اردو افسانہ جو بویا وہی

      No Comments on اردو افسانہ جو بویا وہی
اردو افسانہ جو بویا وہی

جو بویا وہی

ازقلم: ناہید طاہر

شام کافی سرد تھی خوبصورت عمارت میں داخل ہونے کے بعد اندر کے گھٹن آمیز ماحول اور وہاں کی عجیب سی ہولناکی پر مجھے اپنے وجود میں اداسی کی ایک لہر سرایت کرتی ہوئی محسوس ہوئی، میں نے سر کو خفیف انداز میں ہلکا ساجھٹکا دیا وارڈن سے اپنا اور جماعت کی ساتھیوں کا تعارف کروایا۔ اولڈایج ھوم کا حال احوال جاننے کی خواہش ظاہرکی۔ وارڈن ہمیں خواتین سے ملنے کی اجازت دے دی۔ کچھ تحفے جو ساتھ لائے تھے وہ وارڈن کے حوالے کئےاوربےتابی سےراہداری عبور کرتے ہوئے ایک بڑے ہال میں پہنچ گئے۔ جہاں ترتیب سے سنگل بیڈ بچھے تھے جوسارے فل تھے، ایسا لگ رہا تھا ہم کسی سرکاری ہسپتال میں آگئے ہیں۔

یہاں بہت سی ضعیف العمر خواتین تھیں انکے چہروں پر اداسی اور غم کےبادل چھائے ہوئے تھے، بہت خستہ حال، ایسا لگ رہا تھازندگی کی صلیب پر کھڑے کراہ رہے ہیں، نہ تو موت تک انکی پہنچ ہے اور ناہی راحت انکی دسترس میں۔۔ اس کرب ناک ماحول نے میرے دل ودماغ کو ماؤف کیا، میرے بدن میں ایک جُھرجُھری سی ہونے لگی خود پر قابو پانے کی کوشش کرتی ہوئی بستر پر لیٹی ایک خاتون کی جانب بڑھ گئی۔

آپ کا نام کیا ہے؟
زینب! وہ سوکھے لب تلے بدبدائی
آنٹی آپ کو یہاں کسی چیز کی کوئی کمی یا تکلیف تو نہیں؟
جواب میں صرف خاموشی ملی
آپ خوش ہیں نا؟ میں نے دوسراسوال کیا

اردو افسانہ جو بویا وہی

یہ سن کر اُس خاتون کے سوکھے لب مسکرانے کی کوشش کئے لیکن انہیں ناکامی میسر ہوئی تو وہ نظریں چرانے لگیں، ایسا لگ رہا تھا جیسے مسکراہٹ کہی کھو گئی اوروہ اسے پانے کی کشمکش کرتی رہی آخر تھک ہار کر ہانپنے لگیں اس شکست سے انکی آنکھیں جھلک آئیں۔ آپ رورہی ہیں؟؟؟ میرے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوئے کیونکہ میری ایک کمزوری کہ میں کسی کی آنکھوں میں آنسو برداشت نہیں کرسکتی۔

بیٹی ! راحت وخوشی یہ کس چڑیا کا نام ہے؟؟؟ اس ضعیف العمر کی آواز مجھےکسی گہرے کنواں سے آتی سنائی دی۔ آپکو یہاں کسی چیز کی کوئی کمی تو نہیں ہے؟؟؟ میں نے دوبارہ سوال داغا، یہاں تو نہیں ۔۔۔۔! ہاں البتہ زندگی میں دو چیزوں کی کمی رہ گئی۔ “خوشی اور دل کاسکون” مجھے یہ خاتون کافی دلچسپ لگیں۔ میں اس خاتون کے پہلو میں آکر بیٹھ گئی

“آپ بہت غم زدہ دکھائی دیتی ہیں؟”
آپ کن وجوہات کے سبب یہاں لائی گئیں ؟؟؟
میرے اپنے اعمال !!!وہ زہر آمیز لہجے میں گویا تھی۔

میں سمجھی نہیں! میں بےچینی سے پہلو بدل کر اس خاتون کے ویران چہرے اور آنکھوں کو پڑھنے کی کوشش کرنے لگی۔ اسکا ضمیر شاید غبارے کی طرح پُھول چکا تھا میرا ہمدردانہ انداز نوکیلا نشتر ثابت ہوا اور غبارہ جیسے پھٹ پڑا ۔ وہ کہنے لگیں۔

جب میری شادی ہوئی تب میں اپنی زندگی کا ہر پل جینا چاہتی تھی اور اُس پل پر صرف ہمارا اپنا اختیار ہو، کسی کی مداخلت پسند نہیں تھی، خواہ وہ میری ساس سسر کیوں نہ ہو! میرا خواب ایک منی جنت چاہتا تھا جسمیں صرف میں میرا شوہر اور میری اولادبس اسکے علاوہ کسی کا وجود مجھ سے برداشت نہیں ہوتا تھا اور نہ پسند تھا۔

بڑے سے آنگن میں نیم کے درخت کے نیچے تخت پر براجمان منہ میں پان اور ہاتھوں میں سروتا لئے ناشتے کے انتظار میں بیٹھی ساس زہر کی مانند لگتی تھیں۔ محض ساس کی وجہ سے نرم بستر اور شوہر کی باہوں سے نکل کرصبح کی خنکی میں کچن کا رخ کرنا، پل صراط پر گزرنا جیسا تھا۔ مجھے پتہ نہیں کیوں اپنی ساس سے بےپناہ نفرت ہوتی چلی گئی ان کی کوئی چیز مجھے پسند نہیں تھی صبح اٹھنے کے بعد غلطی سے ان پر نظرپڑتی تو میں نظریں پھیر لیتی کہ دن منحوسیت کے نذر نہ ہوجائے، وہ بے چاری اسکے باوجود میری دلجوئی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں۔

میں اپنی نفرت سے شکست خوردہ ان پر ظلم وتشدت کرتی چلی گئی۔ میرے شوہر بہت نرم مزاج اوربھولےبھالے انسان تھے۔ظاہر بات ہے جب میں انکی بیوی ہوں تو انہیں ایسا ہی ہونا تھا۔ دھیرے دھیرے گھر کا سارا کام ساس کے کمزور وجود نے سنبھال لیا۔ بچوں کی دیکھ بھال بھی انکی ذمےداری تھی۔ نوکرانی کا خرچ بھی بچ گیا تھا۔ زندگی بڑے ٹھاٹ سے گزررہی تھی کے ایک دن اچانک ساس کابی پی ہائی ہونے سے انہیں فالج کا اثر ہوا میرے ہاتھوں سے طوطےاڑگئے، گھر کا ساراکام اور ذمےداری مجھ پر آگئی۔ ساس آرام سے بستر پر لیٹی رہتیں اور میں خادموں کی طرح کام میں مصروف ۔!!! میراغصہ اور جھنجھلاہٹ عروج پر پہنچ گئے۔

میں انہیں دوائی کھلانی بندکردی۔۔۔۔۔۔۔ انکی زبان بند تھی کسی سے شکایت کرنہیں پاتیں وہ سسک سسک کر آخری سفر طے کی اور اپنا بوجھ اس زمین سے اٹھا لےگئیں۔ اُس بے چاری کی بےبسی کا سوچ کر میری آنکھیں جھلک آئیں۔ ارررے۔۔۔۔۔ آپ رونے لگیں۔۔۔۔! وہ خاتون طنز سے مسکرائی اور کہنے لگی آپ نے سنا ہوگا کے بچھو کی اولاد بچھو کا شکم چاک کرتی ہوئی، دنیا میں وارد ہوتی ہے، بےچارہ مادہ بچھو فوت ہوجاتا ہے۔ آگے اولاد کا انجام بھی یہی ہوتاہے اسکی اولاد بھی شکم چاک کے بعد ہی دنیا میں آتی ہے۔

اللہ تعالی کافرمان بھی ہے کہ مان باپ کے ساتھ کی گئی بدسلوکی کی سزا دنیا میں ہی ملےگی ۔

اردو افسانہ جو بویا وہی

میرا بیٹا اس شہر کا رئس ترین شخص ہے۔ یہ اولڈ ایج ھوم بھی اسی نے بنوایا ہے خاص میرےلئے، اسی نے اسکا نام “دارالامن “رکھا یعنی امن کی جگہ جبکہ یہاں روح تک منتشر ہے! ہر پل ہر لمحہ اپنوں کی یاد دل ودماغ کو زخم وکرب کی سوغات بخش جاتی ہے۔ آپ کو یہاں چھوڑ جانے کی کوئی خاص وجہ؟ میری بہو بہت امیرگھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ بیٹے کو سماج نے اونچائی عطا کی جسکی وجہ سے مجھے ماں کہنے میں شرم محسوس کرتاہے۔

میں اپنی نم آنکھوں کے ساتھ گویا ہوئی
ایسی” اولاد پر لعنت ہے”
“نہیں ! اسمیں اسکا کوئی قصور نہیں ۔۔۔۔!” قصور وار میں ہوں”
یہ بات انہوں نے سو فیصد صحیح کہی۔
میں اتنی دلبرداشتہ تھی کے وہاں سے بوجھل قدموں سے گھر لوٹ آئی۔
کئی دنوں تک میری سماعت میں اس ضعیف العمر کے الفاظ کی بازگشت گونچتی رہی
“قصور وار میں ہوں ۔۔۔۔۔!”
“جو بویا وہی کاٹ رہی ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *