آج کی شخصیت کشور ناہید صاحبہ

آج کی شخصیت کشور ناہید صاحبہ

انتخاب: مہر خان

کشور ناہید 03 فروری 1940 میں بلند شہر(ہندوستان) میں ایک قدامت پسند سید گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُنکے والد نے آٹھویں جماعت میں تعلیم کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ وہ راج گھاٹ نرودا کے مینجر تھے۔ کشور کے نانا فضل الرحمان وکالت کرتے تھے مگر لڑکیوں کی تعلیم کے قائل نہ تھے۔ کشور کی والدہ صرف قرآن ناظرہ اور بہشتی زیور پڑھ سکیں تھیں۔ مگرانہوں نے اپنی اولاد کو تعلیم دلانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔ کشور کے گھرانے میں عورتیں پردے کی پابند تھیں سات سال کی عمر میں کشور کو بھی برقع پہنا دیا گیا تھا۔

ایک قدامت پسند گھٹے ہوئے ماحول میں پرورش پانے والی کشور نے اپنی زندگی کے تمام فیصلے روایت سے ہٹ کر کئے۔ نویں جماعت سے انہوں نے اخبار میں لکھنا شروع کیا۔ میٹرک کے بعد اپنی ضد منوا کر کالج میں داخلہ لیا۔ فرسٹ ایر سے ہی شعر کہنے کا سلسلہ شروع ہوا۔گھر والوں کی شدید مخالفت کے باوجود اُن کا علمی ادبی سفر جاری رہا۔ تعلیمی دور تقریری مقابلوں اور مشاعروں میں حصہ لیتی رہیں اور ان کا کلام ادبی رسائل میں چھپتا رہا۔ پنجاب یونیورسٹی میں معاشیات میں ایم اے کے دوسرے سال میں تھیں جب گھر والوں کو یوسف کامران کے ساتھ اُن کی دوستی کا علم ہوا۔ ایک ایسے گھرانے میں جہاں رشتے کے بھائیوں سے بات کرنا بھی ممنوع تھا وہاں یہ خبر قیامت سے کم نہیں تھی۔ اس جرم کی پاداش میں کشور اور یوسف کا نکاح پڑھوا دیا گیا۔ کشور کی شادی گو کہ پسند کی شادی تھی مگر اُن کے ازدواجی حالات کچھ اایسے خوشگوار نہ تھے۔کشور اور یوسف کے دو صاحبزادے ہیں۔ یوسف کامران 1984میں انتقال کر گئے۔

کشور ناہید کے چھ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ان کو ۱۹۶۹ء میں ان کی کتاب ’’لب گویا‘‘ پر آدم جی ایوارڈ بھی ملا۔ انہوں نے فرانس کی مشہور ناول نگار سمعون ڈی بوار کی کتاب ’’سیکنڈ سیکس‘‘ کا اردو ترجمہ ۱۹۸۳ء میں ’’عورت‘‘ کے نام سے شائع کیا۔ ان کی دیگر کتابوں میں ’’خواب اور خاک کے درمیان‘‘ (مضامین کا مجموعہ‘ ۱۹۸۸ء)، ’’میرے لوگ زندہ رہیں گے‘‘ (لیلیٰ خالد کی آپ بیتی کا ترجمہ، ۱۹۸۲ء)، ’’آ جائو افریقہ‘‘ (سفر نامہ)، ’’باقیماند خواب‘‘ (بیسیویں صدی کے معروف ادیبوں، مفکروں اور شاعروں کے انٹرویوز، ترجمہ، ۱۹۸۲ء)، ’’خواتین افسانہ نگار‘‘ (۱۹۳۰ء ۔ ۱۹۴۰ء)، ’’اردو ادب ۱۹۸۳ء‘‘ (انتخاب) ’’زیتون‘‘ (جپسی ناول کا ترجمہ) اور ’’ناوک دشنام‘‘ (منو بھائی کے کالموں کا تجزیہ) شامل ہیں۔ ’’لب گویا‘‘ کے علاوہ کشور ناہید کے شاعری کے مجموعے ’’گلیاں دھوپ دروازے‘‘ اور ’’میں پہلے جنم میں رات تھی‘‘ شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ کالموں کا مجموعہ ’’دکان متاع و ہنر‘‘ اور ان کی اپنی آپ بیتی ’’بری عورت کی کتھا‘‘ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ کشور ناہید کی متعدد نظموں کا انگلش اور ہسپانوی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔
کشور ناہید کو آدم جی ایوارڈ کے علاوہ یونیسکو پر اثر منڈیلا ایوارڈ، ستارئہ امتیاز اور کولمبیا یونیورسٹی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *