Kuhan Kuhan Tuutatii Choorian By Nasir Ali Saleemi

      1 Comment on Kuhan Kuhan Tuutatii Choorian By Nasir Ali Saleemi
Kuhan Kuhan Tuutatii Choorian

مرشد نے اسے ایک وظیفہ بتایا تھا اور کہا تھا کہ اس میں سما جاؤ یا اس کو اپنے اندر سمو لو ،اس طرح کے تم اور یہ کلمہ الگ الگ نام بھی رکھتے ہوں مگر ایک دوسرے سے علیحدہ نہ کیے جا سکتے ہو ں۔وہ وظیفہ کیا تھا ؟اسم اعظم تھا ۔آب حیات تھا ۔ آلہ دین کا چراغ تھا یا پھر ماسٹر کی(key)تھا ؟مرشد کا چہرہ مبارک کیسا تھا ؟

مراقبے کے دوران اپنے پس منظر میں ایک نقش اور خطوط کتنے با معنی نظر آتے تھے اور جب مرشد پردہ فرما گئے تو گویا آنکھوں پر ،عقل پر،ہر طرف پردہ چھا گیا ،جیتی جاگتی دنیا سراب بن گئی ۔ہر چیز کو حجاب نے گھیر لیا ۔سراب میں پانی کہا ں ہے،کیسا ہے ؟حجاب میں پیکر کہاں ہے ،کیسا ہے؟ آبلہ پا سرابوں کی گرد میں آلود ہونا ،حجاب در حجاب ٹھو کر کھا کر گر پڑنا شاید اب یہی زندگی کا مقصد تھا ۔

Kuhan Kuhan Tuutatii Choorian

کلمو ا سارا دن پڑا سوتا ہے اور الوؤں کی طرح رات جاگا کرتا ہے چھٹیاں ہیں ماں ‘‘ کھاٹ پر پڑا پڑا ،سوتا جاگتا وہ سوچتا کہ بس ایک بار وظیفہ یاد آ جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔اتنا کام تو کرتا ہوں ۔سکول میں دماغ کھپاتا ہوں،بچوں کو ٹیوشن پڑھاتا ہوں ،اپنی گھریلو اور سماجی ذمہ داریاں پوری کرتا ہوں ۔مگر کیا کروں ،جب میرے دل کو کوئی سوئی کے ساتھ ہولے ہولے کھرچتا ہے

کبھی کبھی من میں ایک کرید سی لگ جاتی ہے ،میں اس پر لعنت بھیجوں یا فخر کروں اس سے کیا ہوتا ہے،یہ تو عجیب میٹھی سلگتی آگ ہے ۔لگائے نہ لگائے بجھائے نہ بجھے ۔نہ جانے رات کے کس پہر آنکھ لگ جاتی ہے یا کھل جاتی ہے تو یوں لگتا ہے میں گھوڑے پر بیٹھا ہوں دہلی تک ہر شہر اور شہریوں کے دلوں کو فتح کرتے جا رہا ہوں ،یہ الگ بات ہے کہ انگلیاں صرف نقشے پر ہوتی ہے ۔

کہ میں نے ابھی کشتی جلائی ہے ،سپین کی ریت ،سینے کے بالوں سے پھوٹتا پسینہ ،تلوار سے ٹپکتا لہو یہ اسی خوشبو کی مدہوشی ہے یا جو فلم دیکھی تھی اس کا خوابیدہ عکس ہے کہ بیت المقدس میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز ،بس ابھی تھوڑی دیر پہلے اپنی تلوار اور بہترین گھوڑا دشمن کے ہاتھ سالاراکو دیا تھا ۔

نہیں نہیں ،یہ تو ٹی وی کی خبر ہیں کہ اسرائیل نے اردن کے علاقے واپس کر دیئے اب خود کو کوڑے ماروں یا عربوں کو ان کے تیل کے چشموں میں پھینک کر آگ لگا دوں ’’بہت بری بات ہے‘‘مولوی صاحب نے کہا تھا کہ اچھا گمان رکھو جاگتے میں ،یا سوتے میں میرے ناخن چرجاتے ہیں ،سرکھاٹ کے پائیوں پر ٹکڑیں مارتا ہے ۔

Kuhan Kuhan Tuutatii Choorian

کیا ہاتھوں میں چوڑیاں پہن لوں اور خود کو آگ لگا دو ں۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں نہیں شاید وہ جو شراب پی تھی اس میں غلطی سے کچھ خبریں گھل مل گئی ہیں ۔شاید اسی کا ہیجانی اثر ہے۔’’ہائے نجانے کس کلموہی نے عمل کروادیا بچے پر پھر دورہ پڑ گیا ‘‘۔
دھڑ دھڑ پٹتے دروازے کی کنڈی ایک مرتبہ پھر ٹوٹ جاتی ہے ۔ماں وظیفے پڑھ پڑھ اس پر پھونکتی،یٰسین ملا پانی پلاتی اور وہ کہتا ماں ان وظیفوں کو چھوڑ و،بس وہ وظیفہ بتا دو ۔کیا روگ لگا لیا ہے تو نے ۔تمہارے اکثر یار بیلی اچھا بھلا کام کرتے ہیں پر تمہیں اس وظیفے کی پڑی ہیں ۔کتنے عاملوں اور عالموں نے تمہیں ہزاروں وظیفے بتائے ہیں ،مگر ماں وہ وظیفہ جو مرشد نے بتایا تھا ۔

اس وقت جب ان کی داڑھی میں وضو کا پانی موتیوں کی طرح چمک رہا تھا ،جیسے آسمان سے نور کی تجلی پڑ رہی ہو ۔سو جا بیٹا سو جا ۔تو ان عاملوں کے قابو آنے والا نہیں ۔اب کی بار تجھے تنخواہ ملے گی نا ،تو وہ کیا کہتے ہیں موئے دماغ کے ڈاکٹر کو دکھاؤ گی تجھے ۔سو جا۔

پھر وہی اذیت ناک کیفیت ،نہ نیند نہ بیداری ،کتنی تنخواہیں اور ٹیوشن کی رقمیں نفسیاتی ڈاکٹر(psychologist)کی جیب میں منتقل گئیں تھیں ۔اتنی سمجھ آگئی کہ اگر یہ امید ختم کر دی جائے کہ سراب میں پانی نہیں ہوتا اور حجاب در حجاب میں پیکر نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔تو پھر بچوں کو پڑھاتے پڑھاتے دماغ کی چول ہلی اور بہک گیا ۔

وہ سوچتا کہ اب تو مسلسل کوئی دل ودماغ کو سوئی کی نوک سے کریدتا رہتا ہے ۔یہ بچے بھاری بھاری فیسیں دے کر مجھے اپنے باوا کا کمی سمجھتےہیں پڑھتے رہو ،پڑھاتے رہو ۔پرنسپل سے شکایت کرو تو اپنی نئی گاڑی کی چابی گھماتا ہوا کہتا ہیں کہ ہینڈل کرنا سیکھو نہیں کر سکتے تو چھوڑ دو۔اب مجھے وہ وظیفہ ہی یاد نہیں اب تو اکثر فقروں کی یاد بھی نہیں رہتی ۔اب کھلی آنکھوں میں راکھ سی رڑکتی ہے ۔

جیسے پتلیوں کے نیچے میٹھی سی آگ سلگ رہی ہو ،کہ پکنک کے دوران بچوں نے پتھر مار مار کر دریا میں پھینک دیا اور دریا لاش کو اچھال دیتا ہے ،میری لاش میری آنکھوں کے سامنے بہتی جا رہی ہے نہیں نہیں ،یہ تو مجھے بچوں کی بات پر غصہ آ رہا ہے ۔۔۔۔۔میں نے بچوں کی ایک ایک نازک ہڈی کو توڑ کررکھ دیا ،پرنسپل نے پولیس کے حوالے کر دیا

،میری ماں میری پھانسی چڑھی لاش کو دیکھ کر سکتے کے عالم میں بیٹھی ہے اور آنسو اس کے پتھریلے چہرے پر لکیر سی بنا رہے ہیں ۔نہیں نہیں میں کوئی پاگل ہوں جو میں ایسا کروں ۔۔۔۔۔کہ میں پرنسپل کو گھور کر دیکھتا ہوں ،آہستہ آ ہستہ آ گے بڑھتا ہوا اس کا گلہ دبا دیتا ہوں ،میری گرفت مضبوط ہوتی جاتی ہےاس کی زبان باہر نکل جاتی ہے

اور اس کی آنکھوں کی ڈھیلے ابل رہے ہیں ،نہیں نہیں یہ تو پاگلوں والے خیالات ہیں ،انہیں دماغ میں نہ آنے دو ،اگر آتے ہیں تو انہیں روکنے کی کوشش نہ کرو انہیں آرام سے گزر جانے دو بچے اور اس کے کولیگ سرگوشیاں کرتے ہیں کہ دیکھو ابھی وہ پتھر کو دونوں ہاتھوں سے دبا رہا تھا اور ابھی اسے گھونسا مارا ہے وہ اپنے ہاتھ کے خون کو دیکھتا ہے

کہ میں ان سالوں کی سرگوشیوں کو اچھی طرح سمجھتا ہوں میری آنکھوں سے چنگاریاں نکلتی ہے اور میں to be or not to beچیختے ہوئے ایک ایک کی گردن مروڑنا چاہتا ہوں اور جب وہ ’’پاگل کا نعرہ بلند کرتے ہیں ۔۔۔۔۔تو دانشورانہ انداز میں ان سے کہتا ہوں کہ یار بڑے بزدل نکلے ،میں تو یونہی فرسٹریشن دور کرنے کیلئے psycho dramaکر رہا تھا کہ جہ چاہتا ہے الو کے پٹھے نفسیاتی ڈاکٹر psychotristکی کھوپڑی برف کے سوئے سے توڑ کر تمام خزانہ حاصل کر لوں

اور ان سب بیچارے سدا سے بھوکے ماسٹروں کو اس کا بھیجا کھلا دوں ۔پرنسپل نے ڈرتے ڈرتے چند ماہ کیلئے اس کو آرام کرنے کا کہا اور اس کے آرام کیلئے اب پرنسپل ہر ماہ تنخواہ دینے سے تو رہا ۔اب وہ سارا دن او ررات گھر پڑا رہتا ہے۔کبھی کبھی اس کے ذہن میں خیالات کی آمدورفت ختم ہو جاتی ہے اور ذہن خالی ہو جاتا ہے ۔

وہ اپنے آپ کو عجیب و غریب حرکتیں کرتا دیکھتا رہتا ہے تب اس کی ماں گھر ر گھر ر کرتی مشین روک کر محلے کے ایک دو جوانوں کو بلا کر اسے زنجیر سے باندھ دیتی ہے ۔بت بن کر اسے دیکھتی رہتی ہے اور جب اس کے ذہن میں وہ دورہ اتر جاتا ہے تو چپکے سے زنجیریں کھول کر مشین کی گھرر گھرر میں کھو جاتی ہے ۔

Kuhan Kuhan Tuutatii Choorian

ذہن کو معطل کرنے والے وقفے کبھی کبھی بڑھ جاتے ہیں اور کبھی کم ہو جاتے ہیں وقت کبھی بیتنے لگتا ہے اور کبھی رکنے لگتا ہے ماں جو اتنا عرصہ بت بن کر اسے دیکھتی رہتی ہے اب گھرر گھرر کرتی مشین ہر وقت اس کے دماغ میں گھر رگھررکرتی ہے اور آج وہ اس کے سر کو گود میں رکھتی ہے ۔

پھر جیسے بند ٹوٹ جاتا ہے ،آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں موتیوں کی صورت میں اس کے منہ پر گرتی ہے ،سورج کی روشنی سے آنسوؤں کے موتی چمکتے ہیں اور وہ انہیں دیکھتا ہے تو دماغ میں کہیں دور فاصلے پر اسے دھیمی دھیمی چمک نظر آتی ہے ۔آہستہ آہستہ اسے مرشد کی داڑھی میں چمکتے ہوئے

وضو کے بچے پانی کے قطرے نظر آنے لگتے ہیں اور اتنے عرصے بعد وہ ہکلاتے ہوئے کہتا ہے ماں۔۔۔۔۔۔۔مجھے۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔وظیفہ بتا دو ۔۔۔۔۔ماں کہتی ہے بیٹا میں نے تجھے اتنا عرصہ روکنے کی کوشش کی ’’اٹھ اور جا بیٹا تلاش کر لے اس بھری دنیا میں شاید کوئی تجھے وہ وظیفہ بتا دے‘‘۔

24

وہ گھر سے باہر نکلتا ہے ۔ایک ایک سے پوچھتا ہے ۔کسی کی منت کرتا ہے ،کسی کو گالیاں دیتا ہے ۔کسی کو مارتا ہے ،کسی سے مار کھاتا ہے،گالیاں سنتا ہے ،پھر چوک میں کھڑا ہو کر زورزور سے چلاتا ہے ۔کوئی ہے،کوئی ہے ،کوئی ہے جو مجھے وہ وظیفہ بتا دے ۔جو مرشد نے بتایا تھا ،پھر وہ دھمالنے ڈالنے لگتا ہے ۔

کوئی نہیں۔۔۔۔۔۔۔کوئی نہیں۔۔۔۔۔کوئی نہیں ،وہ زور زور سے چیختا ہے کوئی نہیں،کوئی نہیں چیختا رہتا ہے ۔اچانک ایک سمت میں مرشد کا چہرہ نظر آتا ہے جیسا کے پہلے مراقبے میں نظر آتا تھا ۔اسے یوں لگتا ہے جیسے مرشد کی زبان سے وظیفہ ادا ہو رہا ہو ،کوئی نہیں مگر۔۔۔۔۔۔۔۔،مگر کیا ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا؟۔۔۔۔۔۔۔کیا؟اب اس کے کپڑے گرد سے سیاہ ہو چکے ہیں۔

1 comment on “Kuhan Kuhan Tuutatii Choorian By Nasir Ali Saleemi

  1. Abubakar Abdul Khaliq

    Who is this writer. His name, as well as his writing style, reminds me of one of my teachers that I had several years ago. Is he from Sargodha? Is there any way to get in contact with him?

    Reply

Leave a Reply to Abubakar Abdul Khaliq Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *