مخمور سعیدی کے بہترین کلام میں سے چند منتخب اشعار

مخمور سعیدی کے بہترین کلام میں سے چند منتخب اشعار

انتخاب: مہر خان

سرخیاں ڈوبی ہوئی خون میں اخباروں کی
آج کے دن کوئی اخبار نہ دیکھا جائے

اتنی دیواریں اٹھی ہیں ایک گھر کے درمیاں
گھر کہیں گم ہو گیا دیوار و در کے درمیاں

الجھ کے خود کبھی ٹوٹے گی ڈور لفظوں کی
بکھرتے جائیں گے سب سلسلے خیالوں کے

فسادی جا چکے اپنے گھروں کو
محافظ شہر کے چوکس کھڑے ہیں

اب جہاں پاؤں پڑے گا یہی دلدل ہو گی
جستجو خشک زمینوں کی نہ کر پانی میں

مخمور سعیدی

makhmoor-saeedi-poetry-jpg1

بیچ سمندر کے رہی پیاسی اور اُداس
بارش کی اک بوند سے بجھی صدف کی پیاس

روز و شب کی رہگذر پر نقشِ پائے رفتگاں
مٹتے مٹتے کہہ گئے ہیں یہ سفر ہے رائیگاں

بکھرتے ٹوٹتے لمحوں کو اپنا ہم سفر جانات
ھا اس راہ میں آخر ہمیں‌ خود بھی بکھر جانا

ہوا کے دوش پر بادل کے ٹکڑے کی طرح ہم ہیں
کسی جھونکے سے پوچھیں گے کہ ہم کو ہے کدھر جانا

میرے جلتے ہوئے گھر کی نشانی بھی یہی ہوگی
جہاں اس شہر میں روشنی دیکھو ٹھہر جانا

پاس ظلمت کوئی سورج ہمارا منتظر ہوگا
اسی ایک وہم کو ہم نے چراغ رہ گذر جانا

دیار خاموشی سے کوئی رہ رہ کر بولتا ہے
ہمیں مخمور اک دن اسی آواز پر ہے جانا

نہ راستہ نہ کوئی ڈگر ہے یہاں
مگر سب کی قسمت سفر ہے یہاں

سنائی نہ دے گی دلوں کی صدا
دماغوں میں وہ شور و شر ہے یہاں

ہواؤں کی انگلی پکڑ کر چلو
وسیلہ اک یہی معتبر ہے یہاں

نہ اس شہرِ بے حس کو صحرا کہو
سنو اک ہمارا بھی گھر ہے یہاں

پلک بھی جھپکتے ہو مخمور کیوں
تماشہ بہت مختصر ہے یہاں

مخمور سعیدی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *