ماہ و سال کی گردش

      No Comments on ماہ و سال کی گردش
ماہ و سال کی گردش

تبصرہ نگار: عالیہ بخاری ہالہ

ماہ و سال تو مجھے یاد نہیں لیکن سوچوں تو مجھے کافی پرانی بات لگتی ہے الحمراء میں ایک کتاب کی تقریب پزیرائی تھی مجھے یاد نہیں ہے کہ وہ تقریب کس تنظیم نے منعقد کرائی تھی لیکن ٰ ٰ ماہنامہ نوازش ٰ کی مدیرہ اور موءقر جریدے ٰ تجدید نو،، جو مشفق و مہربان دوست محترمہ عذرا اصغر اور بہت پیاری دوست شبہ طراز کی زیر ادارت شائغ ہوتا تھا کی مشاورت میں شامل تھی اس لئے مجھے اس تقریب میں خصوصی طور پر دعوت دی گئی تھی۔ کیونکہ کتاب لکھنے والا شاعر نوازش اور تجدید نو فیملی کا باقاعدہ ممبر تھا نوعمر اور کیوٹ سے شاعر نے مجھے خاصا متاثر کیا۔ نوعمری میں ہی قدرت اس پر کس قدر مہربان تھی۔ اس کی شاعری اللہ پاک کے خاص کرم کی آئینہ دار تھی۔

aalia-bukhari

تقریب کے اختتام پر محترم بھائی شاکر کنڈان میرے پاس تشریف لائے اور بولے آپی مجھے آپ سے ملنے کا بہت اشتیاق تھا۔ انسانوں کے اس جنگل میں جہاں کوئی کسی کو بہن بھائی تو کیا انسان ماننے کے لئے بھی تیار نہیں اگرکسی چہرے پر احترام اور آنکھوں میں حیا نظر آئے تو دل اللہ پاک کا بہت ممنون ہوتا ہے۔ سچ مچ لگتا ہے جیسے کوئی ماں جایا ہی ہے۔ شاکر بھائی کے ساتھ صاحب تقریب بھی تھا آپی مجھے بھی آپ سے ملنے کا بہت اشتیاق تھا بے حد شرماتے ہوئے اس نے کہا اس کے بعد جب تک نوازش چھپتا رہا ہمارا مستقل رابطہ رہا نوازش کے بعد اس ٹوٹے ہوئے رابطے کو فیس بک نے بحال کیا۔ نومبر میں موصول ہونے والی تیسری کتاب اسی شاعر ہونہار و زی وقار ارشد محمود ارشد کی کتاب بساط زیست ہے۔

book

لیکن کتاب پر بات کرنے سے پہلے میں بتانا پسند کروں گی کہ اتفاقیہ طور پر ہماری ادبی تنظیم پاکستان ادب ورثہ لاھور کا ایک پروگرام سرگودھا میں ہونا قرار پایا میرے لیے وہ شاہینوں کی سرزمین تو ہے مگر وہ میرے قلمی بھائیوں کا شہر بھی ہے دل میں موہوم سا خیال تھا کے شاید ملاقات ہو جائے اور ملاقات ہو بھی گئی مقام حیرت یہ تھا کہ وہ نوجوان جو مجھے ماضی میں ملا تھا اس کے ہمعصر وقت کی سیڑھیاں چڑھتے کافی دور آن پہنچے تھے مگر وہ وہیں نوجوانی کی اولیں منزل پر کھڑا مسکرا رہا تھا شرما رہا تھا۔

توجناب یہ تو تھا صاحب کتاب کا ذکر خیر اب کتاب کی باری آتی ہے “عجب سی بےقراری ہے” سے شروع ہونے والا سلسلہ ”کبھی میں یاد آوں تو ۔۔۔ ،، اور ” شام کی دہلیز پر ” کے بعد ” بساط زیست ‘ تک آن پہنجا ہے۔ بساط زیست شاعر کے خیال کی پختگی اور فنی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے اپنے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ کہتا ہے “میں اس ریگزار کا تنہا مسافر نہیں مگر خود کو قافلے سے باہر محسوس کرتا ہوں

وہ بےقراری اور یہ تنہائی کا احساس ہی ایک شاعر کا سب سے بڑا روحانی ورثہ ہے یہ وہ مقام ہے جہاں قدرت انسان کو کرب کے ایک گہرے احساس کے ساتھ اظہار ذات کا حوصلہ عطا کر دیتی ہے خدا خود شاعر کے اندر ظہور پزیر ہو کر تبلیغ فرماتا ہے اور نا خواندہ روح بےاختیار پکار اٹھتی ہے

وظیفہ تجھ کو بتاتا ہوں ایک چاہت کا
جو قصر ذات سے نفرت کا شر نکالتا ہے
نجانے کون سی جنت کی جستجو ہے تجھے
کہ جس کے واسطے جینا مرا حرام ہوا

اور پھر یہ کیفیت بھی دیکھیے

یہ میرا دین یہ مذہب غرور ہے ارشد
عمل یہ دیکھ کے اپنے میں شرمسار بھی ہوں
لبادہ اوڑھ کے رکھتاہوں میں روایت کا
خیالِ دشت کا اک شتر بےمہار بھی ہوں

کیا آپ میرے ساتھ اتفاق نہیں کرتے کہ اتنا سچ وہی روح بول سکتی ہے جسے حق عطا کر دیا جائے۔ کتاب کے بارے میں نامور ادیبوں اور شاعروں نے مضامین لکھے ہیں ٹائٹل تجریدیت کا عمدہ شہکار ہے۔ کتاب میں مضامین، نعت رسول مقبول اور سلام کے علاوہ قریباً 104 غزلیں اور دس نظمیں شامل ہیں مجموعی طور پر یہ کتاب دیدہ زیب اور دلکش معیار کی حامل ہے اور بے شک ارشد کی شاعری قاری کے دل میں اتر جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *