Jhoot Bolnay Ka Aalmi Din Ya April Fool By Babrak Karmal Jamali

Jhoot Bolnay Ka Aalmi Din Ya April Fool

اپریل فول یا جھوٹ بولنے کا عالمی دن 

تحریر: ببرک کارمل جمالی

دنیا بھر میں ہر سال یکم اپریل کو اپریل فول یعنی جھوٹ بولنے کا عالمی دن کے طورپرمناتے ہے۔ اس دن جو بندہ سب سے زیادہ جھوٹ بولے گا وہ اس دنیا کا کامیاب ترین شخص ہو گا۔ اس دن ہم ایک دوسرےکو بےوقوف بناتے ہیں اس دن کو پوری دنیا کے لوگ خوب انجوائے کرتے ہیں کیونکہ پوری دنیا کے لوگ سارا سال سچ بول بول کے تھک جاتے ہیں تو یکم اپریل فول کے دن جھوٹ بول کے خوب انجوائے کرتے ہیں۔

جبکہ پاکستان میں ہم سارا سال سچ سننے کو ترستے ہے کیا ہم یکم اپریل کو ایک دن سچ بول سکتے ہیں۔ کیا اس دن کو ہم سچ بولنے کا عالمی دن کیوں نہیں مناتے ہیں۔ کیا ہم سب اس سال اپریل فول کے بجائے سچ بولنے کا عالمی دن منا لیں تو کتنا اچھا ہوگا۔ اور پوری دنیا ہمیں شاباش دیں گی سچ تو یہ ہے کہ یہ مشکل بات ہے۔ مگر پھر بھی ایک کوشش تو کی جا سکتی ہے۔

Jhoot Bolnay Ka Aalmi Din Ya April Fool

جھوٹ بولنے کیلئے کوئی دن مخصوس نہیں ہوتا پورے تین سو پنسٹھ دن تو جھوٹ پہ جھوٹ ہم پاکستانی کسی نہ کسی بہانے بولتے رہتے ہیں۔ مگر اس سال کیا ہم سب اس دن کو سچائی کا دن منا لیں تو کون سا برا ہوگا۔ ویسے بھی پورا سال ہم پاکستانی بکری کی طرح میں میں کرتے رہتے ہیں کیا ہم اس دن کو ہم بن کے گزار لیں تو کتنا اچھا ہوگا۔ کیا ایسا ممکن ہے؟مگر لگتا تو مشکل ہے؟

ہاں مگر ایک کوشش تو کی جا سکتی ہے۔ ہاں البتہ سچ تو یہ ہے کہ انسان اس دنیا کا سب سے بڑا جانور ہے اگر کچھ کرنے پہ آ جائے تو سب کچھ کردیتا ہے سوائے اپنی جان لینے کے!!! لیکن آج کل وہ بھی انسانوں کے ہاں ممکن ہوگیا ہے۔ ہرروز ملک میں سیکڑوں نہیں تو دس بیس لوگ تو اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں انکی موت کی خبر بھی ایک جھوٹ نما ہوتی ہے جن پہ بہت کم لوگ بھروسہ کرتے ہیں۔

میرے ایک دوست نے مجھے ہر یکم اپریل کو اپریل فول کرکے مجھے ہر سال مار دیتے ہیں مگر میرے رشتے دار جب زندہ دیکھتے ہیں تو انتہائی خوشی محسوس کرتے ہیں کہ میں زندہ ہواور ابھی موت کا فرشتہ مجھ سے دور ہیں۔ ویسے سچ تو یہ ہے کہ اس جھوٹ سے مجھے کچھ فرق نہیں پڑتا ہے ہاں البتہ جو لوگ مجھے زندہ دیکھتے ہے وہ خوش ہو جاتے ہیں ویسے بھی انسان تو پیدا ہوتے ہی مرنے کیلئے ہیں۔

زندہ صرف انسانوں کی یادیں رہ جاتی ہیں اور ڈگریاں ہوتی ہیں اور ساتھ کچھ ناکارہ تحاریر اور ناکارہ باتیں ہوتی ہیں۔ ویسے بھی ہم لوگ زندہ بھی مرنے کے بعد ہوتے کیونکہ ہم لوگ مرنے والے کو اتنی عزت دیتے ہیں جیسے اس نے زندگی میں کوئی گناہ اور کوئی جھوٹ نہ بولا ہو۔

Jhoot Bolnay Ka Aalmi Din Ya April Fool

ایک مرتبہ ایک آسٹریلوی سیاح پاکستان کی سیر کو آیا وہ پاکستان کے بارے میں لکھتے ہے کہ جب میں بلوچستان کا سفر ختم کرکے کراچی کےعلاقے شیرشاہ پہنچا تو ریل گاڑی کا پھاٹک بند تھا اور اسی دوران ایک شخص سائیکل پر میرے قریب آ کے رکا ایک نظر ٹرین کی طرف کی اور لیکن چند سیکنڈوں میں ہی اپنی سائیکل اپنے کندھے پر آٹھا کرپھاٹک سے چھلانگیں لگا کر پھاٹک کو کراس کر لیا۔ وہ حیران رہ گیا اور سوچنے لگ گیا کہ یہ قوم کبھی جھوٹ نہیں بولتا ہوگا۔

اس نے اپنی جان کو اہمیت نہ دی اور بہادری سے پھاٹک کو کراس کیا ایسے وقت کی پابندی اور بہادر قوم کو کوئی کیسے شکست دے سکتا ہے یہ لوگ کبھی کسی کا محتاج نہیں ہو گے وہ انہی سوچوں میں گم تھا جب وہ شیر شاہ چوک پہنچاتو دیکھا ایک مداری جھوٹ پہ جھوٹ بول کے بندرکو نچا رہا تھا وہ شخص اپنے سائیکل کے سیٹ پرآرام سے براجمان مداری کا تماشہ دیکھ رہا ہے۔ وہ سیاح یہ لمحہ دیکھتے ہی زمین پہ بیٹھ گیا اوراور کہنے لگا پاکستانی وہ قوم ہے جو جھوٹ کیلئے اپنی جان پہ کھیل کر پہنچ جاتا ہے!!!

مگر سچ سننے اور بولنے کےلیے ایک دن تو اپنی جگہ ہم ایک پل بھی نہیں سوچتے کہ آج ہم سب سچ لکھیں گے او سچ سنے گے اور سچ برداشت کریں گے مگر یہ دن کب آئے گا شائد قیامت کے دن یا جس دن بندہ مر جاتا ہے سچ تو یہ ہے ہم دنیا میں جھوٹ بولنے کے ہر روز نئے نئے طریقے ایجاد کرتے ہے کبھی سچ بولنے کیلئے کوئی طریقہ ایجاد یا دریافت نہیں کیا ہے۔

ہم یکم اپریل کو اپریل فول کرکے خوشیاں منانے میں لگے رہتےہے کبھی یہ سوچا ہے کہ اس پہ کیا بیتی ہوگی جس نے جھوٹ کو برداشت کیا ہو گیا مجھے ہمیشہ اس بات کا دکھ ہوتا ہے کہ ہم اپنے ہم عمروں کے ساتھ جھوٹ تو بولتے ہے مگر ضعیف لوگوں کا بھی مذاق اڑا کے خود کو ہیرو سمجھتے ہیں۔ اصل میں ہیروز جھوٹ کا سہارہ نہیں لیتے ہے ہم سب ہیروز ہے ہم اب جھوٹ نہیں بولیں گے۔

آج کے بعد سچ بولیں گے بلا شک ہم کو چند لمحے کیلئے سزا ملے گی۔ مگر زندگی بھر اس جھوٹ سے تو چھٹکارا مل جائے گا اگر ہم سب اور ہم سب کے تمام لکھنے اور پڑھنے والے آج سے عہد کر لیں کہ اب ہم سب انسان اور انسانیت کی خاطر اپنے کل کو بھول کر آج سے اپریل فول کے بجائے سچ کہنے اور بولنے کا دن منائیں گے تو کتنے لوگ سچ کی راہ پر گامزن ہو گے یہ آنے والا کل بتائے گا کیونکہ قطرہ قطرہ سمندر نہ سہی دریا تو بن جائے گا۔

Jhoot Bolnay Ka Aalmi Din Ya April Fool

اپریل فول پاکستان میں ہر سال بڑے جوش اور جذبے کے ساتھ منایا جاتا رہا ہے کیا ہم اس سال آج کے دن یہ عزم کر لے کہ آج کے دن سچ کا دن منائیں گےاور اس بات کو اگنور کر دیں گے کہ کون سب سے زیادہ جھوٹ بولتا ہے اور کون لوگوں کو نقصان دیتا ہے۔

کیا ہم اس دن یہ عزم کا اظہار کر سکتے ہیں کہ ہم پاکستان کے آئین کے مطابق سچ بولیں گے اور اس دنیا میں اپنی الگ پہچان بنائیں گے۔ ہم جھوٹ پہ جھوٹ بول کےزمانے کی تیز ترین رفتار ٹرین سے ہم چھلانگ لگائیں گے اور سچ بولنے والے ٹرین میں سفر کریں گے چلو سب دوست اس مرتبہ ایک کوشش کرتے ہیں اپریل سے فول نکال لیتے ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *