Khushi Ke Naam By Qaisar Hameed Ronjho

Khushi Ke Naam By Qaisar Hameed Ronjho

خوشی کے نام

تحریر: قیصر حمید رونجھو

میری زندگی میری خوشی، سدا خوش رہو

پاکیزہ، کومل محبتوں سے لبریز تمھارا محبت نامہ ملا۔ جس میں تم نے اپنی والہانہ محبتوں کا ذکر کھلے الفاظ میں کیا، میں تو اول روز سے تمھاری ذات کا اسیر ہوں اس پہ سونے پہ سہاگہ تم اور تمھاری محبت ہے۔ بعد از خیر و خیریت تم نے گاؤں کا احوال لکھا، پڑھ کرمیں نے خود کو گاؤں کی ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیوں پہ تمھارے سنگ سنگ پایا۔ یہ جان کر مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ گاؤں میں ابھی محبتیں جوان ہیں۔

Khushi Ke Naam

خلوص کی محفلیں عروج پہ ہیں۔ ابھی بھی سر شام گاؤں کی چوپال سجتی ہے۔ مارے خوشی کے میرا دل جھوم اٹھا اور بے اختیار دل سے دعا نکلی کہ گاؤں کی یہ محبتیں، رونقیں تاقیامت قائم و دائم رہیں۔ اس پردیس میں تمھارا خط میرے لیۓ مژدہ جاں ہوتا ہے۔ میں جہاں ہوں وہاں تو اب محبتیں ناپید ہوچکی ہیں۔ نفانفسی کا عالم ہے۔ یہاں مجھے ہرپل ہر لمحہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آکاش کی وسعتوں میں اٹھکلیاں لیتے بے فکر پنچھی کو قید کرکے اسکی آزادی سلب کی گئی ہو۔

میری خوشی! تمھیں شہر کے بارے میں جاننے کا اشتیاق ہے۔ کچھ لکھنے سے قبل ہی ایک بات کی وضاحت کردوں کہ گاؤں والوں نے اپنے دل و دماغ میں جو حسیں تصورات سجا رکھے ہیں حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تم نے اپنے خط میں گاؤں کی صبح کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ جب رات کے ہولناک سناٹے میں حی الصلاح اور الصلوت خیر و من نوم کی وجد بھری صدائیں بلند ہوتی ہیں تو پورا گاؤں اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے۔

بوڑھے، بچے اور جوان سبھی مسجد کا رخ کرتے ہیں اور عورتیں گھروں میں ہی خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت میں جت جاتی ہیں۔ مسجد میں باجماعت نماز اور تلاوت قرآن پاک کے بعد گزری شب کی خیر خبر دریافت کرتے ہیں۔ عورتیں عبادت سے فراغت کے بعد ناشتے پانی کا انتظام کرتی ہیں۔ مرد گھروں کو لوٹتے ہیں تو انہیں تازہ لسی اور مکھن میں چپڑی روٹی کا ناشتہ تیار ملتا ہے جسے کھا کر مرد کھیتوں اور بچے اسکول کا رخ کرتے ہیں۔

باقی پیچھے بزرگ اورعورتیں رہ جاتی ہیں، بزرگ بھی گھروں سے نکل کر باہر بنے چھپڑوں کے نیچے اپنی محفلیں سجا لیتے ہیں تو عورتیں بھی ناشتہ کرنے بیٹھ جاتی ہیں۔ ناشتے کے بعد عورتیں برتن مانجھتی ہیں اور پھر جھاڑو پکڑتی ہیں گھر، آنگن اور گلیاں صاف کرتی ہیں۔ کام کاج نمٹا کر پاس پڑوس کی خبر گیری کو نکلتی ہیں۔ کیونکہ میل جول سے ہی محبتیں پروان چڑھتی ہیں۔ واپس گھر آکر دوپہر کے کھانے کی تیاری میں لگ جاتی ہیں۔

گاؤں کے احوال کو سامنے رکھ کر اب ذرا شہر کا احوال بھی ملاحظہ کرنا۔ شہر میں جب سورج نکل آتا تو گھڑی کے الارم کی چیخ و پکار پہ لوگ آنکھیں کھولتے ہیں۔ عورتیں جلدی جلدی ناشتہ بنانے میں لگ جاتی ہیں تو مرد حضرات ان کے سر پر کھڑے ہو کر جلدی کرنے کی دہائیاں دے رہے ہوتے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنے کام پہ جانے کی تیاری بھی جاری رکھتے ہیں۔ رات کے رتجگے کی وجہ سے صبح دیر سے آنکھ کھلتی ہے۔

Khushi Ke Naam

اب دیر سے دفتر پہنچنے پر باس کی طرف سے ڈانٹ سننے کا بھی ڈر ہوتا ہے اور اسی کا غصہ گھر کی عورتوں پہ اتارتے نظر آتے ہیں۔ جیسے تیسے ناشتہ تیار ہوتا ہے تو بیٹھ کر کھانے کا وقت نہیں ہوتا اس لیۓ کھڑے کھڑے دو چار نوالے حلق سے اتار کر نکل پڑتے ہیں۔

مرد ابھی دروازے سے قدم نکالتے ہیں کہ بچوں کو لینے والی اسکول کی گاڑی کا ہارن بجنا شروع ہوجاتا ہے۔ عورتیں جلدی جلدی بچوں کو تیار کرکے اسکول بھیجنے کے بعد خود ناشتہ کرتی ہیں۔ ناشتے سے فارغ ہوکر دن بھر کے کرنے کے کاموں کو یاد کرتی ہیں کہ ٹی وی پہ انکا پسندیدہ ڈرامہ شروع ہوجاتا ہے کیونکہ رات شوہر کے خبریں دیکھنے کی وجہ سے وہ ڈرامہ دیکھ نہ سکیں۔ ایک کے بعد ایک ڈرامہ دیکھنے میں ہی دوپہر ہوجاتی ہے اور بچوں کی اسکول سے واپسی کا وقت بھی ہو جاتا ہے۔

اور جب بچے ضد کرکے کارٹونوں والا چینل لگاتے ہیں تو عورتیں چارو ناچار اٹھ کر جھاڑو پونچھا کرتی ہیں اور سہہ پہر مردوں کی آمد تک کھانا تیار کر لیتی ہیں۔ اب باری ہوتی ہے ملکی و غیرملکی خبروں اور حالات حاضرہ کی تو بچے بھی اٹھ کر ٹیوشن لینے چلے جاتے ہیں۔

Khushi Ke Naam

پیاری خوشی ! اب اندازہ کرلو ان حالات میں محبتیں کیسے قائم رہ سکتی ہیں، جب گھر میں دیر سویر اٹھنے، کارٹون، ڈراموں اور خبریں دیکھنے پر جنگ چھڑی رہتی ہو۔ باہر سڑکوں پہ نکلو تو ٹریفک کا بے ہنگم شور، راہ چلتے لٹ جانے کا اندیشئہ، سنسان گلیوں سے گزرتے وقت لٹنے اور مزاحمت پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا خوف جب یہ سب چیزیں ہر وقت دماغ پہ سوار ہوں تو پریشان رہنا۔ طبعیت میں چڑچڑاپن اور بیزاری کا پیدا ہوجانا فطری بات ہے۔

ان حالات میں جب لوگوں سے میل جول ختم ہوجاتا ہے تو انکی باتیں زہرلگتی ہیں پھر یہی ہوتا ہے کہ گھر بیٹھ کرڈراموں اورحالات حاضرہ پر وقت گزارہ جاتا ہے۔ نہ دوستوں، عزیزوں اور رشتے داروں سے میل ممکن ہےاورنہ ہی پاس پڑوس کی خبر گیری کا وقت ہوتا ہے۔ شہر کے رہنے والے اپنی ایک محدود دنیا بسا کر اسی میں جیتے ہیں جہاں ہر ایک کو اپنی پڑی ہوتی ہے۔

شہر کے حالات دیکھ کر مجھے گاؤں کی اک ایک چیز بے حد یاد آتی ہے۔ یہاں کوئی ساتھی نہیں، کوئی غم گسار نہیں، نہ بزرگوں کی شفقتیں، نہ یاروں کی یاریاں، پنجرے نما کمرے اور میں، دن کو کام کی مصروفیت اور رات کی تنہائی میں گھر گاؤں کی یادیں ہی میری زندگی کے شب و روز کی کہانی ہیں۔

Khushi Ke Naam

جان عزیز خوشی ! میں اس پرفتن اور نفانفسی کے مارے لوگوں کے درمیاں اکتا گیا ہوں، جلد واپس لوٹنے کی کوشش میں ہوں۔ میرے لیۓ دعا کرنا اور بزرگوں سے بھی دعا کی التجاء کرنا۔ جلد تمھارے سامنے ہونگا، پھر وہی پرانی باتیں ہونگی، وہی محبتوں کے قصے ہونگے، نہ کوئی خوف، نہ کوئی اندیشئہ ہوگا۔ سب اپنے ہونگے، سب سانجھی ہونگے، سکھوں کے ہنڈولے ہوں گے۔

اب رات کافی بیت چکی ہے، دل تو چاہتا ہے کہ لکھتا رہوں، لکھتا رہوں لیکن صبح کام پر جلدی پہنچنا ہے اوریہ خط بھی حوالہ ڈاک کرنا ہے تاکہ جلد تم تک پہنچ جائے اور پھر تمھارے ہاتھوں کا لکھا محبت نامہ دوبارہ پڑھنے کو ملے۔ چند لمحوں کو ہی سہی لیکن تمھارا خط پڑھ کر روح کو تسکین حاصل ہوتی ہے۔ اب اجازت چاہوں گا گاؤں کے ہر فرد، پیڑ پودوں، کھیت کھلیانوں اور چرند پرند سبھی کو میرا سلام کہنا اور انہیں کہنا کہ میں سب کو بہت بہت یاد کرتا ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *