Maai Chagali Brfat Ehad Saaz Hukmaran

      No Comments on Maai Chagali Brfat Ehad Saaz Hukmaran
Maai Chagali Brfat Ehad Saaz Hukmaran

تحریر: قیصر حمید رونجھو

عورت کو صنف نازک کا خطاب دے کر ہمیشہ کمزور عقل سے عاری ظاہر کیا گیا ہےعورت کا شمار کمزور ترین مخلوق کے طور پر کیا جاتا ہے۔ لیکن تاریخ کے پنےعورت کی بہادری، ہمت، عقل و دانش کی انگنت داستانوں سے بھرے پڑے ہیں۔ تاریخ کے سنہری بابوں میں ایک نام مائی چاگلی برفت کا بھی رقم ہے۔ لیکن زمانے کی ریت چلی آرہی ہے جو جیتے وہی ہیرو ٹھہرے اور جیتنے والوں نے تاریخ کے پچھلے باب کو مسخ کرکے اپنی اور منشا کے مطابق پیش کیا۔

سنہ 1030 ء میں لسبیلہ میں گجراور رونجہ قبیلے کے درمیان خون ریز معرکہ ہوا جس میں رونجہ قبیلے نے گجروں کو شکست دے کر لسبیلہ میں باقاعدہ ریاست کا قیام عمل میں لایا۔ رونجہ قبیلے نے فتح حاصل کرنے کے بعد امورریاست کی بھاگ دوڑ سنبھالی توچکارخان رونجھو ریاست کا حاکم بنا اور ” جام کا لقب پایا ” رونجہ قبیلے نے ساڑھے پانچ سوسال ریاست لسبیلہ پر حکمرانی کی اور

Maai Chagali Brfat Ehad Saaz Hukmaran

اس دورانیے میں اس کے 65 جام ” حکمران ” گزرے۔ 1676 ء میں رونجہ قبیلے کے آخری جام ” حاکم ” جام حاجی سنگھر رونجھو کو گنگا قبیلے کے سردار موسی خان گنگو کے ہاتھوں شکست ہوئی اس طرح لسبیلہ ریاست سے رونجہ کا راج کا خاتمہ ہوکر گنگا راج شروع ہوا۔ گنگا قبیلہ صرف 26 سال ریاست لسبیلہ پر حکمرانی کرسکا۔ سردار موسی خان گنگو کے بعد اس کا بیٹا دینار خان اور دینار خان کا بیٹا ابراہیم گنگو جام بنا۔ 1702 ء میں جام ابراہیم گنگو کی حکومت کا خاتمہ انکے اپنے قبیلے کے سردار جمعہ خان گنگو کے ہاتھوں ہوا۔

سردار جمعہ خان گنگو نے جام ابراہیم گنگو کو قتل کرکے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ جام ابراہیم گنگو کے قتل کا بدلہ لینے کیلیۓ کوہستان کے علاقے کے معتبر پہاڑ خان برفت جوکہ رشتے میں جام ابراہیم کے ماموں تھے نے لشکر لے سردار جمعہ گنگو پر حملہ کیا اورجمعہ گنگو کو شکست دے کر ریاست لسبیلہ کا حاکم بن گیا۔ پہاڑ خان برفت نے تیس سال ریاست پر حکومت کی اور زندگی نے وفا نہ کی 1730ء میں وفات پائی_ اسکی موت کے بعد اسکا کمسن بیٹا عزت خان برفت جام مقرر ہوا۔

Maai Chagali Brfat Ehad Saaz Hukmaran

بیٹے کی کمسنی کی بنا پر پہاڑ خان کی بیوا اور عزت خان برفت کی والدہ ” مائی چاگلی ” ریاستی امور کی نگران مقرر ہوئی مائی چاگلی برفت ریاست لسبیلہ کی اول خاتون حکمران تھی، انتہائی قابل اور فہم و فراست کی مالک تھی۔ لسبیلہ کے سرداروں کو مائی چاگلی یعنی ایک عورت کا حاکم بننا ایک آنکھ نہ بھایا اوراسکے خلاف سازشیں شروع کر دی۔ مائی چاگلی برفت ان سازشوں سے بے خبر ریاست کی ترقی اور فلاح کے لیۓ مصروف کار تھی۔

مائی چاگلی برفت نے ریاست لسبیلہ کی بنجر اور ویران زمین کو آباد کرنے کے لیۓ ریاست کے اندر نہری نظام کی بنیاد رکھی۔ دریاۓ پورالی اورلسبیلہ کے گرد و نواع کے پہاڑوں میں سے نہریں کھود کر جنگل،میدانوں کو قابل کاشت بنا کرریاست کو سرسبز بنا دیا۔ مائی چاگلی کا یہ عظیم کارنامہ رہیتی دنیا تک قائم و دائم رہے گا۔ 1742ء میں عالی کھتوریہ نے ریاست قلات کے حاکم کے ساتھ مل کر ریاست لسبیلہ پر حملہ کیا۔

Maai Chagali Brfat Ehad Saaz Hukmaran

مائی چاگلی برفت کو جب قلاتی لشکر کی پیش رفت کا علم ہوا تو اس نے لشکر تیار کیا اور مقابلہ کے لیۓ نکلی، بیلہ کی شمالی پہاڑیوں کے دامن میں قلاتی لشکر کو روک لیا۔ دونوں لشکروں کے درمیان خون ریز جنگ کا آغاز ہوا۔ عالی کھتوریہ کی پشت پر ریاست قلات کا ہاتھ اور مائی چاگلی تن تنہا تھی۔ لسبیلہ کے کئ سردار جو کہ ایک عورت کی حاکمیت کو قبول نہیں کر رہے تھے ان سرداروں نے مائی چاگلی کا ساتھ نہیں دیا۔

Maai Chagali Brfat Ehad Saaz Hukmaran

وہ چپ چاپ تماشہ دیکھتے رہے اور مائی چاگلی لڑتے لڑتے ٹیارہ پیر کے مقام تک پہنچی تواس کا پورا لشکر مرکٹ چکا تھا۔ اپنوں کی غداری اور ساتھ نہ دینے کی وجہ سے لس بیلہ کی عظیم حکمران جس نے اپنے دورحکومت کے دس سالوں میں ہی ریاست لسبیلہ کو بدل کہ رکھ دیا تھا قلاتی لشکر کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئی۔ مائی چاگلی شکست کھانے کے بعدریاست لسبیلہ سے نکل کر سندھ کے نامعلوم مقام کی طرف روانہ ہوگئ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *