خرم کاظمی صاحب کے خوبصورت کلام میں سے منتخب کلام

خرم کاظمی صاحب کے خوبصورت کلام میں سے منتخب کلام

انتخاب: عثمان عاطسؔ

ملتی زندگی اک دن اور، کمال کر دیتا
انساں کی یہ خواہش گر خدا بحال کر دیتا

ہے ابھی تو انساں کا خوں حرام انساں پر
ہوتا کیا خدا گر اس کو حلال کر دیتا

کیسے گزاریں ہم کہ یہ جینا محال ہے
جو زندگی ہی زندگی میں اختلال ہے

روشن یوں زندگی کو مری اس نے ہے کِیا
ظلمت میں شمع کی کوئی جیسے مثال ہے

دیکھوں جہاں وہی ہیں نظر آتے اب مجھے
وہ سامنے ہیں، یا یہ مرا اک، خیال ہے

تو لوٹ تو ہے آیا مرے پاس اب، مگر
وہ تیرے چھوڑ جانے کا اب تک ملال ہے

دھڑکے ہے دل جواب کے یوں انتظار میں
ہاں یا نہ بولئے، مرے دل کا سوال ہے

سوچو کہ ہجر ہائے کیا ہوگا اتنا جب
وحشت زدہ یہ ہجر کا صرف احتمال ہے

یوں لگتا ہے خدا بھی نہیں یاد کرتا اب
نہ مشکلیں ہیں، زیست میں اعتدال ہے

کیا زنگ لگ گیا ہے محبت ہماری کو
خارم غمِ فراق نہ جوشِ وصال ہے

دیکھ کر تجھے بیچ اغیار دل دھڑکتا ہے
اور کیا کرے بس ناچار دل دھڑکتا ہے

مجھ کو ڈر نہیں کچھ بھی دار کی بلندی سے
پر چلیں جو ہم سوئے دار، دل دھڑکتا ہے

جانے دفن کتنے دیوارِ زنداں میں قیدی
یاں کسی کا پسِ دیوار دل دھڑکتا ہے

خواب ہی میں آؤ، اب انتظار میں تیرے
ہائے جانے کب سے بیمار دل دھڑکتا ہے

کیا یہ آمدِ طوفاں ہے یا وقتِ آخر ہے
کیوں بے چین ہوکے ہر بار دل دھڑکتا ہے

خاص کچھ نہیں ہے تیرے کلام میں خارم
پڑھ کہ پر ترے یہ اشعار دل دھڑکتا ہے

خرم کاظمی صاحب کے خوبصورت کلام میں سے منتخب کلام

حاصل نہیں ہے کچھ بھی یوں فریاد کرنے میں
مانع ہے کیا تمہیں یوں مجھے یاد کرنے میں

دنیا ہے مبتلا بے حسی میں یہ ساری ہی
خوش ہوتے لوگ اوروں کو ناشاد کرنے میں

قیدِ غمِ فراق بھی کتنی طویل تھی
گزری عمر یہ خود کو ہی آزاد کرنے میں

حسرت اگر ہے کوئی بھی باقی تو پوری کر
کوئی کمی نہ ہو مجھے برباد کرنے میں

ویران ایک بار اگر دل ہو جائے، پھر
صدیاں گزر یہ جاتی ہیں آباد کرنے میں

خرم کاظمی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *