Kon Jeeta Hai Teri Zulff Ke Sar Honay Tak

      No Comments on Kon Jeeta Hai Teri Zulff Ke Sar Honay Tak
urdu afasana

ایسا لگتا تھا کہ تمام شاموں کی تمام اداسیاں، لمحوں کی تمام محرومیاں اور ایام کی تمام تلخیاں ایک نقطے پر یکجا ہو گئی تھیں۔ وہ نقطہ ، وہ مرکز، اس کا دماغ تھا۔ وہ سوچوں میں گم، محرومیوں سے نڈھال، حسرتوں سے سرشار، اپنے گھر کے لان میں بیٹھا تھا۔ کچھ پھول کھلے ہوئے تھے، لیکن اس سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ اسے تو یوں لگ رہا تھاکہ پھولوں کا کھلنا، کلیوں کا مسکرانا ، شاخوں کابار آور ہونا محض خیال وخواب ہیں۔ کتابی باتیں ہیں، شاعرانہ تخیل ہے۔ وہ یہ شعر با ر بار دہرا رہا تھا۔

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے

جب انسان اپنی آمدورفت میں ہی آزاد نہیں تو پھر وہ آزاد کس چیز میں ہے؟ وہ کتنے بڑے بڑے فیصلے کر لیتا ہے، کتنے مصمم ارادے اس کے ذہن میں ہوتے ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ جو چاہے گا کرلے گابالخصوص اس وقت جب خواہشوں ، تمناؤں اور پھر آرزوؤں کا کوئی ایک مرکز بن جائے ، لیکن پھر کیا ہو جاتا ہے؟ انسان اس طرح بے بس، مجبور اور بے سہارا کیوں ہو جاتا ہے؟ اس کی تمام دانائی ، اختیار اور قوت ارادی کہاں کھو جاتی ہے؟

urdu afasana

یہ سب کچھ سوچنے والا پہلا شخص نہیں تھا، جانے اس سے پہلے کتنے ہوں گے جنہوں نے اسی طرح آرزوؤں کے ایوان سجائے گئے ہوں گے۔ پھر دیکھتے دیکھتے ان کے سامنے مسمار ہو گئے ہوں گئے ہو گے ۔ جانے کتنے ہوں گے جن کے چہرے اعتماد سے دہکتے ہوں گے لیکن پھر وہ حسرتوں اور مایوسیوں کا شکار ہو کر جانے کہا کھو گئے ہوں گے؟لیکن اسے تو یوں لگ رہا تھا کہ شاید وہ پہلا اور آخری شخص ہے جس پر آسمان نے اپنا سار غیض نازل کر دیا ہے۔

جس کے خلاف زمین نے اپنی ساری قوتیں صرف کر دی ہیں۔ ٹیلیفون کی گھنٹی بجتی ہے، وہ نہیں اٹھاتا ، گھنٹی بجتی چلی جاتی ہے، کوئی ہوگا؟ جانے کون ہوگا؟ لوگوں کو ٹیلیفون کرنے کے سوا اور کوئی کام ہی نہیں ، یوں ہی بار بار ڈسٹرب کرتے رہتے ہیں۔ گھنٹی بجنا ختم ہو جاتی ہے۔ شاید یہ ٹیلیفون اس نے کیا ہو؟ وہ سوچنے لگتا ہے ، نہیں! ایسا ممکن نہیں، جانے وہ کہاں ہے اور کس کی ہو گئی ہے؟

urdu afasana

اب اسے کچھ بھی تو یاد نہیں رہا ہو گا۔ کس کو یاد رہتا ہے؟ وقت سب کچھ بھلا دیتا ہے، سب کچھ وقت کی گرد میں کھو جاتا ہے، ہمارے وعدے ، ہماری قسمیں، ہمارے ارادے، سب وقت نگل جاتا ہے لیکن وہ پھر بھی یہ سب کچھ کیوں نہیں بھلا سکا۔ ماہ و سال اس کی زندگی میں بھی توگزرے ہیں ۔ جانے کتنی صحبتیں آئیں اور اس نے اُ س کے نام کر دیں ۔ جانے کتنی شامیں آئیں جن کو تحفتاً اس نے اُس کی نظر کر دیا۔

کتنی راتیں، کتنے دن، سب اس ایک یاد کے نام جو بس ایک یاد تھیں۔وہ یاد کے سوا اور کیا آتی تھی؟ ہوا کا ایک ٹھنڈا جھونکا کیوں چلتا ہے؟ نفرت اب مسکراتی ہے۔ اسے کسی کے دکھوں کا احساس نہیں ہے۔ کسی جھونکے کی ضرورت نہیں، کسی ٹھنڈی ہوا کی ضرورت نہیں۔ دروازے پر ایک دستک ہوتی ہے۔ وہ پرواہ نہیں کرتا ، اب وہ کس لیے دروازہ کھولے گا۔ ایک بار وہ اچانک اٹھتا ہے۔ شاید وہی ہو اور پھر ایک طنزیہ ہنسی اس کے ہونٹوں پر تیرتی ہے۔

اب یہاں کوئی نہیں آئے گا۔ یہاں کون آ سکتا تھا۔ دروازہ کھولنا بیکار ہے۔ ٹیلیفون ریسیور بے مصرف ، ہوا کا ٹھنڈا جھونکا بے کار، لیکن سوچنے کی بات ہے سب کچھ تو بیکار نہیں ہوتا۔ زندگی میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہوا کے ٹھنڈے جھونکے زندگی واپس لوٹا سکتے ہیں۔ ٹیلیفون پر کوئی آواز دلکش ہوتی ہے ۔ کوئی آشنا دستک دے سکتا ہے لیکن اسے یہ سب دیوانے کا خوف دکھائی دیتا تھا، فضول بے معنی اور لا یعنی۔

urdu afasana

 زندگی میں دمکتے لمحے بار بار نہیں آتے اور سارے دمکتے ہوئے لمحے بار بارنہیں آتے اور سارے دمکتے ہوئے لمحے دلکش نہیں ہوتے۔آہ! کیا دلکش تھاوہ وقت! کتنے حسین تھے وہ لمحے ! جب اس کی ملاقات ریحانہ سےہوئی تھی، ایک ہنستی مسکراتی نوجوان لڑکی یونیورسٹی انگریزہ ادب کی طالب علم،وہ کتنی عمدہ گفتگو کیا کرتی تھی، اسے شیکسپیئر، ملٹن اور کیٹس کی کتنی لائنیں یاد تھیں۔

اسے تو ان شعراء سے کچھ عشق تھا ، اسے زندگی سے عشق تھا، اپنے آپ سے عشق تھا اور راشد سے بھی ۔ راشد اس کا کلاس فیلو تو نہیں تھا لیکن اسے ادب سے بہت دلچسپی تھی ۔ وہ ایک دفترمیں کام کرتا تھا۔ شام کو واپس لوٹ کر ادب کا مطالعہ کیا کرتا۔ ریحانہ کے والدین اس کے محلے میں آبسے تھے۔ وہ روشن خیال لوگ تھے ۔ راشد کی ان سے ملاقات ہو گئی ۔ ریحانہ راشد سے بہت متاثرہوئی۔

اس کی ادب دوستی سے اور طرز حیات سے ، اسلوب زندگی سے، خلوص سے۔ ریحانہ کبھی کبھی ادبی موضوعات پر بحث کرنے کیلئے اس کے گھر چلی جاتی اور گھنٹوں پر ادب پر گفتگو کرتے رہتے۔ ریحانہ کا خیال تھا کہ ادب زندگی ہے۔ ادب کے ذریعے زندگی کا انشراح ہوتا ہے، زندگی کا پتہ چلتا ہے لیکن ارشد کا خیال تھا کہ لوگ ادب کو محض لطف اٹھانے کیلئے پڑھتے ہیں ، وقت گزرنے کیلئے ، دل خوش کرنے کیلئے۔

urdu afasana

ادب میں جو کچھ ہوتا ہے وہ زندگی تو ہوتی ہے لیکن لوگ اسے زندگی نہیں سمجھتے ، خوبصورت باتیں کرتے ہیں، ادب کا سہارا لیکر اپنی عظمت کا سکہ بٹھاتے ہیں لیکن ادب ان کی زندگی میں بوجہ داخل نہیں ہو سکتا۔ اس طرح کی بحثیں اکثر ہوتی رہتی تھیں۔ ویسے دونوں کے نظریوں میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔ ریحانہ زندگی کی تلخ حقیقتوں سے نا آشنا تھی، وہ صرف یہ جانتی تھی کہ زندگی کی مشکلات کوئی اتنی بڑی مشکلات نہیں ہوتیں۔

وہ روشن خیال ماں باپ کی بیٹی تھی جس پر کسی طرح کی پابندی نہیں تھی ۔ انہیں یقین تھا کہ ان کی بیٹی درست فیصلے کرتی ہے، احمق نہیں ہے۔ وقت گزرتا گیا، راشد اور ریحانہ ملتے جلتے رہے ، ملاقاتیں بڑھتیں رہی،اور پھر یوں لگا کہ وہ بہت دور نکل آئے ہیں ، بہت دور جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ریحانہ کو اس بات کا اندازہ تک نہیں وہ ہنستی کھیلتی راشد کے ساتھ زندگی کی پگڈنڈیوں پرچلتی رہیں۔

اسے معلوم اس وقت ہوا جب جب وہ ایم۔ اے کر چکی اور اس کے والدین نے اس کی شادی کا ارادہ ظاہر کیا۔ اب وہ راشد کے سوا کسی اور کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی لیکن وہ یہ بھول گئی تھی کہ راشد عمر میں اس سے کہیں بڑا تھا۔ اس کی شادی ہو چکی تھی اور خاندانی چپقلشوں کی وجہ سے ان کا رشتہ ازدواج قائم نہیں رہ سکتا تھا۔اس بات کو کئی سال بیت چکے تھے ۔ اس نے یہ بات نہ کبھی راشد سے پوچھی تھی نہ اس نے بتایاتھا ۔

شاید دونوں ادب کے حوالے سے ایک دوسرے سے منسلک تھے لیکن کو ادب کو زندگی سے کون جدا کر سکتا ہے۔ حقیقت اور افسانے بعض اوقات کچھ اس طرح گڈ مڈ ہو جاتے ہیں کہ ان میں فرق کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ اکٹھی صحبتیں اور اکٹھی شامیں گزارنیں والے خواہ کسی حوالے سے بہت مختلف ہوں لیکن جانے کیوں اس طرح منسلک ہو جاتے ہیں جیسے وہ کبھی علیحدہ نہیں تھے۔

urdu afasana

یہ عمل شعوری بھی ہوتا ہے اور لا شعوری بھی ! لیکن ریحانہ اور راشد کے حوالے سے یہ عمل بالکل لا شعوری تھا ۔ وہ تو ادبی موضوعات پر بحث کیاکرتے تھے لیکن ادب پر بحث زندگی پر بحث میں کب تبدیل ہو گئیں اس کا احساس تک نہیں تھا اور اس کا احساس اس وقت ہوا جب وہ بہت دور نکل چکے تھے ۔ ریحانہ کے والدین بڑی سنجیدگی کے ساتھ اس کے رشتے کی تلاش میں سر گرداں تھے۔ ریحانہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار اپنے والدین کے سامنے کیسے کرے

انہیں کیسے بتائے کہ خیال کی ہم آ ہنگی رکھنے والے ، جزبوں میں اشتراک پیدا کرنے والے ایک دوسرے سے جدا نہیں ہ وسکتے ، یہی تو زندگی ہے، یہی تو ملاپ ہیں، شاید یہی رشتہ ازدواج ہے ۔ وہ یہ بات والدین سے کس طرح کرے اسے معلوم نہیں تھا۔ بے شک وہ بہت روشن خیال تھے ، ہر بات اس سے کر لیتے تھے ، زندگی کے نشیب و فراز سے ممکن نہیں تھے، زندگی سے واقف تھے لیکن بعض جزبے بہت لطیف ہوتے ہیں ، ان کا اظہار بہت مشکل ہوتا ہے ۔ ریحانہ نے اشاروں کے کناؤں سے اپنی والدہ کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کر ہی دیا اور پھر وہی کچھ ہوا جو ہونا تھا۔

تم جیسی ذہین لڑکی اپنے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتیں تو اور کون کرے گا؟ تم جانتی ہو کہ راشد پڑھا لکھا سہی مگر دفتر میں ایک معمولی سا کلرک ہے ۔ اپنا گزر اوقات کس طرح کرتا ہے ۔ ریحانہ کچھ دیر تو خاموش رہی جیسے اس پر بجلی گر گئی ہو ، وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی ماں بھی اس انداز سے سوچ سکتی ہے۔ پھر ریحانہ نے ہمت کر کے کہا مسئلہ دل کی خوشی کا ہوتا ہے ، جب دل خوش ہو تو راہیں خود بخود خوشگوار ہو جاتی ہیں۔

راشد کلرک سہی لیکن وہ ایک ذہین اور محنتی انسان ہے لیکن روشن خیال ماں کم از کم اس نقطے پر متفق نہیں ہو سکتی تھیں۔ وہ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اس قدر تعلیم یافتہ نہیں تھی کہ جانتی کہ دولت کی ریل پیل ہی سب کچھ نہیں ہوتی اور یہ کہ خوشی جب دل سے پھوٹتی ہے تو زندگی کو کس طرح خوبصورت بنا دیتی ہے۔ اپنی تمام تر تعلیم کے باوجود روایتی شکنجوں میں جکڑی ہوئی تھی۔ وہ اپنی بیٹی کو کلرک سے کس طرح منسلک کر دے ، لوگ کیا کہیں گے۔

سوشل سٹیس کی بھی تو کوئی بات ہوتی ہے، چلو وہ عمرمیں ریحانہ سے بیس سال بڑا سہی ، اس سے فرق نہیں پڑتا ، جس بات سے فرق پڑتا ہے وہ اس کا معاشرہ میں مقام ہے۔ ریحان کی والدہ نے جو کچھ کہا اس سےریحانہ بہت پریشان ہو گئی ، پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔ بہت سے دلائل اس کے پاس تھے۔ وہ بہت کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن اسے تو چپ سی لگ گئی تھی۔ جب یہ بات ریحانہ کے والد تک پہنچی جو ایک تعلیم یافتہ بزنس مین تھا وہ آگ بگولہ ہو گیا۔

راشد کی یہ جرات کیسے ہو گئی کہ وہ اس حد تک بڑھ گیا اور ریحانہ اس قدر احمق کس طرح ہو سکتی ہے یہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی ۔ ایسا ہر گز نہیں ہو سکے گا ، یہ کس طرح ممکن ہے؟ وہ گرج کر کہنے لگا، اس کی گرج میں اتنی شدت تھی کہ ریحانہ کا دل بیٹھ گیا، اسے یوں لگاکہ اب وہ زندگی کے اس موڑ پر آ گئی ہے ، جہاں پر اسے اپنا اختتام کر لینا چاہیئے ۔ اس نے یہ سب کچھ راشد کو بتایا۔

راشد پر ایک بجلی سی گر گئی ۔ وہ اپنی تمام تر دانش کے باوجود نہیں جانتا تھاکہ سوچ کے اس پہاڑ سے جوئے شیر کیسے نکالے ، پتھروں کو کیسے گزار کرے، وہ اس کے والدین سے کوئی بات بھی تو نہیں کر سکتا تھا ، سمجھا بھی تو نہیں سکتا تھا ۔ ریحانہ اور راشد دونوں قدرت کے ہاتھ میں ایک کھلونہ تھے۔ قدرت ان سے کھیل رہی تھی، وہ نہیں جانتے تھے کیا کریں۔ ریحانہ میں بغاوت کی قوت نہیں تھی اور راشد بھی اس سیل بے پناہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔urdu afasana

چنانچہ دونوں نے دکھوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ۔ اور ریحانہ اپنی مرضی کے خلاف رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئی ۔ آسمان دیکھتا رہا اورزمین بھی شک نہیں ہوئی، ستارے بدستور چمکتے رہے ، پھول کھلتے رہے، صرف دو دل ٹوٹ گئے ، راکھ ہو گئے۔ راشد چند روز کے بعد دفتر گیا مگر دفتر میں اس کا دل نہیں لگتا تھااسے یہ مکان جس میں وہ رہتا تھا ترکے میں ملا تھااور کوئی زرعی زمین بھی۔ اس نے دفتر جانا چھوڑ دیا، طویل رخصت لے لی اور پھر استعفیٰ دے دیا۔

یوں وقت گزرنے لگا۔ ریحانہ اور راشد کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہو سکا، کوئی فون نہیں آیا، کوئی خط نہیں ملا، راشد شام کو صبح کر دیتااورصبح کوشام۔ زندگی میں اس کی دلچسپی ختم ہو چکی تھی ، وہ خودکشی کرنا چاہتا تھا لیکن جانےاسے کون روک دیتا تھا۔ آج اس بات کو تین سال ہو گئے تھے ۔ٹیلیفون کی گھنٹی بجی اس نے ٹیلیفون نہیں اٹھایااب وہ کبھی ٹیلیفون نہیں اٹھائے گا، شاید کبھی نہیں ، وہ بے حوش سا ہو گیا،

دروازے پر دستک سنائی دے ، دستک شدید تر ہوتی گئیں بہت شدید اور وہ چونکا وہ دروازہ نہیں کھو لے گا۔ مگر دستک کی شدت بڑھتی گئی ۔ راشد دروازے کی طرف بڑھا کانپتے ہوئے ہاتھوں سے دروزہ کھولا ، ریحانہ سامنے تھی ’’میں آ گئی ہوں راشد، تمہاری ریحانہ آ گئی ہے، وہ تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی تھی‘‘ یہ دیکھ کر راشد سکتےمیں گیا اور اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا اور پھر رک گیا، ہمیشہ کیلئے۔ ریحانہ سے یہ منظر نہیں دیکھا گیاوہ چیخ اٹھی اور بے ہوش ہو گئی۔

اس کے شوہرنے اس کا یہ رویہ دیکھ کر اسے طلاق دے دی ۔ وہ اپنے شوہر کی خدمت بھی کرتی تھی ، سارے کام بھی کرتی تھی لیکن وہ اسے اپنا نہیں سکتی تھیں۔ایک رشتہ جو دونوں میں برقرار رہا۔ ریحانہ جب ہوش میں آئی میں توچیختی چلاتی اپنے گھر پہنچی ۔ ماں با پ کو صورت حال کا کچھ اندازہ تھا، وہ خوش تو تھے کہ ان کی بیٹی کی شادی ایک مل اونر کے بیٹے سے ہو گئی ہے لیکن انہیں آہستہ آہستہ یہ معلوم ہونے لگا تھا کہ وہ غلطی پر تھے۔

urdu afasana

ریحانہ کو دیکھ کر وہ چونک سے گئے ریحانہ نے پوری کہانی جانے کس کرب سے بیان کی ، کس دکھ سے سنائی ماں باپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے، وہ سب راشد کے گھر گئے اس کے چند رشتہ داروں کو اطلاع دی اسے سپرد خاک کر دیا گیا ۔ محبت منوں مٹی تلے دب گئی۔ ریحانہ کیلئے اب کیا رہ گیا تھا۔ وہ اس کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھیں ، اس نے خود کشی کی کوشش کی لیکن وہ ایک خیال پر اٹک سی گئی۔

خود کشی مجھے کرنی چاہیئے یا اس معاشرے کو نوجوان روحوں کو خود کشی پر مجبور کرتا ہے، ان ماں باپ کو جو جزبوں کی زبان نہیں سمجھتے ، کنکھتے ہوئے سکوں کو جزبات پر ترجیح دیتے ہیں۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس اندھیر نگری میں محبت کا چراغ روشن کرے گی۔ اس نے اپنے والدین کو بھی باور کرادیا کہ اس پورے المیے کے وہ ذمہ دار ہیں۔ ریحانہ اس کی ماں اور اس کا باپ اب ایک تحریک کے علمبردار ہیں، ایک پرچہ نکالتے ہیں

جس میں زندگی کی ایسی سچی کہانی تحریر کرتے ہیں جو زندگی کو روشنی عطا کرتی ہیں۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب وہ ایک تنظیم بنائیں گے جو زندگی سے تعصبات ختم کرنے کیلئے وقف ہوگی ۔ وہ یہ بات عام کر دیں گے کہ محبت کرنے والوں کے دل سچ بولتے ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوان اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں۔ ریحانہ نے خود کشی تو نہیں لیکن اس کی کوشش سے جانے کتنے حساس دل اور حساس روحیں زندگی کی نا مرادیوں سے نجات حاصل کر رہے ہیں۔urdu afasana

جہاں کہیں ایسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہیں یہ تینوں اور ان کے ساتھی قریقین کو زندگی کے حقائق سے روشناس کراتے ہیں، مزہب کی من پسند تعبیر کرنے والوں کو مزہب کی اصل روح سے روشناس کراتے ہیں اور تعصبات کے لات و منات کو پاش کرتے ہیں ۔ شادی دو دلوں کی ہم آہنگی کا نام ہے، سودا گری نہیں۔ شادی خوشیوں کی شمع کی لو کو تیز کرنے کا نام ہے۔ کوئی مصلحت کیشی نہیں۔ شادی بارضا ورغبت فیصلے کا نام ہے، خاندانی وجاہت کی تشہیر نہیں۔

یہ وہ نعرے ہیں، یہ وہ حقیقت ہے جو ریحانہ اور اس کے والدین اپنے پرچے میں شائع کرتے رہتے ہیں اور اس طرح ریحانہ ارشد کی موت کا کفارہ ادا کرتی ہے۔ کیا اسے بھی خود کشی کر لینا چاہیئے تھی یا یہ کہ اس کا طرز عمل راشد کی روح کو تسکین عطا کرنے کا بہترین اسلوب ہے۔

یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے جواب میں قاصر ہوں قارئین خود فیصلہ کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *