Juz Humary Raston ke Aur Kuch Nahi Badla by Arwa Sajal

Urdu Afsana by Arwa Sajal

 تحریر:ارویٰ سجل

ڈهلتے سورج کو دیکھ کر ایک عجیب سا احساس کیوں ہونے لگتا ہے، شام کو گهر لوٹتے اڑتے پنچهی آسمان کے حسن کو کس قدر دوبالا کئے ہوئے ہیں نا؟؟ یہ افق کے کناروں پہ ڈوبتے سورج کے سنگ زردی مائل سنہری شیڈ کتنا دلفریب لگتا ہے نا!! ایک ان کہی سی کسک ہے شام کے اس سرمئ منظر میں یہ سرد ہوا کے جهونکےاور یہ سب ساتھ میں تم…اور بهاپ اڑاتی کافی یا چائے کا لمس جو ایک ایک چسکی پہ مزہ دیتا ہے

Urdu afsana by Arwa Sajal

انتہائی شوخے انداز میں وہ ایک لمحہ بهی ضائع کئے بنا بولے جا رہی تهی تمہیں پتہ ہے مجهے سردیوں کی یہ شامیں بہت پسند ہیں۔کیا تمہیں نہیں اچها لگتا یہ سب؟ قدرت کے یہ دلفریب مناظر جو نہ صرف آنکهوں کو بهلے لگتے ہیں بلکہ دل کو بهی موہ لیتے ہیں۔روح میں ایک انجانی خوبصورت سی کسک بهرا احساس جگا جاتے ہیں

مرے پاس الفاظ نہیں ہیں میں کیسے اس منظر کو ان احساسات کو الفاظ کی مالا میں پرو سکوں، تمہیں بتا سکوں یقین دلا سکوں کہ تم کیا ہو میرے واسطے-مجهے لگتا ہے شاید اللہ تعالی نے اس کائنات میں اتنے رنگ تبهی بهرے ہیں کہ ہم ان کے نشے میں مست ہو کے محبتوں کا اظہار کر سکیں، اپنے جذبات کو الفاظ میں ملبوس کر سکیں کیونکہ ہوش وحواس میں تو ہم عقل کے تابع ہوتے ہیں نا

ہمارے الفاظ ہماری زبان پهسلنے میں خاصا وقت لگاتے ہیں یہ سردیوں کی شامیں اتنا پاگل کرنے والی کیوں ہوتی ہیں؟؟؟ اور یہ زرد گرتے پتے یہ بهی بهلے لگتے ہیں اس سارے منظر میں لیکن تمہیں ایک بات بتاؤں یہ ڈوبتا سورج ، گرتے پتے، لمحہ بہ لمحہ آنکهوں کے سامنے ویران ہوتے شجر اور رفتہ رفتہ سیاہ شال اوڑهتی شام جو دیکهتے ہی دیکهتے رات کے روپ میں ڈهل جاتی ہے۔

Urdu afsana by Arwa Sajal

اور سارے منظر کو کها جاتی ہے یہ سب مجهے اداس کر دیتا ہے نجانے کیوں وہی سب کچھ جو لطف دیتا ہے وہی طبیعت میں ایک بے نام اداسی بهی پیدا کرتا ہے- میں کبهی کبهی سوچتی ہوں کہ میں بہت عجیب ہوں لیکن جو بهی ہو مرے ہر منظر میں تمہارا عکس نمایاں ہے- میں تمہارے بنا کچھ بهی تصور نہیں کر سکتی، مری بہار، برکها ہر رت تمہارے دم سےہے۔مری آنکهہ کا اصل حسن تم ہو تبهی فطرت کے ہر رنگ میں حسن نظر آتا ہے مجهے

تم جب کہتے ہو نا ” مجهے چهوڑ کے تو نہیں چلی جاؤ گی، سدا مری بن کے رہو گی نا” تو مرے پاس الفاظ نہیں ہوتے کہ کیسے سمجهاؤں میں تمہیں کہ تم کو چهوڑ کے جانا خود کشی کے مترادف ہے اور میرا تاحال حرام موت مرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے-یہ کہتے ہوئے وہ کهلکهلا کے ہنس پڑی۔

 Urdu Afsana by Arwa Sajal

اچها اب میں نے ہی بولتے جانا ہے، تم بتاؤ تمہیں بهی ڈهلتی شام کا یہ حسین منظر  یہ جهونکے یہ سانسوں سے نکلتا دهواں، آسماں پہ چهائی یہ زردی یہ گهروں کو لوٹتے پرندےیہ سب اچها لگتاہےسب کتنا دلکش ہے نا؟؟؟؟
وہ اپنے ریشمی کالے بالوں کو جهٹکتی، سرد ہاتهوں کو ملتی پیچهے مڑی تو وہاں برگد کے خالی درخت کے سوا تو کوئی موجود نہ تها۔ خشک لبوں پہ جیسے پپڑی جم گئی زبان پهیر کر ہونٹ تر کر کے خود کو حواس میں لانے کی ناکام کوشش کی، چکراتے ہوئے بمشکل دیوار کا سہارا لیتی وہ نیچے بیٹھ گئ

Urdu afsana by Arwa Sajal

پاگل اسکو گئے تو عرصہ بیت گیا تم کس سے باتیں کر رہی ہو گهنٹے بهر سے، ضبط کی تمام کوششیں عبور کرتے ہوئے آنسوؤں کی لڑی رواں ہوئی اور ایک ایک موتی خشک ہونٹوں کو تر کر کے جهولی میں گر کے دامن میں جذب ہوتا گیا- تم جاکر بهی مرے ساتھ ہو اورمیں تمہارے ساتھ ہو کر بهی تمہاری سوچ میں بهی نہیں۔

ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ مری یہ تڑپ، بےچینی اتنی بے اثر نہیں ہو سکتی- وہ کیسے بهول گیا مجهکو، وہ صرف میرے گن گانے والا میرے سرد ہاتهوں کو اپنے گرم ہاتهوں میں لیکر مجهے بے وفا کہہ کر ہنستے ہنستے اچانک اداس ہو کر مری پیشانی پہ اپنے لب ثبت کر کے یہ التجا کرنے والا “مجهے چهوڑ کے مت جانا” تمہارے ہاتھ ٹهنڈے ہیں نہیں وہ کبهی نہیں جا سکتا کیوں کر بهول سکتا ہے وہ مجهے، کیا اسے نہیں پتہ کہ کوئی اسکے دئیے وعدے کی پاسداری میں ہے اس کے قول وقرار ابهی تک کسی کی سماعتوں میں ہیں

حیا! ٹیبل پہ ٹهنڈی چائے تمہاری منتظر ہے اتنی ٹهنڈ میں کب سے ٹیرس پہ کهڑی خود سے باتیں کر رہی ہو؟ بس کر دو اب اندر آ جاؤ ورنہ بیمار پڑ جاؤگی اماں کی آواز سے سوچوں کا تسلسل کچھ ٹوٹا جی اچها اماں! نحیف سی آواز میں وہ بس اتنا ہی کہہ سکی اور تهکے قدموں سے اندر لوٹی۔

Urdu afsana by Arwa Sajal

ٹیبل سے ٹهنڈی چائے کا کپ اٹهایا ایک گهونٹ لیکر برا سا منہ بناتے ہوئے کپ واپس رکهتے ہوئے اٹهی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ خود کو شکستہ پا محسوس کرتے ہوئے بستر پر جا گری، آنکهیں موندیں تو فون پہ بجتی گهنٹی نے چونکا دیا۔

موبائل فون کی سکرین پہ نامعلوم نمبر جگمگا رہا تها- ہیلو کیسی ہو حیا؟ دوسری طرف سے آنے والی آواز نے اسے ساکن کر دیا۔یہ کوئی اور نہیں تها شاہ ولی؟ حیا کو اپنے کانوں یقین نہیں آ رہا تها تم ٹهیک تو ہو حیا مجهے آج بہت یاد آ رہی تهی تمہاری، مجهے پتہ تها تم نے نمبر چینج نہیں کیا ہو گاحیا تم بول کیوں نہیں رہی۔
کچھ تو بولو نا میں تمہاری آواز سننا چاہتا ہوں مجهے پتہ ہے تم سخت ناراض ہو مجھ سے- شاید قدرت کو یہی منظور تها ہم ایک نہ ہو سکے لیکن یقین مانو تم سے ہاتھ چهڑا کے میں ایک لمحہ بهی سکون کا نہیں جی پایا ہوں، تم ہر لمحہ میرے ساتھ ہو۔ میری دعاؤں میں ہو وہ جواب میں صرف روئے جا رہی تهی۔

پهر اس نے کچھ بهی کہے بنا فون بند کر دیا۔ ہیلو !ہیلو!حیا رابطہ منقطع ہو چکا تها پرنم آنکهوں میں خوشی وغم کی ملی جلی کیفیت لئے وہ سوچ رہی تهی کہ  بهلا اب میں تمہیں کیا بتاؤں کہ میرے گرد کے تو سارے منظر ویسے ہیں، وہی شامیں، وہی باتیں، وہی قہقہے ہاں مگر کهوکهلے سے

Urdu afsana by Arwa Sajal

سب کچھ تو وہی ہے بس ایک تم نہیں ہو وہ رستے نہیں ہیں جہاں مختلف سمتوں سے آکر بهی ہم ایک ہی جگہ آ ملتے تهے۔ اور جب ایک ہی سمت سے اکٹهے سفر شروع کیا تو تم مجهے بیچ رستے میں چھوڑکرنا جانے کس سمت جا نکلےاوراکیلے ہی اپنی منزل کا تعین کر ڈالا۔
مگر میں ۔۔۔۔؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *