Manzar Khyami Introduction And Ghazals

Manzar Khyami Introduction

منظر خیامی صاحب کا تعارف اور کلام

تعارف
منظر خیامی صاحب بہت اچھے شاعر ہیں۔ آپکا اصلی نام محمود ابن ابراہیم ہے مگر جب قلم سے رشتہ جُڑا تو آپ نے اپنا قلمی نام منظر خیامی رکھ لیا۔ منظر خیامی صاحب کی ابھی تک دو تصانیف منظرعام پر آچکی ہیں۔ جن میں زینت ادب ( غزلیہ گلدستہ)، قیصر دو عالم (نعتیہ گلدستہ ) شامل ہیں۔ آپ بزم اردو ادب باغ مانڈلہ کے صدر ہیں۔ منظر خیامی صاحب کا کلام مختلف اخبارات اور رسائل شائع ہو چکا ہے۔

آئیں منظر خیامی صاحب کو مزید انکے کلام کے ذریعے جانتے ہیں۔

Manzar Khyami Ghazals

دل سے ہر بات پہ لبیک کہا ہے میں نے
تیری تصویر سے بھی پیار کیا ہے میں نے

مجھ سے اب کوئی تجھے چھین بھی لے کیسے؟
دل کی الماری میں محفوظ رکھا ہے میں نے

تو تصور میں ہمیشہ ہے کھلے گل کی طرح
یعنی خوشبو کی طرح پیار کیا ہے میں نے

تیرے قدموں کے تلے خار نہ آئے گا کبھی
راستہ پلکوں سے شفاف کیا ہے میں نے

شب کی تنہائی میں یادوں سے تری ملتا ہوں
راز کو راز سلیقے سے رکھا ہے میں نے

اب مجھے دولت دنیا سے غرض کیا منظر
اس کی چاہت کو طلا مان لیا ہے میں نے

Manzar Khyami Unique  Ghazals

Manzar Khyami Ghazals

کیا بھروسہ دولت کا مفلسوں سے رشتہ رکھ
اور جا بلندی پر پستیوں سے رشتہ رکھ

یہ گھنے اندھیرے بھی جگنوؤں سے چمکیں گے
رات کے مسافر تو آنسوؤں سے رشتہ رکھ

ڈس بھی سکتی ہے پیارے اونچے گھر کی تنہائی
کھول در دریچے سب آہٹوں سے رشتہ رکھ

نیتیں بدلنے کی کوئی رت نہیں ہوتی
بھیڑ دوستوں کی ہے دشمنوں سے رشتہ رکھ

وقت پر لہو تیرا تیرے کام آ ئے گا
گھر الگ بنا لیکن بھائیوں سے رشتہ رکھ

لال اوڑھنی تیرے سر پہ سجتی ہے لیکن
پاؤں سونے سونے ہیں پایلوں سے رشتہ رکھ

صرف عیش کی خاطر پیار مت کسی سے کر
پھول توڑنے والے خوشبوؤں سے رشتہ رکھ

طیش میں بھی اے منظر بات کر سلیقے کی
سنگ کی تجارت کر آئینوں سے رشتہ رکھ

Manzar Khyami Best Ghazals

Manzar Khyami Ghazals

عشرت میں ہیں نمازیں بھی غرقاب آج کل
مسجد میں خوب روتی ہے محراب آج کل

خوابوں کا دور دور کہیں بھی پتہ نہیں
ٹھہرے ہوئے ہیں آنکھوں میں سیلاب آج کل

آنکھوں کا نور چھن گیا ہے قسمت کی بات ہے
پانی میں رقص کرتا ہے مہتاب آج کل

جھیلوں کا آب پی لیا دن بھر کی دھوپ نے
بربت پہ جا کے بیٹھ گئے سرخاب آج کل

چلئے جناب شہر کا ماحول ہے خراب
پتھر بھی خود کو کہتے ہیں سیماب آج کل

منظر تو فلسفی کی طرح کر رہا ہے بات
لیکن ہنر کا شہر ہے برفاب آج کل

Manzar Khyami

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *