نوازہ جائے گا۔ مشاعرہ کی صدارت محترمہ شہنازمزمل صاحبہ (پاکستان) اور محترمہ انبساط ارم صاحبہ (انڈیا) کو سونپی گئی۔ جب کہ مہمانِ خصوصی کی مسندیں محترمہ جہاں آرا تبسم صاحبہ کوئٹہ (پاکستان) اور محترمہ مینانقوی صاحبہ ( انڈیا ) کو تفویض ہوئیں۔ تنقید نگاری کے فرائض محترم جناب ڈاکٹر شفاعت فہیم صاحب اور محترم جناب میجر شہزاد نیر صاحب نے انجام دیئے۔ محفل کی کامیابی میں جہاں بہت سے عوامل کار فرمارہے وہاں محترمہ ثمینہ ابڑو صاحبہ کی جاندار نظامت کا تذکرہ نہ ہوا تو گویا کفرانِ نعمت ہوا۔ آپ نے جس طرح سہج سہج کر نظامت کی اس نے محفل کو چارچاند لگا دیئے۔

یاد رہے مذکورہ مشاعرہ موضوعاتی تھا جس کے موضوعات یہ تھے

img-20171115-wa0020

محبت
غمِ حیات
الہام
شہادت
امید
نارسائی
کیکٹس
خواب
شکوہ
کتھارسس- وغیرہ
مگر صدحیف کہ اکثر شرکاء نے اس پابندی کی پاسداری نہیں کی۔ خیر یارزندہ صحبت باقی کے مصداق آئندہ پر اٹھا رکھتے ہیں

شروعات
ادھر گھڑیال نے گجر بجا کر سات بجنے کا اعلان کیا ادھر ثمینہ ابڑو صاحبہ نے حمدِباری تعالیٰ کے لیئے جناب ڈاکٹر اشادخان صاحب کو دعوتِ کلامِ دی۔ ڈاکٹرارشاد خان صاحب نے باگاہِ الٰہی میں حمدِباری تعٰالیٰ پیش کی اور تحسین اور دعاؤں سے مالامال ہوئے۔ بعدازاں محترمہ شہناز مزمل صاحبہ اور جناب وسیم ہاشمی صاحب نے حمدِباری تعالیٰ سے دلوں کو منور کیا۔ حمدِپاک کے بعد کشمیر کے منفرد لہجے کے جواں سال جواں فکر شاعر جناب شوزیب کاشر کو ہدیہء نعت کی سعادت نصیب ہوئی- جناب شوزیب کاشر کی نعت نے شرکاء محفل کو رحمتوں اور برکتوں کی نوید دی-

نعت کے چند اشعار
مری نس نس جو یوں مہکی ہوئی ہے
دیارِ جاں میں خوشبو نعت کی ہے
فرشتے چاسو سایہ فگن ہیں
درودِ پاک کی محفل سجی ہے

img-20171115-wa0026

شوزیب کاشر کی نعتِ مبارکہ کے بعد جناب نصیر احمد گرواہ کو دعوتِ کلام دی گئی۔ جنہوں نے “محبت” کے عنوان سے ایک مختصر نظم پیش کرکے داد سمیٹی۔ اس کے بعد عتیق العالم گرواہ صاحب کو دعوتِ کلام دی گئی۔ عتیق العالم گرواہ صاحب نے مختصر نظم بعنوان “نخلِ امید” پیش کی جسے ناقدین روائتی نظم کہا۔ اس کے بعد شمعِ محفل انڈیا کے ہونہار شاعر جناب علیم طاہر کے رو بہ رو لائی گئی- علیم طاہر صاحب نے “محبت میرے دل میں تُو” کے عنوان سے دل کش نظم پیش کی تحریری نظم کے ساتھ ساتھ ان کے روائتی صوتی پیغام نے سامعین کی ارواح کو مرتعش کردیا- خوب سما بندھا۔

نمونہء کلام ملاحظہ ہو

محبت روحوں کی آواز
محبت ان دیکھا ہر ساز
محبت البیلا انداز
محبت دل کے اندر راز
محبت ظلمت میں جگنو
محبت میرے اندر تو

img-20171115-wa0019

جناب علیم طاہر صاحب کے بعد ڈاکٹر ارشاد خان صاحب نے اپنی نظم بعنوان “پیغامِ محبت” پیش کی جس پر ناقدین نے اپنی گراں قدر آرا سے نوازا۔ پھر باری آئی استاد شاعر محترم امیرالدین امیر بیدر صاحب کی جن کا تعلق کرناٹک (انڈیا) سے ہے اور شعر گوئی میں یدِطولیٰ رکھتے ہیں اور کتب تصنیف کرچکے ہیں- آپ نے “تاج محل” کے عنوان سے نظم پیش کی اور خوب داد و تحسین کمائی

نمونہء کلام ملاحظہ ہو

دفن ہیں جس میں دلِ شاہِ جہاں کی دھڑکنیں
لے رہی ہے ذرے ذرے میں محبت کروٹیں
سنگِ مرمر کی عمارت ہے محبت کا جمال
جیسے تصویرِ مصور جیسے شاعر کا خیال 

امیرالدین امیر بیدر صاحب کے بعد دعوتِ کلام وادیء سندھ سے طلوع ہوتے خوش کلام شاعر جناب اشرف علی اشرف کو دی گئی- آپ نے اپنی نظم “تمہیں معلوم ہے جاناں” پیش کی اور شرکاء کے لیے خوش گوار تسکین کا باعث بنے

خاطر غزنوی ایوارڈ "محفل نظم نگری"رودادِ مشاعرہ

نمونہء کلام
وہ اتنی خوب صورت ہے کہ جیسے
بارشوں کے بعد والی رات کا منظر
کہ جس میں آسماں کی نیلگوں چھت پر
ستارے جھلملاتے ہیں تو دل کو چین ملتا ہے

اب جگر تھام کے بیٹھو مری باری آئی۔ جی آپ درست سمجھے مجھ خاکسار ہی کو پکارا گیا لہٰذا تمام یاد آیات کا ورد کرتے ہوئے بغیر امام ضامن باندھے میدانِ کارزار میں اترے اور “محبت” کے عنوان سے نظم داغ دی۔ بس پھر کیا تھا ایک محشر بپا تھا داد وصول کرتے کرتے اور شکریہ ادا کرتے کرتے جبڑے کو لقوہ مارگیا۔

نمونہء کلام

 

محبت اس طرح تخلیق ہوتی ہے
کہ جب گہرا سمندر بھاپ کی صورت
ہوا کے دوش پہ پانی اٹھاتا ہو
جہاں پہ خشک سالی ہو
جہاں کھیتوں کی مٹی بھی
فقط اک بوند کی خاطر سوالی ہو
وہاں بادل گھٹائیں ٹوٹ کے برسیں
تو ایسے
زمیں پر آسمانوں سے محبت کا
نیا سندیس آتا ہے
تو پھر بے جان چیزوں میں بھی
اک تحریک ہوتی ہے
محبت اس طرح تخلیق ہوتی ہے

جناب علی مزمل کے بعد محترم جناب امین اڈیرائی کے نام کی پکار ہوئی۔ آپ نے قادرالکلام ہونے کے باوجود اپنی نہایت مختصر مگر جامع نظم “آس” پر اکتفاء کیا اور تحسین پائی-

آس
میں نے بس اتنا لکھا تھا
شاید مجھ کو بھول گئی ہو
اس نے کورے کاغذ پر دو
نین بنا کر بھیج دیئے ہیں
جن میں اور نہیں کچھ لیکن
آس ملن کی جاگ رہی ہے

جناب امین اڈیرائی کے بعد محترم جناب میجرشہزاد نیر صاحب کو مدعو کیا گیا- آپ نے بھی امین اڈیرائی کی اقتداء میں مختصر نظم “گورستان” جو اختصار کے باوجود اپنے اندر معنویت کے خزائن سے لبریز تھی پیش کی۔

whatsapp-image-2017-11-28-at-12-24-37

گورستان
میں نے کفنا کے تیری یادیں سبھی
اپنے سینے میں دفن کر ڈالیں
اب تو ایک آشنا میرا
اپنی ٹوٹی ہوئی محبت کی
لاش کاندھے پہ لے کے آتا ہے
یہ نگر پھیلتا ہی جاتا ہے

اس کے بعد مشاعرے کی مہمانِ خصوصی محترمہ مینا نقوی صاحبہ کو دعوتِ کلام دی گئی۔ آپکا تعلق مرادآباد (انڈیا) سے ہے۔آپکے آٹھ مجموعہ ہائے کلام اپنے مستند کلام کا اعتراف کرا چکے ہیں مزید دو ایک مجموعے اشاعت کے مراحل میں ہیں۔ آپ نے اپنی نظم بعنوان “بےچین قلم” پیش کی جسے اجتماعی طور پر سراہا گیا اور بار بار تحسین سے نوازا گیا-

نمونہء کلام
اُف یہ تنہائی کے آسیب زدہ سناٹے
پی گئے ہیں مرے الفاظ کی گویائی کو
منجمد ہوگئی اظہار کے ہونٹوں کی نمی
پاوں یادوں کے چلے دشت کی پیمائی کو

whatsapp-image-2017-11-28-at-12-24-36

محترمہ مینا نقوی صاحبہ کے بعد مشاعرہ کی دوسری مہمانِ خصوصی محترمہ جہاں آرا تبسم صاحبہ کو دعوتِ کلام دی گئی جو کوئٹہ پاکستان سے تعلق رکھتی ہیں اور ادبی حلقوں کی روحِ رواں ہیں۔ آپ نے اپنا کلام “ایک یاقوتی نظم” کے عنوان سے پیش کیا- ان کی نظم کی بہت تحسین ہوئی-

نمونہء کلام
اے مرے دوست مری ایک تمنا تھی کہ میں
تیری چاہت میں کوئی نظم لکھوں
اک ترے پیار کی حدت میں تپکتی ہوئی نظم
جس کا ہر لفظ ہو یاقوت کا لفظ
تیرے جذبات کی حدت سے
سلگتا یاقوت

محترمہ جہاں آرا تبسم کے بعد محترم ڈاکٹر شفاعت فہیم صاحب کو بصد احترام مدعو کیا گیا۔ ادارہ محترم شفاعت فہیم صاحب کا ہمیشہ شکرگزار رہے گا کہ آپ ناسازی طبع کے باوجود اپنی کمی محسوس نہیں ہونے دیتے۔ مشاعرہ میں آپ نے “انسداد” کے نام سے اپنی نظم پیش کی جس کی خوب تحسین ہوئی۔

whatsapp-image-2017-11-28-at-12-24-24

نمونہء کلام
میں جب شام کو
اپنے دفتر سے
گھر لوٹتا ہوں
تو یہ دیکھتا ہوں
گھر کی دہلیز پر
وہ پرانی انگیٹھی
سلگنے کو رکھی ہوئی ہے
اور اس کا دھواں
گھر میں گھمڈا ہوا
گھر کی دیواروں سے اونچا اٹھتا ہوا
آسمانوں کی
راہوں سے ہوتا ہوا
جانے کن کن خلاوں کی جانب
رواں ہے

محترم شفاعت فہیم صاحب کے بعد شمعِ محفل مشاعرہ کی صدر محترمہ انبساط ارم کے سامنے لائی گئی- جن کا تعلق (انڈیا) اہلِ ادب خانوادہ سے ہے- آپ نے “محبت” کے عنوان سے نظم پیش کی جسے بے حد پسند کیا گیا۔

نمونہء کلام
محبت جھیل کے پانی سطح پر کنول جیسی
محبت عشق میں محبوب پر پیاری غزل جیسی
محبت سات رنگوں کی دھنک میں جگمگاتی ہے
محبت چاندنی سے ظلمتوں میں مسکراتی ہے

محترمہ انبساط ارم صاحبہ کے بعد مشاعرہ کی آخری مہمان اور صدرِ مشاعرہ محترمہ شہناز مزمل صاحبہ سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنا کلام پیش کریں۔ محترمہ نے “دائرے” کے عنوان سے دلکش نظم پیش کی جسے بے تحاشہ داد اور محبت سے نوازہ گیا۔

whatsapp-image-2017-11-28-at-12-23-41

نمونہء کلام
دائروں کے درمیاں بنتے ہوئے اک شہر میں
بے در و دیوار سے کچھ گھر نظر آئے تو ہیں
میری نظریں دور تک اس پھیلتے گرداب میں
دھندلے دھندلے کتنے منظر دیکھتی ہیں رات دن

لیجئیے جناب مشاعرہ تو ختم ہوا مگر اول آنے والے خوش نصیب کی رونمائی ابھی باقی ہے۔ ہم کیوں نہ تب تک ادارے کے ہر اس فرد کا شکریہ ادا کردیں جو مشاعرے کے انعقاد میں معاون ثابت ہوا۔ لہٰذا ادارہ اپنے تمام معزذ اراکین کا تہہ دل سے شکر گزار ہے جو اپنی سب سے قیمتی چیز ہم پر مفت نچھاور کرتے ہیں۔ خصوصاَ ناقدین کا شکریہ جو اپنی تمام تر صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہوئے ہمہ وقت ہماری رہنمائی کے لیے تیار رہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *