کاروانِ بھوپال کا جشنِ غالب عالمی مشاعرہ

کاروانِ بھوپال کا جشنِ غالب عالمی مشاعرہ

رپورٹ : محمد ایوب صابر

مشاعرے ہماری تہذیب و ثقافت کا حصہ ہیں۔ ان کے ذریعے زبان و ادب کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔مشاعرے ہندو پاک کی حدود سے نکل کر اردو کی نئی بستیوں میں پہنچ چکے ہیں۔ اس سے اردو زبان کی مہک نے ساری دنیا کو مہکا دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں سعودی عرب بھی اردو کی نئی بستیوں میں شامل ہے۔ گزشتہ دنوں منطقہ شرقیہ کی ایک نمایاں ترین تنظیم ’’بھوپال این آر آئی ویلفیئر فورم ‘‘ نے جشنِ غالب کے سلسلے میں ایک یادگار عالمی مشاعرے کا جبیل میں انعقاد کیا جس میں ہندو پاک اور خلیجی ممالک سے اردو شعرا نے شرکت کر کے اِسے ایک شاندار مشاعرہ بنا دیا۔ مشاعرے کی صدارت بین الاقوامی شہرت کے حامل ارضِ مقدس کے پہلے صاحبِ دیوان شاعر سید نعیم حامد الحامد نے فرمائی۔

انڈین ایمبیسی ریاض کے فرسٹ سیکریٹری ڈاکٹر حفظ الرحمن اعظمی مہمان خصوصی کی نشست پر جلوہ افروز تھے۔ مزاح گو شاعر سلیم حسرت نے عبوری نظامت کی ذمہ داری انجام دی۔تقریب دوحصوں پر مشتمل تھی ۔ پہلے حصے بھوپال این آر آئی ویلفیئر فورم کے اغراض و مقاصد، مرزا غالب کے فن پر روشنی اور ایوارڈز تقیسم کیے گئے جبکہ دوسرے حصے میں یاد گار مشاعرے کا اہتمام کیا گیا۔ ،مہمانِ خصوصی نے شمع روشن کی۔چار مختلف ہالز میں پروجیکٹر لگا کر خواتین کے لیے علیحدہ بیٹھنے کا انتظام کیا گیا۔

تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت نامور شاعر و ایریا گورنر ٹوسٹ ماسٹرز کلب وقار ضیا نے خوش لحن آواز میں حاصل کی۔ بھوپال این آر آئی کے ڈائریکٹر سید اقبال حسین نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارا دوسرا سالانہ مشاعرہ جس میں ہم تمام معزز شعرا ،مہمانان اور سعامعین کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ہم نے پچھلے ایک سال کئی سنگِ میل حاصل کیے ہیں۔بھوپال این آر آئی ویلفیئر فورم کے تین مقاصد ہیں ۔ پہلا فروغِ تعلیم،دوسرا فروغِ اردو اور تیسرا فروغِ ہاکی ہے۔ اس کے بعد بھوپال این آر آئی کے صدر علمی ادبی اور سماجی شخصیت شہریار محمد خان کو خطاب کی دعوت دی گئی۔

کاروانِ بھوپال کا جشنِ غالب عالمی مشاعرہ

انہوں نے مہمانان کا استقبال کیا اور اُس کے بعد کہا نیلسن منڈیلا نے کہا تھا’’ کہ تعلیم کے ذریعے آپ دنیا کو بدل سکتے ہیں‘‘۔تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی میں بنیادی کردا ر ادا کرتی ہے۔ایک اعلیٰ تعلیمیافتہ راہنما ہی قوم کو ترقی کی منزل سے ہمکنار کر سکتا ہے۔تعلیم اندھیرے سے روشنی تک کا سفر ہے ۔ہمارا یقین ہے کہ طلباء اور طالبات کو تعلیم کے یکساں مواقع ملنے چاہیے۔ہم طلبا کی راہنمائی کے لیے سیمینار اور ورکشاپس کا اہتمام کرتے ہیں جہاں اُن کا رحجان دیکھ کر شعبہ جات کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اِن نمائشوں کے ذریعے اُن کی شخصیت سازی کی جاتی ہے۔ ہم اُن کی جسمانی صحت کو بہتر بنانے کے لیے ہمارے قومی کھیل ہاکی کو فروغ دے رہے ہیں۔اِس کے بعد شہریار محمد خان نے بھوپال این آر آئی کے ڈائریکٹرز منصور صدیقی، رشید خان، رفعت اقبال فاروقی، سید اقبال حسین، بابر خان اور امین خان کو شہہ نشین پر خوش آمدید کہا۔

اِس کے مہمانِ خصوصی حفظ الرحمن اعظمی اور تمام ڈائریکٹرز نے تالیوں کی گونج میں سالانہ مجلے ’’بھوپال این آر آئی ورلڈ‘‘ کی رونمائی فرمائی۔ اِس موقع پر ارشد رضا کے شعری مجموعہ ’’سٹی آف ہارٹ‘‘ کی بھی رونمائی فرمائی گئی۔ اِس کے بعد شہریار محمد خان نے اعلان کیا کہ آج جشنِ غالب میں صرف مرزا غالب کی روح نہیں بلکہ خود مرزا غالب کی تشریف لائے ہیں اور نامور شاعر سید باقر علیگ مرزاغالب کے حلیے میں پیرانہ سالی کی طرح آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے سامعین کو فرشی سلام کرتے اسٹیج پر نمودار ہوئے۔ سامعین نے پُرجوش انداز میں اُن کی استقبال کیا۔ سید باقرعلیگ نے مرزا غالب کے لہجے میں کہا کہ میں بھوپال این آر آئی ویلفیئر فورم کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ابدی نیند سے بیدار کر کے مجھے یہاں بلایا ہے۔اِس جشن میں نئی نسل کا مرزا غالب سے تعارف مقصود ہے کیونکہ نئی نسل ہم سے ناآشنا ہوگئی ہے۔

اردو شاعری کا تذکرہ مرزا غالب کے پیغام کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ 1797ء میں آگرہ میں ہماری پیدائش ہوئی۔ پانچ سال کی عمر میں والد کا انتقال ہو گیا اور آٹھ سال کی عمر میں چچا بھی رحلت فرما گئے۔ اُسکے بعد نانا نے ہماری پروش کی ذمہ داری اٹھائی۔معاشی حالات میں تنگدستی کی وجہ سے ہماری تعلیم مکمل نہ ہو سکی لیکن شاعری میں ہماری دلچسپی برقرار رہی۔13برس کی عمر میں شادی ہو گئی اور پندرہ سال کی عمر میں دہلی جا بسے۔ دہلی میں شاعری کا عروج تھا اور ہم نے وہاں اپنا ایک الگ مقام پید ا کیااور ہماری محنت سے ہمارا مقام آسمان تک جا پہنچا۔ ہمیں اپنی فارسی شاعری پر بڑا ناز تھا لیکن اردو شاعری ہی ہماری شہرت کا باعث بنی۔ اسکے بعد سید باقر علیگ نے نظامت کی ذمہ داری سنبھالی اور بہتریں انداز میں ادا کی۔ محمد ایوب صابر نے مرزا غالب کے فن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مرزا غالبؔ نے شورش زدہ دور میں شاعری کا آغاز کیا اس لئے تفکر اور گہرائی ان کی دامن گیر ہوگئی۔ ان کی شاعری کا کمال صرف حسنِ بیاں ہی نہیں بلکہ زندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جا کر سمجھتے تھے۔

یہی گہرائی اور گیرائی ان کی شاعری کا طرہ امتیازہے ۔ غالب ؔ نے جس پُر آشوب میں آنکھ کھولی اُس میں انہوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے دیکھا غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے اُن کی نظر میں گہرائی اوروسعت پید ا کردی۔غالب ؔ کی شاعری میں وہ آفاقی وسعت ہے جس کو ناپنے کی کوشش گزشتہ ایک صدی سے ہورہی ہے اور آئندہ کئی صدیاں اِس کا رِ عرق ریزی پر محیط ہوں گی۔ اُن کی شاعر ی کے اتنے رنگ اور زاویے ہیں کہ ہر رنگ اپنے اندر کسی دوسرے رنگ کی نشاندہی کرتا ہے اور ہر زاو یہ ء فکر کسی دوسرے پہلو کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اس ست رنگی قوسِ قزح کی دلکشی اور جاذبیت کو اہل فکرو نظر نے آسمانِ ادب کا مبہو ت کُن منظر قرار دیا ہے۔مہمانِ خصوصی حفظ الرحمن اعظمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے فخر ہے میں اردو ادب کے حوالے سے منعقد ہ جشنِ غالب کا حصہ بن سکا ہوں۔ اردو زبان و ادب کے فروغ کے حوالے سے بھوپال این آر آئی کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں۔

اردو میری مادری زبان ہے لیکن میں اردو زبان سے کو اِس سے بھی اعلی اور ارفع مقام دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ جس تہذیب ثقافت اور مذہب سے ہمارا رشتہ ہے اُس میں بھی ماں کا درجہ بہت عظیم ہے۔میرے لیے اردو زبان کی اہمیت اِس لیے بھی زیادہ ہے کہ میری ماں نے مجھ سے پہلی بار اردو میں خطاب کیا تھا اس لیے اردو سے میرا جذباتی رشتہ ہے۔بھوپال کا اردو زبان سے بہت گہرا تعلق ہے اس لیے بھوپال این آر آئی کا اردو زبان کی خدمت اِن کا موروثی حق ہے۔جیسا کہ دہلی حیدر آباد اور لکھنؤ اردو کے مراکز مانے جاتے تھے۔جب اِ ن مراکز کو مالی امداد کی ضرورت ہوتی تھی تو ریاست بھوپال امداد کے لیے پیش پیش ہوتی تھی۔ چونکہ میرا تعلق اعظم گڑھ سے ہے اور اعظم گڑھ میں دارالمصنفین جسے ہم شبلی اکیڈمی نے نام سے جانتے ہیں اُس ادارے نے ادب، صحت، مذہب ،سیاست غرض ہر شعبہ ہائے زندگی پر سینکڑوں کتب نہ صرف تصنیف کی ہیں بلکہ اُن کو زیورِ طباعت سے آراستہ کر کے نشرو اشاعت کی ہے اورریاست بھوپال سے ہر سال دوہزار ایک سو ساٹھ روپے کی امداد شبلی اکیڈمی کو جاتی تھی۔جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا اور جب بھی یونیورسٹی کو مالی تعاون کی ضرورت ہوتی تھی تو ریاست بھوپال سے خطیر رقم ارسال ہوتی تھی۔اس لیے بھوپال این آر آئی ویلفیئر فورم نے اپنی روایات کو زندہ رکھا ہے۔

اب ایوارڈز دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔ کاروانِ بھوپال ایوارڈ2017مہمان خصوصی ڈاکٹر حفظ الرحمن اعظمی کو تعلیمی میدان میں نمایاں خدمات پر دیا گیا۔ کیف بھوپالی ادبی ایوارڈ 2017 ادب میں نمایاں خدمات پر اقبال احمد قمر کو دیا گیا۔ بھوپال این آر آئی بیسٹ ایجوکیشن ایوارڈ 2017ڈاکٹر صدیق احمد کو دیا گیا۔لائف اچیومنٹ ایوارڈ ایوارڈ 2017فٹ بال میں نمایاں خدمات پر ڈاکٹر عبدالسلام کنعیان کو دیا گیا۔

اب سامعین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ سامعین شعرا کو سننے کے لیے بے تاب تھے۔ جب پاپولر میرٹھی ، ماجد دیوبندی اور منظر بھوپالی شہہ نشین پر موجو د ہوں تو سامعین کی بے قراری سمجھ میں آتی ہے۔ پرُجوش تالیوں کی گونج میں شعر ی نشست کا آغاز ہوا۔ شعرا بھی سامعین سے ہمکلام ہونے کے لیے بے تاب تھے۔ شعرا نے کلام کا آغاز کیا تو سامعین کے بے قرار چہروں پر خوشی کے آثار نمودار ہوئے۔

شعراء نے اپنی اپنی شعری زنبیل سے اشعار کے موتی نکال کر سامعین پر نچھاور کرنے شروع کیے۔ الفاظ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ پہلے مقامی شعرا نے اپنا کلام سنایا اور مشاعرے کا ماحول بن گیا۔اُس کے بعد خلیجی ممالک سے تشریف لائے ہوئے شعرا نے اپنے فن کا جادو جگانا شروع کیا۔ اب مشاعر ہ عروج پر پہنچ چکا تھا لیکن سامعین کی بے قراری ابھی تک باقی تھی ۔ اب پاپولر میرٹھی ، منظر بھوپالی اور ماجد دیوبند ی نے اپنا کلام سنایا تو سامعین نے دل کھول کر دا د دی۔ جبیل کی فضا میں ایک کامیاب اور یادگار مشاعرے کی کارروائی جاری تھی۔ کاروانِ بھوپال نے ایک اور سنگِ میل عبور کر لیا تھا۔ سامعین نے آخر تک شامل ہو کر مشاعرے کو کامیاب کیا تھا۔اب رات کا تیسرا پہر شروع ہو چکا تھا۔ مشاعرہ اپنی آب و تاب سے جاری تھا۔

رمیض مرزا، سید باقر علیگ، سلیم حسرت، سید شیراز مہدی ضیا، محمد ایوب صابر، سہیل ثاقب، اقبال احمد قمر، اشعرحسن، اقبال طارق، سید اعجاز پاپولر میرٹھی، منظر بھوپالی، ڈاکٹر ماجد دیوبندی اور سیدنعیم حامد الحامد نے اپنا کلام پیش کیا۔ رفعت اقبال فاروقی نے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے انڈیا پاکستان خلیجی ممالک اور مملکت سعودی عرب سے طول و عرض سے تشریف لائے ہوئے شعراء مہمانان اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کاروانِ بھوپال کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوئے ہوں گے اور اگر کوئی کمی رہی تو ہم معذرت خواہ ہیں۔ امید ہے کہ آپ اِسی طرح ہماری راہنمائی کرتے رہیں گے اور مزید معلومات کے لیے ہماری ویب سائٹ اور فیس بک پیج دیکھئیے۔ا س طرح یہ یاد گار مشاعرہ اختتام پذیر ہوا۔ عامر اقبال، ارشد محسن بھوپالی، انجم خان، محمد شاداب خان، شاہد اعظمی، فیصل ظہیر خان، طاہر خان،انتخاب عالم، سید اطہر حسین، سید اشفاق حسین، فیضان ارشد، ایاز عرفان جعفری ، سید فیض علی، فیصل محمد اسلم، عرفان جعفری ، نغمہ صدیقی، طاہرہ رشید، حمیرا صدیقی، شبیہ بابر، صوفیہ ظہیر خان، شہلا اقبال، عفت عرفانہ، مسرت فرید، دیبہ شاہد، عرشیہ عامر، عروج فاطمہ صدیقی ارفع بابر خان اور دوسرے مہمانان کی شرکت نے مشاعرے کو رونق افروز کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *