Meem Aatish Introduction And Ghazals

Meem Aatish Introduction And Ghazals

میم آتش صاحب کا تعارف اور کلام

تعارف
میم آتش صاحب بہت اچھے شاعر ہیں۔ آپکا اصلی نام سید عبدالمجید ہے مگرجب قلم سے رشتہ جڑا توآپ نے اپنا قلمی نام آتش رکھ لیا۔ میم آتش صاحب نے اپنے شاعری سفر کا آغاز ۲۰۰۰ کیا اور جو ابھی تک جاری و ساری ہے۔ میم آتش صاحب درس وتدریس جیسےعظیم شعبے کے ساتھ وابستہ ہیں۔ آپکو قیوم راز مارولی صاحب کا شرف تلمز بھی حاصل ہے۔

آئیں میم آتش صاحب کو مزید انکے کلام کے ذریعے جانتے ہیں۔

Meem Aatish Introduction And Ghazals

قیس کو لیلی ملی رانجھا ہوا کب ہیر کا
زندگی کچھ بھی نہیں بس کھیل ہے تقدیر کا

جب کیا اس کو مکمل توڑ کر اپنا قلم
خود مصور ہو گیا شیدا تری تصویر کا

کون ہے جو دے رہائی مجھ کو قید عشق سے
بل نہیں کھلتا کسی سے حلقئہ زنجیر کا

منتظر شیریں زمانے سے کھڑی ہے آس میں
لانے والا ہے نہیں کوئی بھی جوئے شیر کا

تند آندھی میں پرندہ چونچ میں تنکا لیے
دے گیا ہم کو سبق تخریب میں تعمیر کا

پھول تھے خوشبو کی خاطر دست بستہ سامنے
چاند فریادی تھا ان کی شوخئی تنویر کا

کوششیں اپنی ہیں بس ہر کام کے آغاز تک
زندگی موقع نہیں انجام کی تفسیر کا
میم آتش

Meem Aatish Introduction And Ghazals

باشندگان خلد کے حلقے میں آگئے
یعنی رسول پاک کے شجرے میں آگئے

محفل سے ان کو چھوڑ کے کمرے میں آگئے
بس اتنی بات پر ہی وہ غصے میں آگئے

سوچے بغیر نفس کے کہنے میں آگئے
کانٹے تمام دشت کے حصے میں آگئے

ہم اک حسیں بہار کے دھوکے میں آگئے
اس واسطے بلاؤں کے میں آگئے

اونچے مکان جس گھڑی ملبے میں آگئے
گھبرا کے لوگ شہر سے قصبے میں آگئے

لکھا تھا اضطراب سبھی کے جواب میں
ایسے سوال عشق کے پرچے میں آگئے

جادو گری دکھا گیا پھر کوئی سامری
سادہ مزاج لوگ تھے شیشے میں آگئے

جوں ہی قدم رسول کے سوئے چمن اٹھے
شاخوں سے پھول ٹوٹ کے رستے میں آگئے
میم آتش

Meem Aatish Introduction And Ghazals

جوہو چکا اک بار کبھی ہو نہیں سکتا
اس بات سے انکار کبھی ہو نہیں سکتا

اسلام کی تعلیم کو سمجھا ہو کسی نے
لاریب وہ غدار کبھی ہونہیں سکتا

سینے پہ لگا رکھا ہے جو داغ محبت
اب دور یہ آزار کبھی ہو نہیں سکتا

ہٹ دور ہوس مجھ سے یہ کہتے ہیں مسیحا
اچھا ترا بیمار کبھی ہو نہیں سکتا

دریائے نبوت سے جو سینچا گیا ہرگز
بر باد وہ گلزار کبھی ہو نہیں سکتا

جاری ہے ابھی سانس.پکارو اسے ورنہ
پھر.عشق کا اظہار کبھہ ہو نہیں سکتا

قانون مشیت ہے.اسے.لاکھ جگاؤ
ڈھونگی ہے جو بیدار کبھی ہو نہیں سکتا

اک میں ہی گنہہ گار ہوں دنیا میں بشر سے
اس بات کا اقرار کبھی ہو نہیں سکتا

ہے کون بشر ایسا جو اس روئے زمیں پر
حالات سے دوچار کبھی ہو نہیں سکتا
میم آتش

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *